اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-970-3200 / 0333-832-3200       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Telephone:- 1-514-970-3200

Email:-ceditor@inbox.com

 

تاریخ اشاعت:۔18-09-2010

وزیر خارجہ کا امریکہ سے مطالبات منوانے کا عزم اور زمینی حقائق
 
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ سٹرٹیجک مذاکرات کا تیسرا دور انتہائی مفید اور نتیجہ خیز رہا ہے جس میں دہشت گردی' معیشت' توانائی' واٹر اینڈ پاور' میڈیا' زراعت' تعلیم اور صحت سمیت 16 بڑے شعبوں میں باہمی تعاون پر اتفاق کیا گیا' امریکہ نے پاکستان کو معاشی شعبہ میں اصلاحات کی غرض سے تعاون کیلئے ساڑھے سات ارب ڈالر کا اکنامک اسسٹنٹس پیکیج فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے جو قرض نہیں بلکہ گرانٹ ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل ہم امریکہ کے نقطہ نظر کو تسلیم کر رہے تھے مگر اب ہم اپنے نقطہ نظر کو بھی منوا رہے ہیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکہ نے روز اول سے پاکستان کے ساتھ دوستی کے نام پر جو رویہ اختیار کیا ہے اس روئیے کو دوستی کا نام دینا بالکل بھی مناسب نہیں۔ ہاں البتہ اسے مفادات کا کھیل کہہ سکتے ہیں۔ دوملکوں کے درمیان تعلقات اس بنیاد پر ہوتے ہیں کہ دونوں ممالک آپس میں ایک دوسرے کے مفادات کا خیال رکھیں گے لیکن یہاں تو معاملہ اس کے بالکل برعکس رہا ہے ہم دوستی کے نام پر اس حد تک آگے گئے کہ جہاں سے واپسی کا مرحلہ انتہائی مشکل ہے اور امریکہ نے اس بات کا پورا خیال رکھا کہ کم از کم قیمت پر صرف اپنے مفادات حاصل کئے جائیں اور بدقسمتی سے ہمارے ہر دور کے حکمرانوں نے اپنی نبض عوام کے ہاتھ میں دینے کی بجائے امریکہ کے حوالے کر دی ۔ امریکہ نے جیسے چاہا ہمارے حکمرانوں کو روبورٹ کی طرح کام لیا اور جب مقاصد پورے ہوئے تو اسے ناکارہ بنا کر نیا روبورٹ تلاش کیا' یہ سلسلہ اب تک چل رہا ہے بظاہر تو حکمران بھی یہ تاثر دے رہے ہیں کہ امریکہ سے ہم مفادات لے رہے ہیں لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ امریکہ اگر دس فیصد مفادات یا مالی امداد ہمیں دیتا ہے تو اس کے بدلے سو فیصد ہم سے لے رہا ہوتا ہے۔
پاکستان کے حوالے سے ہمیشہ واشنگٹن نے پینٹاگان کی پالیسیوں پر عمل کیا ہے اور پینٹاگان نے صرف ڈکٹیٹروں کو پروان چڑھا کر اپنے مفادات حاصل کیے ہیں جبکہ واشنگٹن کی سول انتظامیہ نے بھی بظاہر جمہوریت کا نعرہ لگایا لیکن عملی طور پر اس کی پالیسیاں پینٹاگان کے تابع رہیں۔
امریکی منافقت اب تو پوری طرح سے عیاں ہوچکی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تمام تر تعاون اسے پاکستان کا حاصل ہے لیکن فوائد وہ بھارت کو پہنچا رہا ہے۔ افغانستان کی سرزمین پر اس نے جو کردار بھارت کو سونپا ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ پاکستان سے دوستی کے نام پر دشمنی کی تمام حدود پھلانگ رہا ہے۔ سول ایٹمی ٹیکنالوجی کا معاہدہ اس نے بھارت سے کر رکھا ہے اور جب پاکستان کی باری آتی ہے تو صاف مکر جاتا ہے بلکہ پاکستان اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے کسی اور ملک سے معاہدہ کرنا چاہے تو اس میںبھی رکاوٹیں کھڑی کر دیتا ہے ستم یہ کہ امریکہ ان تمام تر زیادتیوں کے باوجود بھی اس بات پر مصر ہے کہ وہ پاکستان کا دوست ہے اگر یہ دوستی ہے تو پھر دشمنی کو کیا نام دیا جاسکتا ہے؟
امریکہ کونوشتہ دیوار پڑھ کر پاکستان کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے قربانیوں کا صلہ دینا ہوگا اگر اب بھی یہ سمجھتا ہے کہ ماضی کی طرح زبانی دعوئوں اور دوستی کے نعروں سے کام چلایا جاسکتا ہے تو یہ اس کی خوش فہمی ہوگی پاکستان کے عوام اب باشعور ہوچکے ہیں وہ امریکہ کی تمام چالوں سے آگاہی حاصل کر چکے ہیں حکمرانوں کوبھی اب اس بات کی اجازت ہرگز نہیں دے سکتے کہ وہ یکطرفہ دوستی کے رشتے کو برقرار رکھیں ۔ اگر امریکہ واقعی پاکستان سے دوستی چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ اپنی ماضی کی منافقانہ پالیسیوں کو تبدیل کرتے ہوئے وہ اقدامات کر ے جس سے یہ ظاہر ہو کہ امریکہ کو پاکستان کی عوام سے ہمدردی ہے اور جہاں تک امریکی امداد کی بات ہے تو اسے امداد کہنے والوں سے کہنا چاہیں گے کہ امداد کا نام استعمال کرکے پاکستان کی توہین نہ کی جائے بلکہ اس کے بجائے امریکہ اور عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا جائے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شامل ہونے سے پاکستان کا جو بھاری نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ کریں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ نائن الیون کے بعد ہمارا جو نقصان ہوا ہے اس کا عشر عیشر بھی ہمیں نہیں ملا بلکہ امریکہ امداد کے نام پر پاکستانی عوام کی توہین کر رہا ہے۔ یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان کی پوزیشن اس وقت اہم اس لئے ہے کہ امریکہ پاکستان کی مدد کے بغیر اس خطے میں کوئی بھی جنگ نہیں جیت سکتا تو پھر کیوں امریکہ سے اپنے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کروانے کی بجائے امداد کی بھیک مانگ کر عوام کی توہین کی جارہی ہے۔ ہماری حکمرانوں سے گزارش ہے کہ خدا راہ بہت ہوچکا ہے اب یہ سلسلہ ختم کیا جائے اور امریکہ سے امداد کی بھیک مانگنے کی بجائے اسے کہا جائے کہ دہشت گردی جنگ میں ہونے والے نقصان کو پورا کیا جائے اور پاکستان کی معاشی بربادی اور سلامتی کی قیمت پر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ کر امریکی مفادات کی نگہبانی کا سلسلہ ترک کر دیا جائے۔ اگر امریکہ کہتا ہے کہ لڑو تو اسے کہا جائے کہ پہلے نقصانات پورے کرے' پاکستان کی اہمیت کو تسلیم۔ ڈورن حملے بند' سول ایٹمی ٹیکنالوجی کا معاہدہ' افغانستان سے بھارت کے کردار کا خاتمہ' خطے میں بھارت کو تھانیدار بنانے کی پالیسی ختم ' ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو رہا' پاکستان کی توانائی کی ضروریات' تعلیم' صحت اور سماجی شعبوں میں تعاون' عالمی منڈیوں تک تجارتی رسائی اور پاکستان کی خودمختاری و سلامتی کو چیلنج کرنے کا سلسلہ ترک کر دیا جائے۔ ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ اگر جرات مندانہ انداز میں امریکہ سے یہ باتیں کی جائیں تو وہ انہیں تسلیم کرے گا اگر وہ اس پہ تیار نہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ دوستی کے نام پر ہماری تباہی کی قیمت پر دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنا چاہتا ہے اور یہ سودا ہمیں ہرگز منظور نہیں۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا یہ کہنا کہ امریکہ کی پہلے ہم مانتے تھے اب منواتے ہیں' اگر یہ سچ ہے اور یہ معجزہ رونما ہو چکا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ امریکہ نے ہمارے مطالبات تسلیم کرلئے ہیں اور عنقریب پاکستان کے ساتھ سول ایٹمی ٹیکنالوجی کا معاہدہ ہوگا' ڈاکٹر عافیہ صدیقی رہا ہوںگی' ڈرون حملوں کا سلسلہ بند ہوگا' دہشت گردی کی جنگ میں ہونے والے پاکستان کے نقصان کو پورا کیا جائے گا' افغانستان سے بھارت کے منفی کردار کا خاتمہ ہوگا' پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں ہوگی' امریکہ بھارت کی بجائے خطے میں پاکستان کو اہمیت دے گا' دہشت گردی کے خلاف ہماری قربانیوں کا اعتراف کرکے آئندہ ہمارے اوپر انگلی نہیں اٹھائے گا' اگر یہ تمام اقدامات ہوتے ہیں تو عوام تسلیم کریں گے کہ وزیر خارجہ نے سچ کہا کہ اب امریکہ سے بات منواتے ہیں 'اگر ایسا نہیں ہوتا تو یہ صرف زبانی کلامی عوام کو بے وقوف بنانے والے دعوے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ماضی کی طرح پاکستان کو پینٹاگان کی پالیسیوں کی نظر سے دیکھنے کی بجائے اب واشنگٹن آزادانہ فیصلے کرتے ہوئے پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کرے گا۔
 
 

Email to:-

 
 
 
 
 
 

© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved

Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved