|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
 |
|
|
|
|
|
Telephone:- 1-514-970-3200 |
Email:-ceditor@inbox.com |
|
|
   |
|
تاریخ اشاعت:۔23-08-2010 |
|
اخلاقی اعتبار سے ہمارا معاشرہ مرکھپ چکا ہے |
|
چیف جسٹس آف پاکستان نے سیالکوٹ میں دو بے گناہ بھائیوں کے بہیمانہ
قتل کے بارے میں کیس کی سماعت کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں کی گرفتاری
کا حکم دیتے ہوئے سوال کیا ہے کہ کیا مہذب معاشروں میں ایسے واقعات
ہوتے ہیں؟ اور اس واقعے کے بعد پاکستان کے بارے میں دنیا میں کیا
پیغام گیا؟ انہوں نے کہا کہ لوگ بھوکے تو مر رہے تھے' اب یہ حال
ہوگیا ہے کہ لوگوں کو سڑکوں پر ڈنڈے مار مار کر ہلاک کیا جارہا ہے۔
چیف جسٹس نے جو سوال سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سے پوچھا ہے کہ کیا مہذب
معاشروں میں ایسا ہی ہوتا ہے' اس کا جواب ہم دیں گے اور جواب یہ ہے
کہ جناب چیف جسٹس مہذب معاشروں میں ایسا نہیں ہوتا۔ یہ درندوں کے
معاشروں میں ہوتا ہے اور ہم فی الواقع انسانوں کا نہیں درندوں کا
معاشرہ بن چکے ہیں' اخلاقیات' ادب آداب' اقدار جیسی چیزیں ہمارے ہاں
سے بہت پہلے نکل چکی ہیں۔
ہمارے اس معاشرے میں عورتوں کو ننگا کرکے گائوں بھر میں دوڑایا جاتا
ہے اور پھر ان کی اجتماعی آبروریزی کی جاتی ہے۔ پورا گائوں کھلی
آنکھوں سے یہ درندگی دیکھتا ہے لیکن جس طرح جنگل میں جب شیر کمزور
جانورکی چیر پھاڑ کر رہا ہو تو دیگر جانور سوائے دیکھنے کے مداخلت
نہیں کرتے اسی طرح گائوں کے لوگ بھی صرف یہ منظر دیکھتے ہیں اس سے
زیادہ کچھ نہیں کرتے۔
چیف جسٹس صاحب! اس معاشرے میں لوگ اپنی دشمنی نکالنے کے لئے ایک اچھے
بھلے شریف مسلمان پر قرآن کی بے حرمتی کا لیبل لگا کر اس پر اینٹیں
برسانا شروع کر دیتے ہیں اور ان گنت لوگ حقیقت جانے بغیر اس قتل ناحق
میں شریک ہو جاتے ہیں۔ ہم وہ معاشرہ ہیں کہ جہاں تھانوں میں عورتوں
کو الٹا لٹکا کر ان کی چھترول کی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں سے صحیح و سالم
بندہ اچانک غائب ہو جاتا ہے اور پھر پتہ نہیں چلتا کہ اسے زمین نگل
گئی یا آسمان کھا گیا۔
ہم وہ معاشرہ ہیں کہ جس میں قاضی القضاہ (چیف جسٹس) برسرشاہراہ بالوں
سے پکڑ کر گھسیٹا جاتا ہے۔ دیانتدار ججوں کو گھروں سے نکال کر سڑکوں
پر لا کے کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ برسہا برس تک بزرگوں کو زنجیروں میں
باندھ کے رکھا جاتا ہے۔ جائیدار ہتھیانے کے لئے ایک صحیح الدماغ شخص
کو پاگل کے روپ میں پیش کرکے پاگل خانے میں داخل کرا دیا جاتا ہے۔
ہمیں گندگی ملا پانی پلایا جاتا ہے۔
ہسپتالوں میں چلے جائیں تو آلودہ اوزاروں سے آپریشن کر دیا جاتا ہے۔
ہمارے ہاں معمولی رقم کے عوض غریبوں کے گردے نکال کر عرب شیوخوں کو
لگا دئیے جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں عورتیں بکتی ہیں' بچیاں بکتی ہیں' ضمیر
بکتے ہیں اور سرعام سودے ہوتے ہیں۔ دنیا کا بڑے سے بڑا غیر قانونی
کام کرانا ہو' پیسے کی طاقت سے کرا لیا جاتا ہے۔ پیسے کے زور پر مجرم
کو بے گناہ اور بے گناہ کو مجرم بنا دیا جاتا ہے۔ پاسپورٹ آفس' تھانہ
کچہری' پٹوار خانہ' سینکڑوں کی تعداد میں سرکاری دفاتر' سرکاری
ہسپتال' ہر جگہ رشوت چلتی ہے' سارا نظام بدعنوانی کی بنیادوں پر قائم
ہے اور چلتا جارہا ہے تھانیدار تو بڑی چیز ہے۔ یہاں تو ایک پولیس
اہلکار بھی اتنا منہ زور ہے کہ جو چاہے کر سکتا ہے۔
چیف جسٹس صاحب! یہاں قانون کی بولیاں لگتی ہیں' شہر کے جس تھانے میں
رشوت کا روپیہ زیادہ آتا ہو اس کی بولی بھی اونچی ہوتی ہے۔ کسی بھی
منسٹری میں چلے جائیں' چپڑاسی سے لے کر کلرک تک کی مٹھی گرم نہیں
کریں گے تو وہ آپ کو ایسی بھول بھلیوں میں ڈال دیں گے کہ ساری عمر
گھومتے رہیں ان سے نکل نہیں پائیں گے۔ چیف جسٹس صاحب ہم وہ معاشرہ
ہیں کہ جو ہم پر احسان کرتا ہے ہم اسے نشان عبرت بنا دیتے ہیں۔
قائداعظم نے ہمیں پاکستان بنا کر دیا اور ساتھ ہی جینے کے کچھ قواعد
بھی سکھائے۔ ہم نے قائداعظم کے دئیے ہوئے قواعد کی دھجیاں اڑا کر رکھ
دیں۔ ڈاکٹر قدیر خان نے ہمیں ایٹم بم بنا کر دیا تو ہم نے ڈاکٹر قدیر
خان پر زندگی کا دائرہ تنگ کر دیا۔ ہم نے قائداعظم کی بہن محترمہ
فاطمہ جناح کو ذہنی اذیتیں دے دے کر اس دنیا سے رخصت کیا۔ افغانستان
کے طالبان ہمارے بے تنخواہ سپاہی تھے۔ ہم نے اپنی جان بچانے کے لئے
انہیں امریکہ کے سامنے چارے کے طور پر پیش کر دیا اور امریکہ نے ان
کے خون کی ندیاں اور گوشت کے چیتھڑے اڑا کر رکھ دئیے۔ ہم نے کشمیریوں
کو آزادی دلانے کا وعدہ کیا۔ بڑے بڑے عہد و پیمان ہوئے لیکن ایک ایسے
موقع پر ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا جب انہوں نے بھارتی فوج کے
حوصلوں کو بڑی حد تک توڑ کر آزادی کی جانب پیش رفت شروع کر دی تھی۔
ہم مرچوں میں لکڑی کا برادہ ملاتے ہیں۔ دودھ میں بال صفا پائوڈر شامل
کرتے ہیں۔ مرغیوں کی افزائش سور کے گوشت اور چربی پر کرتے ہیں اور
پھر وہ مرغیاں بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ ہمارے اپنے ہاں کا شہد دو نمبر'
انجن میں ڈالا جانے والا آئل دو نمبر' دوائیں دو نمبر' سرنجیں دو
نمبر' ہمارا میٹر ریڈر ایک مخصوص رقم وصول کرتا ہے اور پھر اس معمولی
سی رقم کے بدلے میں چار چار اے سی چلتے ہیں۔ من حیث القوم ہم چور بھی
ہیں' ڈاکو بھی ' لٹیرے بھی' راہزن بھی' ٹھگی' جھوٹ' فراڈ' دھوکہ دہی
ہماری سرشت میں شامل ہے۔ لالچ اتنا ہے کہ بہنوں کا حصہ کھانے کے لئے
ان کی شادیاں قرآن سے کر دیتے ہیں' یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں'
بیوائوں کا مال کھا جاتے ہیں' سود' رشوت اور حرام کی ہر کمائی کو
جائز سمجھتے ہیں۔ لوگوں کا حق مارتے ہیں اور پھر اپنے مال سے مسجدیں
بھی بنواتے ہیں۔ حرام کی کمائی سے حج بھی کر آتے ہیں اور عمرے بھی۔
اعمال کی گندگی سے لتھڑے ہوئے وجود لے کر خانہ خدا اور روضہ رسولۖ
پہنچ جاتے ہیں۔ زبان پر اللہ اور اس کے رسولۖ کی تکرار ہوتی ہے اور
عمل کافروں سے بھی بدتر' رمضان میں جبکہ شیطان قید ہوتا ہے' ہم چیزوں
کے دام دوگنا کر دیتے ہیں ملاوٹ میں اضافہ کر دیتے ہیں۔
اور ہمارا ماضی کیا ہے؟
ہم نے اقتدار کے لالچ میں کربلا کی تپتی ریت پر رسولۖ خدا کے نواسے
اور ان کے خاندان کے درجنوں دوسرے لوگوں کو شہید کر دیا۔ ہمارے ہی
ایک ہم مذہب شہنشاہ باپ نے اقتدار کے لئے بیٹے کی آنکھیں نکلوا کر
اسے اندھا کر دیا۔ ہمارے ہی ایک خلیفہ سلیمان نے فاتح سندھ محمد بن
قاسم کو اس وقت دمشق بلا کر اسے پھانسی پر چڑھا دیا جب وہ ملتان تک
کے علاقے میں اسلام کا جھنڈا لہرا چکا تھا۔ ہم نے علامہ اقبال کے
آفاقی کلام کا کیا حشر کیا؟ ہم نے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے بے مثل
افکار کے ساتھ کیا کیا۔ ہم نے کبھی مولانا عبیداللہ سندھی کے افکار
کو سمجھنے کی کوشش نہ کی۔ ہم نے قائداعظم کے نواسوں اور پڑنواسوں کو
مڑ کر نہ دیکھا کہ وہ کس حال میں ہیں اور جب دیکھا تو وہ بے چارے
نہایت ذلت آمیز زندگی گزار رہے تھے۔
ہم نے ظالموں' فاسقوں اور فاجروں کو گلیوں اور نالیوں پر ووٹ دئیے
اور یہ نہ دیکھا کہ وہ کس کردار اور کس قماش کے لوگ ہیں؟ ہم نے کسی
بھی ووٹ مانگنے والے کے کردار کو دیانتداری' حب الوطنی اور عوام
دوستی کے پیمانے پر نہ پرکھا اور چھوٹے چھوٹے مفادات کے لئے ایسے
لوگوں کو اوپر لے آئے جنہوں نے اپنے مفادات کے لئے ملک کے مفادات مٹی
میں ملا دئیے۔
چیف جسٹس صاحب! یہ معاشرہ ہر حوالے سے دم توڑ چکا ہے۔ اب تو صرف مردے
کی تدفین کرنا باقی رہ گئی ہے۔
|
|
|
|
|
|
|
 |
 |
|
|
 |
|
|
 |
|
|
|
|
|
© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved |
|
Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved
|