اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-970-3200 / 0333-832-3200       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Telephone:- 1-514-970-3200

Email:-ceditor@inbox.com

 

تاریخ اشاعت:۔18-09-2010

امریکہ سے تمام معاملات پر دوٹوک بات چیت کی جائے
 
پاکستان نے امریکہ سے بیس اکتوبر کو واشنگٹن میں شروع ہونے والے سٹرٹیجک مذاکرات کے حوالے سے اپنی حکمت عملی مرتب کرلی ہے اور سیاسی و عسکری قیادت نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ پاکستان ان مذاکرات میں اپنے بنیادی قومی ، سٹرٹیجک مفادات کے تحفظ کو یقینی بنائے گا اور امریکہ سے جلد ڈرون ٹیکنالوجی کی فراہمی اور قبائلی علاقوں میں معاشی ترقی کے زونز کے قیام کے مطالبات دوہرائے جائینگے ۔ اس سلسلے میں ایوان صدر میں سیاسی وعسکری قیادت کا اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں صدر آصف علی زرداری ' وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے شرکت کی۔
اجلاس میں جولائی میں اسلام آباد میں ہونے والے سٹرٹیجک مذاکرات پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ سٹرٹیجک مذاکرات کے عمل کے تحت جامع تعاون کو مختلف شعبوں میں فروغ دیا جائے گا اور پاکستان آئندہ مذاکرات کے دور میں سکیورٹی ، دفاع ، سماجی و معاشی ترقی کے منصوبوں ، بجلی کی پیداوار میں اضافے اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے معاملات پر مزید تعاون پر زور دیگا ۔
پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی ہونے کی وجہ سے قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ ہزاروں پاکستانی اس جنگ کا ایندھن بن چکے بن چکے ہیں۔ اربوں روپے کی املاک تباہ ہوئیں اور ہزاروں افراد معذور ہوئے۔ اس جنگ کی ابتداء سابق آمر پرویز مشرف کے دور سے شروع ہوگئی جس نے اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے امریکہ کی ہاں میں ہاں ملائی اور اپنے ہی لوگوں کا خون کرتا گیا۔ مزید رہی سہی کسر ڈرون حملوں نے نکال دی ہے۔ دنیا کی کوئی بھی قوم اس قدر بے حس نہیں جتنے ہم ہیں۔ جب بھی ڈرون حملہ ہوتا ہے حکومت مذمتی بیان جاری کرکے اپنے فرائض سے فارغ الذمہ ہو جاتی ہے۔ حکومت اور سیاستدانوں کے وہی رٹے رٹائے بیان کہ ہم اپنی خودمختاری کو چیلنج نہیں ہونے دیں گے۔ بھلا ان سے کوئی پوچھئے کہ اس سے زیادہ اور کیا خودمختاری چیلنج ہوگی کہ آئے روز امریکہ ہمارے شہریوں پر حملہ کرکے بے گناہ لوگوں کے خون سے ہاتھ رنگتا ہے۔جس کے جسم کو تکلیف ہوتی ہے پتا اسے ہی لگتا ہے۔ جن لوگوں کے بیوی بچے ان حملوں میں ہلاک اور معذور ہوچکے ہیں و ہی اس کا دکھ درد جانتے ہیں۔
بیس اکتوبر کو ہونے والے سٹرٹیجک مذاکرات میں امریکہ کو واضح کیا جائے کہ وہ ڈرون حملے بند کرے اور ڈرون ٹیکنالوجی پاکستان کو فراہم کرے۔ پاکستان اپنے علاقے میں خود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے گا۔ پاکستان کی بہادر مسلح افواج میں اس قدر جرات ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف خود نبرد آزما ہوسکتی ہے۔ دیکھا جائے تو پاکستان کی اس قدر قربانیوں کے باوجود امریکہ بار بار پاکستان کی سلامتی کو چیلنج کرتا ہے اس کے برعکس امریکہ بھارت کو ہر قسم کے ہتھیاروں سے لیس کر رہا ہے۔ امریکہ نے دوہرا معیار اپناتے ہوئے سول ایٹمی جوہری ٹیکنالوجی کا معاہدہ بھی بھارت سے کیا ہے اور پاکستان کو اس معاملے میں بالکل نظر انداز کر دیا ہے۔ اگر پاکستان اپنے دفاعی معاملات کے پیش نظر چین اور دوسرے ممالک سے سول ایٹمی جوہری معاہدہ کرنا چاہتا ہے تو اس میں بھی امریکہ آڑے آجاتا ہے۔ یہ امریکہ کی کھلم کھلا منافقت نہیں تو اور کیا ہے۔
دیکھا جائے تو یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ اگر امریکہ اس خطے میں نہ آتا تو آج ہم معاشی اور سیاسی طور پر ایک مضبو ظ ملک اور قوم بن چکے ہوتے لیکن امریکہ نے ہمیں صدیوں پیچھے دھکیل دیا ہے۔ امریکہ کی مفاداتی جنگ کا حصہ بن کر ہم نہ صرف معاشی بلکہ سیاسی اور سماجی سطح پر بھی زوال کا شکار ہوچکے ہیں۔ مگر حیرت ہے کہ ہماری حکومت اب بھی اس جنگ سے کنارہ کشی اختیار کرنے کیلئے تیار نہیں اور ستم یہ کہ امریکہ اور عالمی برادری سے کہا جارہا ہے کہ پاکستان کی امداد کی جائے۔ امداد کی بجائے ہمیں امریکہ سے کہنا چاہیے کہ ہمیں امداد نہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور امریکہ کی وجہ سے جو نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ چاہیے۔ اس امداد کے لفظ نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑاہے ۔ اب پوری جرات کے ساتھ مطالبہ کیا جائے کہ ہمارا نقصان پورا کیا جائے اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو ہم اس بات پر غور کریں گے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا حصہ رہ سکتے ہیں یا نہیں؟ اس وقت ہماری پوزیشن مضبوط ہے اور ہم اپنے مطالبات منواسکتے ہیں لیکن اس کیلئے جرات مندانہ موقف اپنانے کی ضرورت ہے۔ جس طرح نیٹو کی سپلائی بند کرکے ایک پیغام دیا گیا اور امریکہ کو مجبور ہوکر معافی مانگنی پڑی۔ اسی طرح ہم عالمی برادری کو یہ باور کرا سکتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ نقصان پاکستان کا ہوا ہے اور پاکستان یہ نقصان اکیلا برداشت نہیں کرسکتا۔ پہلے مرحلے میں پاکستان کے غیر ملکی قرضے معاف کیے جائیں اور پاکستانی معیشت کو سہارا دینے کیلئے بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی فراہم کی جائے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ نہ صرف سول قیادت بلکہ فوجی قیادت اس موقع سے پورا فائدہ اٹھا کر امریکہ اور عالمی برادری سے مطالبات منوانے کیلئے جرات مندانہ اور دو ٹوک موقف اپنائے گی۔ امریکہ یہ جنگ پاکستان کے بغیر ہرگز نہیں جیت سکتا امریکہ پر واضح کیا جائے کہ اگر دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنی ہے تو اسے پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط کرنا ہوگا۔ حکمران جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے فیصلے کریں کہ جس سے ملک و قوم کا وقار بلند ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان معاشی بھنور سے نکل سکے۔ اس حوالے سے نہ صرف حکومت بلکہ تمام سیاسی جماعتیںبھی اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے متفقہ موقف اپنا کر حکومت کے ہاتھ مضبوط کریں۔
 
 

Email to:-

 
 
 
 
 
 

© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved

Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved