اے ٹی ایم سے ڈیٹا چرانے والا چینی شہری گرفتار

کراچی(ویب ڈیسک)بینک کے اے ٹی ایم سے خفیہ ڈیٹا چرانے کے الزام میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ( ایف آئی اے) نے ایک چینی شہری کو حراست میں لے لیا۔

اس شخص پر الزام ہے کہ اس نے ایک نجی بینک کے اے ٹی ایم میں ڈیوائسز کے ذریعے صارفین کے خفیہ ڈیٹا کو چرانے کی کوشش کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بینک انتظامیہ نے اپنے پلازہ برانچ کے اے ٹی ایم کمپائونڈ میں دو غیر ملکیوں کی مشکوک سرگرمیوں کو دیکھنے کے بعد ایف آئی اے سے رابطہ کیا جس کے بعد گرفتاری عمل میں آئی۔

بینک انتظامیہ نے سی سی ٹی وی کیمرے کی ریکارڈنگ دیکھ کر یہ نوٹس کیا کہ دو غیر ملکی افراد معمول سے زیادہ دیر تک اے ٹی ایم کے اندر موجود ہیں جس کے بعد انہیں ان پر شک ہوا۔

ذرائع نے گرفتاری کے بعد ایف آئی اے کے دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ مشکوک سرگرمی 20 جون کو دیکھی گئی تھی، 21 جون کو بینک انتظامیہ اپنے تکنیکی عملے کے ساتھ مذکورہ برانچ کے اے ٹی ایم میں گئی اور ساتھ ہی ایف آئی اے کے سائبر کرائم سیل کو بھی اطلاع کردی۔

سی سی ٹی وی فوٹیج میں ان غیر ملکیوں کو اے ٹیم ایم کے قریب بعض آلات چھپاتے ہوئے بھی دیکھا گیا جس کے بعد انتظامیہ حرکت میں آگئی۔

ذرائع کے مطابق بینک کی ٹیم کو اے ٹیم ایم فیسلٹی سے دو اسکیمنگ ڈیوائسز ملیں، ایک ڈیوائس کارڈ ڈالنے کی جگہ موجود تھا اور دوسرا پن کی پیڈ کے اوپر تھا۔

جب ایف آئی اے کی ٹیم وہاں پہنچی تو انہیں بھی سی سی ٹی وی فوٹیج دکھائی گئی جس کے بعد ایف آئی اے نے ڈیوائسز اور وڈیو اپنی تحویل میں لے لیں تاکہ مزید کارروائی کرسکے۔

بہرحال چند گھنٹے بعد وہی غیر ملکی شخص دوبارہ اسی اے ٹیم ایم پر آیا، شائد وہ اپنی ڈیوائسز واپس لینے آیا ہوگا لیکن اسی اثناء میں ایف آئی اے کی ٹیم نے اسے اپنی حراست میں لے لیا۔

گرفتاری کے بعد ایف آئی اے نے باضابطہ طور پر تحقیقات کا آغاز کردیا اور اس دوران معلوم ہو اکہ اس شخص کا نام شائی یائی ہے اور وہ اپنے دوست شائی رونگ چنگ کے ہمراہ 18 جون کو پاکستان آیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دونوں باتھ آئی لینڈ میں ایک گیسٹ ہائوس میں مقیم تھے، ایف آئی اے کی ٹیم جب اس جگہ گئی اور وہاں کی تلاشی لی تو کچھ برقی آلات، دو اسکیمنگ ڈیوائسز کے علاوہ چینی پاسپورٹ اور چینی بینکوں کے مختلف کارڈز ملے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے نے دوسرے ملزم کو پکڑنے کی بھی کوشش کی اور اس سلسلے میں شہر میں موجود چینی سفارتکاروں سے بھی رابطے کیے تاہم وہ اب تک فرار ہے۔

تحقیقات کے بعد حکام اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ اسکیمنگ ڈیوائسز کے ذریعے بینک کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ زیر حراست شخص تفتیش کاروں کو مطمئن نہ کرسکا اور یہ کہتا رہا کہ اسے ایسی کسی سرگرمی کا علم نہیں وہ تو صرف اپنے ساتھی شائی رونگ چنگ کی ہدایات پر عمل کررہا تھا۔

ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے الیکٹرانک ٹرانسیکشن آرڈیننس کے سیکشنز 36/37 اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 420، 468اور 471کے تحت دونوں ملزمان کیخلاف مقدمات درج کرلیے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں