|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
 |
|
|
|
|
|
Telephone:- 1-514-970-3200 |
Email:-ceditor@inbox.com |
|
|
   |
|
تاریخ اشاعت:۔23-11-2010 |
دہشت گردی میں بیرونی ہاتھ کے ملوث نہ ہونے کی درفنطنی
|
|
رحمان ملک کو
بھارت کیلئے کلین چِٹ کا اختیار کس نے دیا ہے؟
وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ ملک میں لشکر جھنگوی‘
طالبان اور القاعدہ کا گٹھ جوڑ ہے‘ ملک میں ہونیوالی دہشت گردی میں
بیرونی ہاتھ نہیں‘ اپنے ہی لوگ ملوث ہیں‘ کیونکہ جو بھی بم دھماکے
میں پکڑا گیا‘ وہ پاکستانی ہی نکلا۔ گزشتہ روز کراچی ایئرپورٹ پر
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب اپنا گھر ہی ٹھیک نہ ہو
تو بھارت سمیت کسی دوسرے ملک پر الزام تراشی درست نہیں۔ انہوں نے
دعویٰ کیا کہ سی آئی ڈی سنٹر کراچی میں ہونیوالے دھماکے میں کالعدم
لشکر جھنگوی ملوث ہے‘ ہم نے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ پر قابو پالیا ہے‘
وہاں فوج بلانے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو
وارننگ دی کہ کراچی میں قتل کے ہر واقعہ کو ٹارگٹ کلنگ کا ایشو نہ
بنایا جائے‘ پہلے خبر کی تصدیق کرلی جائے ورنہ یہ مطالبہ بھی کیا جا
سکتا ہے کہ غلط سوال کرنیوالے صحافی کو فوج کے حوالے کیا جائے۔
رحمان ملک کا یہ بیان ’’آبیل مجھے مار‘‘ کے مترادف ہے‘ جس کے تحت
انہوں نے پاکستان کی سالمیت کے درپے اسکے ازلی اور موذی دشمن بھارت
کو ہی کلین چٹ نہیں دی‘ اسکی جانب سے ڈالا جانیوالا دہشت گردی کا
سارا ملبہ بھی قبول کرلیا ہے اور ساتھ ہی دہشت گردی کے خاتمہ کی آڑ
میں امریکہ‘ بھارت‘ اسرائیل پر مشتمل شیطانی اتحاد ثلاثہ کو پاکستان
کی سالمیت پر حملہ آور ہونے کا جواز بھی فراہم کردیا ہے۔ امریکہ ڈرون
حملوں کا دائرہ کوئٹہ تک بڑھانے کا تقاضہ کررہا تھا۔ وفاقی وزیر
داخلہ نے کالعدم لشکر جھنگوی کو سی آئی ڈی سنٹر کراچی کے دھماکے میں
ملوث کرکے ڈرون حملوں کا رخ پنجاب کی جانب کرنے کیلئے بھی گرین سگنل
دیدیا ہے۔ امریکہ اور بھارت تو پہلے ہی پاکستان کو اپنی کروسیڈ کا
براہ راست نشانہ بنانے کیلئے موقع کی تاک میں بیٹھے تھے۔ وفاقی وزیر
داخلہ نے خود ہی ان کا کام آسان کردیا ہے۔ یہ نادانستگی ہے، حماقت ہے
یا گھنائونی سازش؟ کیا رحمان ملک صاحب جیسے ’’لنکا ڈھانے‘‘ والے
نادان وزیروں کی موجودگی میں ہمیں اپنی تباہی کیلئے کسی دشمن کی
ضرورت پڑ سکتی ہے؟
رحمان ملک کے اس ’’اقبال جرم‘‘ کے بعد بھارت کے حوصلے مزید بلند کیوں
نہیں ہوں گے اور وہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کو مبینہ دہشتگردی کے
خاتمہ کے ساتھ کیوں مشروط نہیں کریگا اور اب وہ مسئلہ کشمیر کے حل
کیلئے کیوں ہمارے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھے گا، گھر کی خبر دینے
والے وفاقی وزیر داخلہ نے مکار ہندو بنیاء کے غبارے میں ہوا ہی اتنی
بھر دی ہے کہ وہ ہمارے ساتھ دوستی کے بجائے اب ہمیں کھانے کو دوڑیگا۔
چنانچہ جو بھارتی وزیراعظم تھمپو سارک سربراہی کانفرنس کے موقع پر
وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کے دوران کشمیر سمیت
ہر ایشو پر پاکستان سے مذاکرات پر آمادہ ہوگئے تھے، وہ آج رحمان ملک
کی درفنطنی کے نتیجہ میں خود کو عالمی طاقت سمجھ بیٹھے ہیں اور ہمیں
باور کرا رہے ہیں کہ ’’یہ نہیں ہوسکتا‘‘ پاکستان سے مذاکرات بھی جاری
رہیں اور دہشتگردی کی مشین بھی حد درجے کو پہنچ جائے۔ گویا انہوں نے
پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ پھر سے بند کرنے کا عندیہ دیدیا
ہے اور رحمان ملک کے اقبالی بیان کی روشنی میں تقاضہ شروع کردیا ہے
کہ پاکستان دہشتگردی کا بھارت میں داخلہ روکے۔ اسی طرح اب امریکہ بھی
دہشتگردی کا ہر منبع پاکستان میں تلاش کرنے کی کوشش کریگا۔ اسکی جانب
سے پہلے ہی نیویارک سکوائر کے ناکام حملے کی کڑیاں پاکستان کے قبائلی
علاقوں سے ملانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ گئی تھی۔ اب وہ 2014ء تک
افغانستان سے نکلنے کا وعدہ پاکستان میں گھس کر پورا کرسکتا ہے۔
پاکستان کی سلامتی کیلئے پیدا ہونیوالی اس خوفناک اور تشویشناک
صورتحال کا ذمہ دار کس کو ٹھہرایا جائے…ع
اے باد صبا، ایں ہمہ آوردۂ تست
مقام حیرت ہے کہ جو رحمان ملک کل تک خود بلوچستان اور کراچی کے
دہشتگردی کے واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کا الزام عائد کررہے تھے
اور اس بارے میں ٹھوس شواہد کی موجودگی کی بھی تصدیق کررہے تھے، وہ
آج بھارت کو ہر معاملہ میں بری الذمہ قرار دے رہے ہیں۔ کیا بھارتی
ایجنسی ’’را‘‘ کے تربیت یافتہ دہشت گردوں کی ہماری سرزمین پر
کارستانیوں کے ٹھوس ثبوت اور شواہد ہماری ایجنسیوں سے کہیں گم ہو گئے
ہیں جبکہ یہ ثبوت اور شواہد تو ان مقدمات میں ہماری عدالتوں کے
ریکارڈ میں بھی موجود ہیں جن کے تحت کشمیر سنگھ اور سربجیت سنگھ جیسے
بھارتی دہشت گردوں کو سزائے موت ملی اور پاکستان بھارت دوستی کے جذبے
کی بنیاد پر انکی سزائے موت ختم کراکے انہیں باعزت بھارت واپس بھجوا
دیا گیا۔
گزشتہ روز نواب اکبر بگتی مرحوم کے صاحبزادے اور جمہوری وطن پارٹی کے
رہنماء نواب طلال بگتی نے بھی ایک اخباری انٹرویو میں ٹھوس ثبوتوں
اور شواہد کی بنیاد پر باور کرایا ہے کہ بھارت کے پیدا کردہ طالبان
افغانستان کے ذریعے پنجاب میں دہشت گردی کر رہے ہیں‘ انہوں نے تو یہ
الزام بھی عائد کیا ہے کہ 14 سالہ خودکش حملہ آور بھارت ہی تیار کرکے
ہماری سرزمین میں بھجواتا ہے جبکہ اس امر کے ثبوت تو ہماری ایجنسیوں
کے پاس موجود ہیں کہ بلوچستان میں علیحدگی پسند عناصر کی بھارت ہی
سرپرستی کر رہا ہے اور وہاں پنجابیوں کی ہونیوالی ٹارگٹ کلنگ میں بھی
بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کا ہاتھ ہے۔ اسکی تصدیق سابق آرمی چیف جنرل
اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمیدگل بھی کر رہے ہیں
جن کے بقول پاکستان کے مختلف علاقوں بالخصوص بلوچستان میں ہونیوالی
دہشت گردی میں بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے کے ثبوت خود وزیر داخلہ کے
پاس موجود ہیں۔
اس تناظر میں یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخر وزیر داخلہ کو مبینہ
دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کو ایک نئی مصیبت میں پھنسانے کی کیوں
سوجھی ہے‘ جبکہ اسلام دشمن طاغوتی طاقتیں ایٹمی طاقت کے حامل پاکستان
کو پہلے ہی برداشت نہیں کر رہیںاور اسکی ایٹمی صلاحیتوں کو ناکارہ
بنانے اور اسکی سالمیت کو کمزور کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں اس لئے
اس معاملہ کو رحمان ملک کی غیرسنجیدگی کے کھاتے میں ڈال کر نظرانداز
نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ اس کا پوری سنجیدگی کے ساتھ سخت نوٹس لینے
کی ضرورت ہے اور یہ نوٹس خود صدر مملکت اور وزیراعظم کو لینا چاہیے۔
کیا ضروری ہے کہ ملک کی رسوائی‘ جگ ہنسائی اور ہزیمتوں میں اضافہ کا
باعث بننے والے رحمان ملک جیسے غیر ذمہ دار وزیروں کو کابینہ میں
شامل رکھا جائے؟ اگر دہشت گردی میں بیرونی ہاتھ کے ملوث نہ ہونے کی
سوچ رحمان ملک کی ذاتی سوچ ہے تو انہیں کابینہ سے فی الفور فارغ
کردیا جائے اور اگر یہ حکومت کی اجتماعی سوچ ہے تو پھر عوام کو بھی
قومی مفادات کو بٹہ لگانے والے ایسے حکمرانوں سے خلاصی پانے کا حق
حاصل ہے۔
حج سکینڈل پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے
وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اعظم خان سواتی نے کہا ہے کہ ہزاروں
حاجیوں کو لوٹنے اور ناقص انتظامات کے ذمہ دار وفاقی وزیر مذہبی امور
ہیں انہیں سزا دی جائے جبکہ حامد سعید کاظمی کا کہنا ہے کہ الزامات
بے بنیاد ہیں کچھ وزراء میری وزارت کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔
حجاج کرام گنبد خضرا اور بیت اللہ کے دیدار سے آنکھوں کو ٹھنڈک اور
دلوں کو سکون پہنچا کر مرحلہ وار واپس آ رہے ہیں۔ رسول اللہؐ کے
فرمان کیمطابق وہ آج معصوم بچے کی طرح گناہوں سے پاک ہو کر گھروں کو
پہنچ رہے ہیں۔ اس مقدس سفر کے دوران انہوں نے کن کن مشکلات کو عبور
کیا،کتنے ہاتھوں میں وہ بکے؟ کس کس نے انہیں راہزن بن کر لوٹا؟ منیٰ
میں وہ کیسے رہے؟ بڑھاپے کی حالت میں وہ بیت اللہ تک کس طرح ہر روز
پیدل چل کر آتے تھے؟ یہ کہانیاں تو وہ اب خود سنائیں گے لیکن افسوس
صد افسوس ان لوگوں کی ذہنی سوچ پر جنہوں نے اللہ کے مہمانوں کو لوٹا،
سعودی عرب میں پاکستانی سفیر عمر علی شیرزئی کیمطابق 25 ہزار روپے فی
حاجی کمیشن کھایا گیا۔ یہ کمیشن کھانے والے کون بدبخت ہیں؟ 4 ماہ قبل
قومی اسمبلی اور سینیٹ کی کمیٹیوں کے ارکان سعودیہ گئے‘ انہوں نے
کرپشن کے شواہد لا کر وزیراعظم کو پیش کئے۔ آخر گیلانی صاحب نے اس
کا نوٹس کیوں نہ لیا؟ آخر اتنی آزادی کیوں دی گئی؟ ڈی جی حج کی
سرپرستی کرنیوالے لوگ کون ہیں؟ صاحب جبہ و دستار نے اپنی بدنامی کو
چھپانے کیلئے سعودی عرب سے ہر جانہ وصول کرنے کی باتیں کیں‘ ہم کتنے
احسان فراموش ہیں؟ وہ سعودی عرب جس نے ایک عرصہ دراز تک ہمیں مفت تیل
فراہم کیا، زلزلہ اور سیلاب زدگان کی مدد کیلئے اپنے خزانے کے منہ
کھول دیئے لیکن کاظمی صاحب ان مراسم کو خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں
ایسی الزام تراشی سوچ سے بالاتر ہے۔ حج معاملات میں کرپشن ہوئی حجاج
کو پریشان بھی کیا گیا‘ انتظامات بھی ناقص تھے‘ پی آئی اے نے بھی
ٹکٹیں مہنگی کیں‘ ان تمام معاملات پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے جو
ہر ایک چیز کا جائزہ لیکر انکوائری کرے اور اس میں ملوث تمام کرداروں
کو عوام کے سامنے لائے جو شخص ملوث پایا جائے اس کو عبرت ناک سزا دی
جائے تاکہ آئندہ کوئی ایسی حرکت نہ کر سکے۔
بجلی کی کمی دور کرنے کیلئے مستقل حل کی ضرورت
کراچی کو بجلی کی فراہمی کے لئے مختص ترکی سے آمدہ بحری رینٹل پاور
پلانٹ کا افتتاح کر دیا گیا۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر
پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ پاور شپ سے پیدا ہونے والی
232 میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہونے سے کراچی میں بجلی کے بحران پر
قابو پانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام سے بجلی کے
اضافی پیسے نہیں لیں گے۔ بجلی ہو گی تو عوام کو دیں گے، اسے سستا
کریں گے یہ ہمارا وعدہ ہے۔
ترکی ہمارا بہترین دوست اور خیر خواہ ہے۔ اس کی پرائیویٹ کمپنی نے
پاکستانی حکمرانوں کی درخواست پر اپنا بحری پاور پراجیکٹ پاکستان کو
کرائے پر دیدیا۔ ماہرین کے مطابق اس رینٹل پاور پراجیکٹ کا پانچ سالہ
کرایہ 45 ارب 46 کروڑ روپے ہو گا۔ فی یونٹ 18 روپے میں پڑے گا۔ وزیر
پانی و بجلی نے کہا ہے کہ عوام سے اضافی پیسے نہیں لیں گے۔ وزیر پانی
اور بجلی کا یہ اس سے بھی بڑا جھوٹ ہے جو وہ عموماً لوڈشیڈنگ کے
خاتمے کے حوالے سے ڈیڈ لائنیں دے کر بولتے رہے ہیں۔ بحری پاور
پراجیکٹ سے صرف کراچی کو بجلی ملے گی اور پیداوار بھی دو ہفتوں میں
شروع ہونی ہے جبکہ بجلی کی قیمتوں میں یکم نومبر سے 2 فیصد اضافہ
پورے ملک میں کر دیا گیا ہے جون تک ہر ماہ دو فیصد اضافے کا عندیہ
بھی دیا جا رہا ہے۔
حکومت نے جس قدر مہنگے کرائے کے بجلی گھر درآمد کئے ہیں ان سے پیدا
ہونے والی بجلی عام آدمی کی قوتِ خرید سے باہر ہے۔ موجودہ حکمران تو
پہلے ہی بجلی پر دی جانے والی سبسڈی ختم کر چکے ہیں۔ مزید سبسڈی کے
دعوے اور وعدے پُھوکے فائر ہیں ان پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا ہے۔
کرائے کے بجلی گھروں سے وقتی طور پر تو بجلی کی کمی میں کسی حد تک
قابو پایا جا سکتا ہے۔ یہ بجلی کی فراہمی کا مستقل ذریعہ نہیں۔ مستقل
ذرائع پانی اور کوئلہ سے بجلی کا حصول ہے۔ ماہرین کے مطابق پانی سے
صرف 37 پیسے فی یونٹ کی لاگت سے بجلی حاصل کی جا سکتی ہے۔
موجودہ حکومت نے بجلی اور پانی کے حصول کے سب سے بڑے ذریعے کالا باغ
ڈیم پراجیکٹس کو سرے سے بند کر دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ
کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت تعاون کرے تو تھرکول سے دو سال میں 2500
میگا واٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ وزیر بجلی کا کہنا ہے 8 آئی پی
پیز اور رینٹل پاور پلانٹس سے 1800 میگا واٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے
4 آئی پی پیز پاکستان آ کر 800 میگا واٹ بجلی پیدا کریں گی۔ ضرورت تو
آئی پی پیز اور مہنگے رینٹل منصوبوں سے جان چھڑانے کی ہے مزید کو
پاکستان لانے کی نہیں۔ 4 آئی پی پیز پاکستان آ کر پہلے سے موجود آئی
پی پیز کے ساتھ مل کر 2600 میگا واٹ بجلی فراہم کریں گی اتنی ہی بجلی
تھرکول سے مل سکتی ہے۔ کالا باغ ڈیم سے 4 ہزار میگا واٹ پیداوار
متوقع ہے حکومت ان پراجیکٹس پر توجہ دے، یہی بجلی کی پیداوار کے
مستقل اور بہترین قومی مفاد کے منصوبے ہیں۔ |
|
|
|
|
|
|
 |
 |
|
|
 |
|
|
 |
|
|
|
|
|
© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved |
|
Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved
|