سوئیڈن کی کم عمر ترین مسلمان وزیر مستعفی

اسٹاک ہوم(ویب ڈیسک) سوئیڈن کی کم عمر ترین مسلمان وزیر عائدہ حاج علی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

29 سالہ عائدہ وزیر برائے ہائر ایجوکیشن اور سوئیڈن کی کم عمر ترین اور پہلی مسلمان وزیر تھیں تاہم نشے کی حالت میں گاڑی چلاتے ہوئے پکڑے جانے کے بعد انہوں نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق اپنے بیان میں عائدہ نے کہا کہ ‘نشے کی حالت میں گاڑی چلانا میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی’۔

عائدہ کا آبائی ملک بوسنیا ہرزگوینیا ہے اور وہ پانچ برس کی تھیں جب ان کے والدین سوئیڈن منتقل ہوگئے تھے۔

پولیس نے عائدہ کو ڈنمارک اور سوئیڈن کو ملانے والے پل پر روکا اور جب ان کا الکوحل ٹیسٹ کیا گیا تو ان کے خون میں الکوحل کی مقدار مقررہ 0.2 گرام فی لیٹر سے زیادہ ثابت ہوئی۔

پولیس کے مطابق ڈرائیونگ سے قبل عائدہ نے دو گلاس وائن پی تھی اور انہیں 6 ماہ تک قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے عائدہ نے بتایا کہ انہوں نے کوپن ہیگن میں ایک گلاس اسپارکلنگ وائن اور ایک گلاس ریڈ وائن پی تھی اور چار گھنٹے بعد سوئیڈن کیلئے روانہ ہوگئیں تھیں۔

عائدہ نے بتایا کہ انہوں نے سوچا کہ چار گھنٹے میں الکوحل کا اثر ختم ہوجائے گا لیکن وہ غلط تھیں اور انہوں نے مستعفی ہونے کا فیصلہ اس لیے کیا کیوں کہ وہ سمجھتی ہیں کہ انہوں نے جو کیا وہ بہت سنگین ہے۔

واضح رہے کہ سوئیڈن ان یورپی ممالک میں سے ہے جہاں شراب پی کر گاڑی چلانے کے حوالے سے سخت قوانین ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں