|
|
 |
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
تاریخ اشاعت:۔08-03-2010 |
|
بھارتی
ایٹمی مواد کی اسمگلنگ ،امریکہ کےلئے لمحہءفکریہ |
|
کالم:۔
محمد اکرم خان فریدی
|
{1}
جنیوامیں اقوامِ متحدہ کے زیر اہتمام منعقدہ تخفےف اسلحہ کانفرنس سے
خطاب کرتے ہوئے عالمی ادارے میں پاکستان کے سفیر ضمیر اکرم کا کہنا تھا
کہ سوےلےن جوہری مواد سے بھارت سالانہ اےک سو اےٹم بم تےار کرسکتا ہے ۔پاکستان
کے سفےر کی جانب سے بھارت کے بارے میں دےئے جانے والے بےان کے بعد
امرےکی سےنٹ کی خارجہ امور کمےٹی کے سربراہ سےنےٹر جان کےری نے کہا ہے
کہ بھارت نے جوہری ٹےکنالوجی کا پُر امن مقاصد کے لئے استعمال کےا لےکن
پاکستان نے جوہری ٹےکنالوجی دوسروں تک پہنچائی ۔کتنے افسوس کی بات ہے
کہ بھارت کے نےوکلےئر پلانٹ سے بار بار ےورےنےم،ایٹمی تنصےبات کی
معلومات،نقشوں ،فارمولوں اور اہم ڈاےاگرامز کے چوری اورا سمگلنگ کے
واقعات سے ساری دنےا با علم ہے لےکن جان کےری صاحب کی اِس بارے میں
لاعلمی نے مجھے ہی نہےں بلکہ پوری دنےا کو حےرانگی میں مبتلا کر دےا ہے
۔ہمیں تو بڑوں نے ہمےشہ یہی درس دےا کہ اگر کسی کے پاس علم ہو تو وہ
بانٹنا چاہئے لہٰذا آج کےری صاحب کے علم میں اضافہ کے لئے اُنہےں بھارت
کے غےر محفوظ جوہری اثاثوں کے بارے میں بتانا بہت ضروری ہے ۔جنابِ جان
کےری صاحب! 1984ءسے اب تک بھارتی ایٹمی پلانٹوں سے تقرےباً 154 مرتبہ
ےورےنےم چوری ہونا اِس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ بھارتی حکومت ےا
سےاست میں کوئی نہ کوئی اےسا گروہ ضرور موجود ہے جسکے دہشت گرد تنظےموں
سے رابطے ہےں اور وہ انہےں ےورےنےم کے علاوہ ایٹمی ٹےکنالوجی بھی فروخت
کر رہا ہے۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بھارتی نےوکلےئر پاور کارپورےشن
میں جو ملازمےن تعےنات کئے گئے ہےں وہ سےاسی جماعتوں کی سفارشات کے بعد
بھرتی ہوئے ہےں اور اُنہی جماعتوں کے دباﺅ پر وہ ایٹمی راز دہشت گرد
تنظےموں کو منتقل کر رہے ہےں۔ کچھ عرصہ قبل بھارت میں جوہری مواد اور
ٹےکنالوجی کی غےر قانونی نقل وحمل روکنے پر مامور ادارے کے اہلکاروں کو
جوہری مواد اور ٹےکنالوجی کی چوری کے انکشاف کے بعد انہےں حراست میں لے
لےا گےا تھا ۔جوہری ٹےکنالوجی کی چوری میں ملوث مہش وردےو سنگھ نےٹ ورک
کے ارکان کا تعلق بھارتی رےاست بہار کے شہر سےال اور مغربی بنگال کے
شہر بےرےم سے تھا ۔اسی طرح وےسٹ خاصی پولےس نے ستمبر 2009ءمیں چار
لوگوں کو ےورےنےم کے ساتھ گرفتار کر لےا تھا جو اُنہوں نے اٹامک منرل
ڈےژنAMD انڈےا سے چوری کےا تھا ،چوری شدہ پےکٹ پر AMD اور حکومتِ انڈےا
کی مہر لگی ہوئی تھی اور جن لوگوں نے AMDسے ےورےنےم چراےا تھا اُن میں
سے اےک کا باپ وہاں ملازمت کرتا تھا۔اےک اور واقعہ میں نےوی ممبئی
پولےس نے 3لوگوں کو 5کلو گرام ےورےنےم کے ساتھ گرفتار کر لےا ۔ےاد رہے
کہ 1993ءمیں بھارتی ایٹمی لےبارٹری سے بھی 97کلو گرام ےورےنےم اور
2000ءمیں 57پاﺅنڈ
2
ےورےنےم چوری ہوا اور ملزمان بھی پکڑے گئے۔یہ تو تھے چند وہ واقعات جو
سامنے آگئے نہ جانے کتنی بار ےورےنےم چوری ہوا اور چور بچ نکلنے میں
کامےاب ہوگئے ہوں گے۔ جان کےری صاحب !یہ جان کر آپکو مزےد حےرانگی ہوگی
کہ بھارت میں ایٹمی مواد تو چوری ہوتا ہی رہا ہے اسکے ساتھ ساتھ ایٹمی
راز بھی چوری ہوئے ہےں، یہ 8جون 2009کی بات ہے جب بھارت کے اےک جوہری
سائنسدان ”لوکانتھن مہالےنگم“ صبح کی سےر کے لئے گھر سے نکلے اور اچانک
غائب ہوگئے،5دِن بعد درےائے کالی کے کنارے جب انکی نعش برآمد ہوئی تو
انکے جسم پر تشدد کے واضح نشانات پوری دنےا کی جانب سے بھارت کے لئے
بہت بڑا سوال چھوڑ گئے کہ سائنسدان کو 5دن رکھ کر دہشت گردوں نے اُس سے
کون سے راز لئے ہوں گے؟۔بھارتی سائنسدان کے اغواء اور قتل کا یہ پہلا
واقعہ نہےں تھا بلکہ اِس سے قبل بھی بھارت کے ایٹمی ادارہ کا اےک اہم
ملازم ”روی مےول“ اغواءکے بعد قتل کر دےا گےا۔بھارتی سائنسدان ڈاکٹر
سرندر اور مسٹر پرساد خود ہی اپنے ملک کا جوہری مواد چوری کرتے رہے اور
امریکہ کی جانب سے دونوں سائنسدانوں کو ایٹمی مواد کی چوری کے جُرم میں
بلےک لِسٹ کر دےا گےا۔ انڈےا میں اعلیٰ پائے کی کمپنےاں بھی جوہری آلات
کی غےر قانونی نقل و حمل میں ملو ث پائی گئی ہےں ،مثال کے طور پر
برےکلے نےوکلےونگ کارپورےشن کو جوہری آلات کی برآمدگی کے جُرم میں
3لاکھ امرےکی ڈالر جرمانہ ہوا علاوہ ازےں26جنوری2003ءسی اےن اےن نے
نشاندہی کی کہ انڈےن کمپنی اےن ای سی انجےنئرنگ پرائےوےٹ لمےٹڈ نے عراق
کو انتہائی حساس نوعےت کا اسلحہ بھجواےا ہے ۔
بھارت میں جوہری ٹےکنالوجی اور ےورےنےم کی چوری اور ایٹمی راز فاش ہونے
کے واقعات سے پوری دنےا خطرے میں پڑ گئی لےکن بھارت بڑی صفائی کے ساتھ
اِن واقعات پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا رہا اور دنےا کو باور کرواتا
رہا کہ جو ےورےنےم پکڑا گےا ہے وہ استعمال شدہ ہے۔لےکن شائد وہ سمجھتا
ہے کہ دنےا اِس بات سے بے خبر ہے کہ ےورےنےم کی ری سائےکلنگ کی
ٹےکنالوجی موجود ہے ۔انگلےنڈ میں اےکٹےو کولےکشن بےورو Active
Collection Bureau (ACB), وہ ادارہ ہے جہاں ےورےنےم کو ری سائےکل کرکے
دوبارہ استعمال کے قابل بناےا جاتا ہے ۔ےورےنےم اور ٹرےنےم کی ری
سائےکلنگ ٹےکنالوجی کی موجودگی نے اےک اےسا سوال کھڑا کر دےا ہے جسکا
جواب شائد جان کےری صاحب بھی نہ دے سکےں کہ ” بھارت کے اہم ترےن ادارے
سے ےورےنےم اور ایٹمی ٹےکنالوجی کی بار بار چوری کے واقعات کےوں اور کس
ملک ےا دہشت گرد تنظےم کو فائدہ پہنچانے کے لئے ہوئے؟۔یہ بات بھی کسی
سے ڈھکی چھپی نہےں کہ بھارتی فوج اور خفیہ اےجنسی کے انتہا پسند
تنظےموں اور سےاسی جماعتوں کے ساتھ قرےبی رابطے ہےں مےرے علم میں یہ
بات اُس وقت آئی جب معلوم پڑا کہ مہاراشٹرا کے انسدادِ دہشت گردی سکواڈ
نے اےک حاضر سروس کرنل ”سری کانت پروہِت“ اور اسکے ساتھےوں کو ہندو
دہشت گردوں کو تربےت دےنے اور اُنہےں انتہائی حساس نوعےت کے ہتھےار
فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار کر لےا اور اُنکی رہائی کے لئے بی جے
پی،وی اےچ پی ،آر اےس اےس اور بجرنگ دَل نئی دہلی پر دباﺅ ڈالتی رہےں
اور اےک لمحہ یہ بھی سوچا جا سکتا ہے ایٹمی مواد کی دوسرے ممالک میں
فراہمی کے لئے انہی جماعتوں کو استعمال کےا جا رہا ہو۔مےرے خےال میں
جان کےری کو کافی حد تک اندازہ ہوگےا ہوگا کہ دہشت گردوں کی بھارت کے
ایٹمی اثاثوں تک رسائی کا مطلب یہ ہے
3
کہ دنےا خطرے میں ہے،امریکہ نے بھارت کو افغانستان تک آسان رسائی دے کر
خود کو انتہائی خطرے میں دھکےل لےا ہے کےونکہ بھارت کا کوئی بھی
سائنسدان جو ایٹمی چوری میں ملوث رہا ہو وہ لالچ میں آکر تمام ایٹمی
فارمولے القاعدہ ےا طالبان کو فروخت کر سکتا ہے جس سب سے زےادہ نقصان
براہِ راست امریکہ کو ہی ہوگا۔اِس خدشے اور ایٹمی تنصےبات پر ناقص
سکےورٹی سسٹم کے باعث امرےکی صدر اوبامہ کو چاہئے
کہ وہ ہند ۔امریکہ جوہری معاہدے پر نظر ثانی کرتے ہوئے یہ معاہدہ خارج
کر دےں ۔ اور آج اگر امریکہ بھارت سے ےورےنےم کی چوری کو نظر انداز
کرتا رہا تو شائد وہ دِن دور نہ ہو جب روس اپنی شکست کا بدلہ لےنے کے
لئے بھارت اور دہشت گرد تنظےموں کو امریکہ کے خلاف استعمال کر جائے اور
دہشت گر د تنظےمں امریکہ کے کسی بھی شہر کو راکھ کا ڈھےر بنانے میں
کامےاب ہو جائےں۔ شائد نےٹو کے سابق سربراہ وےلی کلائس کے اُس مطالبہ
پر پوری دنےا کی توجہ کی ضرورت ہے جس میںاُنہوں نے کہا ہے کہ ےورپی
ممالک جوہری ہتھےاروں کو مکمل طور پر ختم کرےں جبکہ امریکہ کو چاہئے کہ
وہ خود جوہری ہتھےاروں کی دوڑ میں شمولےت ترک کردے۔وےلی کلائس کے کے
مطالبہ پر امریکہ اور ےورپ ہی نہےں بلکہ پوری دنےا کو غور کرنا چاہئے
اور پہلے آپ پہلے آپ کی ضِد میں پڑنے کی بجائے پوری دنےا میں اےک ہی
روز جوہری ہتھےروں کے خاتمے کی مہم شروع کی جائے۔
محمد اکرم خان فرےدی(کالم نگار)فون 302 4500098
36۔مجاہد نگر شےخوپورہ شہر
Email: akramkhanfaridi@gmail.com
|
|
|
|
 |
|
|
|
|
|
|