جنرل قمر باجوہ نے 4 دہشتگردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 4 خطرناک دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، چاروں دہشت گرد معصوم شہریوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس کے اہلکاروں کے قتل جیسی دہشت گردی کی سنگین کارروائیوں میں ملوث تھے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ان دہشت گردوں کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمات کی سماعت کی گئی تھی۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ایس ایس پی چوہدری محمد اسلم کو بھی اِن ہی دہشت گردوں نے قتل کیا، اور یہ دہشت گرد ایس ایس پی فاروق اعوان سمیت 226 افراد کوحملوں میں زخمی کرنے میں ملوث ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق دہشت گردوں نے مجموعی طورپر58 افراد کو قتل کیا، اور یہ مجرمان فورسز کے قافلے پر حملے سمیت کراچی میں جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے کی منصوبہ بندی، سی آئی ڈی بلڈنگ، آئی ایس آئی آفس سکھر پر حملے میں بھی ملوث تھے۔

دہشت گردوں کے قبضے سے بڑی تعداد میں اسلحہ اور بارودی مواد بھی برآمد ہوا تھا۔

واضح رہے کہ پاک فوج کی کمان سنبھالنے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دہشتگردوں کی سزائے موت کی توثیق کی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق، موت کی سزا پانے والے مجرمان اور ان کے جرائم کی تفصیلات کچھ یوں ہیں:

فاروق بھٹی ولد محمد اسحاق، عطاءالرحمان ولد فقیرمحمد، اور محمد صابرولد الطاف گل نامی تینوں دہشتگردوں کا تعلق کالعدم جماعتوں سے تھا، مجرمان مجسٹریٹ اور ٹرائل کورٹ میں اپنے جرم کا اعتراف کرچکے تھے۔

چوتھا دہشت گرد کالعدم جماعت کا رکن گل زرین ولد گل شریف ہے، جو پولیس اہلکاروں پر حملے میں ملوث تھا جس میں پولیس کانسٹیبل سرتاج قتل ہوئے جبکہ پولیس کانسٹیبل احمد خان اور ایس ایس پی فاروق اعوان سمیت 10 اہلکار زخمی ہوئے۔

اس سے قبل ریٹائرڈ ہونے والے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے 22 نومبر کو بھی 10 خطرناک مجرموں کی سزائے موت کی توثیق کی تھی۔

واضح رہے کہ 21ویں آئینی ترمیم کے تحت قائم ہونے والیں فوجی عدالتوں سے اب تک دہشت گردی میں ملوث کئی مجرمان کو سزائے موت سنائی جاچکی ہے، جن میں سے کئی کو آرمی چیف کی توثیق کے بعد تختہ دار پر لٹکایا بھی جاچکا ہے۔

فوجی عدالتوں کو دیئے گئے یہ خصوصی اختیارات آئندہ ماہ 2 جنوری کو ختم ہور رہے ہیں، جب کہ وفاقی حکومت فوجی عدالتوں کے خصوصی اختیارات میں اضافے کے لیے آئین میں ترمیم کرنے کی خواہش مند نہیں ہے۔

گزشتہ برس 3 جنوری کو پارلیمنٹ نے 21 ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے کر فوجی عدالتوں کے دائرہ اختیار میں توسیع کرتے ہوئے دہشت گردوں کی فوجی عدالتوں میں سماعت کی منظوری دی تھی،جب کہ پہلے فوجی عدالتوں کو صرف فوجی اہلکاروں کے جرائم کی پاکستان آرمی ایکٹ (پی اے اے) 1952 کے تحت سماعت کا اختیار تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں