|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
 |
|
Telephone:-03222777698 |
Email:-azamazimazam@gmail.com
|
|
کالم نگار کے مرکزی صفحہ پر
جانے کے لیے کلک
کریں |
|
|
|
تاریخ اشاعت:۔2010-07-16 |
|
انٹرنیٹ پر فحش
جنسی مواد تلاش کرنے میں پاکستانی
سرِفہرست |
|
|
|
کالم۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ محمداعظم
عظیم اعظم |
ایک امریکی ادارے فوکس نیوزڈاٹ کام نے پاکستان
میں اِنٹر نیٹ پر فحش اور جنسی مواد تلاش کرنے
کے حوالے سے اپنی ایک مرتب کردہ رپورٹ کی
ابتدا اِن الفاظ کے ساتھ کی ہے کہ پاکستان کے
معنی” بیشک پاک لوگوں کی سرزمین“ لیاجاتاہے
لیکن اِس کے ساتھ ہی وہ اپنی اِس رپورٹ میں
لکھتاہے کہ بڑے افسوس کی بات کہنی پڑرہی ہے کہ
پاکستانی ایسے نہیں ہیں ۔جیسے اِن کے ملک کا
نام ہے ”پاکستان“ اور جیسے اِس کے معنی مطلب
نکلتے ہیں وہ تحریر کرتاہے کہ پاکستان نے ایک
درجن سے زائد17کے قریب ویب سائٹس کو مخرب
الاخلاق اور توہین آمیز قرار دے کر اپنے یہاں
اِن پر پابندی لگارکھی ہے اور آگے چل کریہ
امریکی ادارہ اپنی اِسی رپورٹ میں یہ انکشاف
بھی کرتاہے کہ لیکن جب اِن ہی ویب سائٹس (اِنٹرنیٹ)پرفحش
مواد کی تلاش کا تذکرہ دنیا میں جب بھی کیا
جاتاہے تو اِس حوالے سے یہ بات بھی دنیا کے
سامنے آتی ہے کہ یہی پاکستانی جن کے ملک میں
17کے قریب چھوٹی بڑی ویب سائٹس پرپابندی ہے
دنیاکے دیگر ممالک کے مقابلے میں (ویب سائٹس
پر فحش اور عریاں مواد تلاش کرنے میں)پاکستانی
سب سے آگے نظرآتے ہیں۔اور اِس حوالے سے فوکس
نیوز ڈاٹ کام نے اِس کی نفسیاتی اور مذہبی وجہ
جاننے کے لئے جب یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم کے
ایک اسلامیات کے پروفیسر جبرئیل سعید رینالڈ
سے رابطہ کیا تو اِن کا کہناتھا کہ اسلامی
ممالک میںبدن کی عریاں نمائش کی پابندی ہے اور
اگر عریانیت کے لئے اِس ذوق و شوق کا اظہار نہ
کریں تو یہ بات ستم ظریفی ہوگی۔
اور اِس کے ساتھ ہی اگر یہ کہاجائے تو کوئی
غلط نہ ہوگا کہ اِس امریکی ادارے فوکس نیوز
ڈاٹ کام نے اپنی رپورٹ میں گوگل کا حوالہ دیتے
ہوئے انتہائی ہٹ دھرمی سے پاکستانیوں کی ذہنی
(فحشی اور جنسی) عیاشیوں کا بھی پول ساری دنیا
کے سامنے کھول کر رکھ دیاہے کہ پاکستانی مذہب
کا لبادہ اُڑھے جنسی عیاشیوں میں کس طرح مگن
رہتے ہیں یہ لکھتے ہوئے اپنا دعویٰ کرتاہے کہ”
گوگل پر مخرب الاخلاق (فحش اور جنسی)مواد تلاش
کرنے والے دنیاکے دیگرممالک کے شہریوں میں
پاکستانی سرِ فہرست ہیںاوریہاں اِ س کا یہ
کہنابھی بڑی حد تک درست لگتاہے حالانکہ جب
پاکستان میں ایک درجن سے زائد فحش اور جنسی
مواد سے لبریز ویب سائٹس پر پابندی عائد تھی
تو پاکستانیوں نے کس ذہنی اور نفسیاتی اذیت کا
سامناکیاہوگااور وہ اِس حوالے سے لکھتاہے کہ
اپنی اِس ساری کیفیت سے پاکستانی خود بھی واقف
ہونگے اور ہم تو جانتے ہی کہ پاکستانی اِس
دوران ویٹ سائٹس پر فحش مواد تلاش کئے بغیر
نہیں رہ سکے ہوں گے.......؟
جبکہ فوکس نیوزڈاٹ کام نے اپنی رپورٹ میں اِس
بات کاانکشاف کرتے ہوئے اپنے دعوے میںیہ بھی
کہاہے کہ”گوگل کے اعلامئے کے مطابق پاکستان
گوگل، یاہو، بنگ، یوٹیوب،ایم ایس این اور ہاٹ
میل کے مواد میںموجود غیر اسلامی مواد کی سخت
نگرانی کرتاہے لیکن پاکستانیوں کو سنسر نہیں
کیاجاتااِس نے اِس کی وجہ رینالڈکاحوالہ دیتے
ہوئے یہ بتائی ہے کہ دراصل یہ باہر کی دنیاکو
خاموش کرنے کے مترادف ہے اور اِسی طرح امریکی
ادارے فوکس نے فیس بُک کے ائنڈر یونوئس کا کے
حوالے سے لکھاہے کہ ”یہ سچ ہے کہ پاکستان نے
مئی میں فیس بُک پر پابندی عائد کردی تھی مگر
بعد میں خود ہی اٹھا بھی لی اِس کی جانب سے
فیس بک پر پابندی لگانی کی وجہ کچھ سمجھ نہیں
آئی.....؟ کہ پاکستان نے فیس بُک پر پابندی
کیوں لگائی تھی......؟ اِس کا کہنا ہے کہ جس
کی وجہ سے فیس بک پر پاکستان نے پابندی لگائی
گئی تھی وہ مواد تو پاکستان میںفیس بک پر
پابندی ہٹائے جانے کے باوجود بھی موجود ہے مگر
پاکستانی اِس مواد کو نہیں دیکھ سکتے ہیںاِس
کا یہ بھی بڑے تذذب کے عالم میں( جیسے یہ ہم
پاکستانیوں کا مزاق اڑارہاہوں )کہناتھاکہ دنیا
یہ بات اچھی طرح سے جانتی ہے کہ پاکستان
میںتوہین انبیا کے مرتکب افراد کے لئے سزائے
موت مقرر ہے لیکن جہاں تک پاکستان میں مخرب
الاخلاق فحش/جنسی مواد کی فراہمی کا سوال ہے
تو اگرچہ یہ بھی اسلام کے خلاف ہے لیکن سوال
یہ ہے کہ آیا اِسے کسی طریقے سے روکاجاسکتاہے
یا لوگوں کو ویب پر موجود عریاں جنسی موادسے
دورکھاجاسکتاہے...؟فی الحال! امریکی ادارہ
فوکس نیوذ ڈاٹ کام نے رینالڈ کے مطابق اِس
سوال کا جواب یہی دیا ہے کہ” یہ ایک نیا عمل
ہے“ ۔
یہ وہ خبر تھی جس نے مجھے آج کا اپنا یہ کالم
لکھنے کے لئے متحرک کیا مگراِس ساری بحث و
تکرار اور منظر و پس منظر کے بعد میرا خیال یہ
ہے کہ امریکا سمیت یورپی ممالک اگر یہ چاہتے
ہیں کہ دنیا میں امن قائم ہوجائے تو اِنہیں
چاہئے کہ وہ نہ صرف اِنٹرنیٹ پرسے فحاشی
اورعریانیت کا خاتمہ کریں بلکہ اپنے معاشرے سے
بھی مردوعورت کا سرِبازار ننگا رہنے اور ایک
دوسرے کے لئے جنسی سامان مہیا کرنے والے فعلِ
تسکین و لذتِ حرام پر پابندی لگائیں جس کی وجہ
سے اِن کامعاشرہ جِسے یہ دنیا کے مہذب ترین
معاشروں میں شمار کرتے ہیں درحقیقت یہ دنیا کے
وہ گندے ترین معاشرے ہیں جہاں عورت کی حیثیت
جنسی تسکین کے سوا اور کچھ نہیں ہے اور اِن کے
یہی معاشرے دنیا کے لئے کلنگ کا ٹیکہ ہیں
جنہیں راہ ِ راست پر لانے اور لگام دینے کے
لئے جب امریکا اور یورپ ہی سے کچھ مسلم
نوجوانو کا ٹولہ سامنے آتاہے تو امریکا اور
یورپ کے بھٹکے ہوئے لوگ اِنہیں دہشت گردکہہ
کراِنہیں دنیا کے لئے خطرہ قرار دیتے ہیں ۔اِس
حوالے سے میراامریکاسمیت اُن یورپی ممالک سے
جہاں کھلے عام عریانیت ہے اِن سے یہ کہناہے وہ
اپنے معاشرے کو سُدھاریں اور اپنی عورت کو
چادر اور چاردیواری میں باعزت طریقے سے رکھیں
اور اِس کے حقوق صحیح طرح سے اداکریں تو کوئی
وجہ نہیں کہ اِن کا معاشرہ بھی ایک پاکیزہ
معاشرہ بن جائے اور یہاں سے فحشی اور عریانیت
ختم ہوجائے اِن کے اتنے سے اچھے عمل سے نہ صرف
اِن کا معاشرہ بہتر ہوجائے بلکہ دنیا سے دہشت
گردی اور بدلے کی سیاست کا بھی ختم ہوجائے جو
اِن ممالک نے اپنے معاشرے میں عریانیت کو عام
کرکے مسلم دنیا کے صاف ستھرے معاشرے کو تباہ
وبرباد کرنے کے لئے قائم کررکھی ہے۔ اور یورپ
کا وہ گندا اور غلاظت سے بھرا معاشرہ جو مسلم
دنیاکے لئے ناسور ہے وہ اِسے کسی صُورت اپنے
یہاں قبول نہیں کریں گے۔
اور میں اِس موقع پر یہ کہنا بھی مناسب سمجھتا
ہوں کہ کوئی ضروری نہیں کہ آپ میرے اِس مفروضے
اور مشاہدے سے متفق بھی ہوں مگر یہ بھی کوئی
لازم نہیں کہ آپ اِس بارے میں جو بھی اپنی
نالج رکھتے ہوں وہ بھی زبردستی مجھ پر لاٹھی
لے کر ٹھوسنا شروع کردیں بہر حال!آپ کے پاس
اِس حوالے سے جتنی بھی معلومات ہوں مجھے اِس
سے کوئی سروکار نہیں ہے مگرمیں اپنے مشاہدے کی
روشنی میں اِس نتیجے پر پہنچ سکا ہوں کہ دنیا
میںبسنے والے اربوںاِنسان جن کا تعلق کسی بھی
مذہب وملت رنگ ونسل اور زبان و علاقے سے ہواِن
سب میں سیکس کی پانچ اقسام مشترکہ طور پر پائی
جاتی ہیں اورجواِنسان کے بالغ ہونے اور اِ س
کی عمر کے بڑھتے
درجات کے ساتھ ساتھ بتدریج بدلتی رہتی ہیں جن
میںاوّل سوچنے والا سیکس ،دوئم سُننے والا
سیکس،سوئم اگربلوغت کو پہنچنے والا)مرد وعورت)
پڑھا لکھا ہے تو پڑھنے والاسیکس، چہارم دیکھنے
والا سیکس اور سب سے آخر میں پریکٹیکل یعنی
عمل کرنے والا سیکس ہر بالغ اِنسان (مرد و
عورت) کے حصے میںاُس کی زندگی میں ضرور بنتاہے
۔
مگر آج دنیا کے بیشترممالک جن میںٍبالخصوص
امریکا، فرانس ، لندن اور دیگر شامل ہیں اِن
ممالک کی درس گاہوں میں سیکس سے متعلق ہر قسم
کی معلومات کو علم کا درجہ دے کر اِسے تعلیم
کی شکل میںکورس کا حصہ بناکرلازمی قرار دینے
کر سیکس کی آگاہی اَن معاشروں میں ہر فرد کو
دی جارہی ہے اِس کے بعد اَب یہ کوئی ضروری
نہیںرہ گیاہے کہ ہر اِنسان مندرجہ بالا چاروں
اقسام سے گزرکرسیکس کی سب سے آخری قسم (عملی
سیکس )تک پہنچے موجودہ دور میںایسی بھی لاکھوں
مثالیں آئے روز سامنے آرہی ہیں کہ دنوں جنسوں
)میل اور فیمل )میں سے کوئی ایک یادونوں ہی
براہِ راست عملی سیکس سے گزر جاتے ہیں ۔
بہرکیف!اِ س کی تفصیل میں جانے کی کوئی خاص
ضرورت نہیں بس میں اتنا بیان کرتے ہوئے آگے
بڑھوں گا کہ یورپی ممالک کے مدرپدر آزاد جنسی
معاشرے کے مقابلے میں ہمارے اسلامی ممالک کے
لوگ مذہبی تعلیمات اور اُصولوں کی پابندیوں کی
وجہ سے سیکسی آزادی اورسیکسی معلومات سے بہت
پیچھے ہیں اور آج الحمدللہ! یہی مذہبی پابندی
اور اسلامی تعلیمات ہی کا نتیجہ ہے کہ دنیاکے
تمام اسلامی ممالک کو یہ اعزاز اورامتیاز حاصل
ہے کہ مسلم ممالک قرآن و سُنت کی روشنی میں
بنائے گئے اپنے سخت ترین قوانین کی وجہ سے
یورپ کے کسی بھی بدکردارجنسی معاشرے میں
پیداہونے والی جنسی بے راہ روی سے اپنے معاشرے
کو بچائے ہوئے ہیں۔اور مجھے یہ بھی یقین ہے کہ
جب تک دنیا رہے گی مسلم ممالک امریکا اور
یورپی ممالک کی طرح اپنے معاشروں کو کھلے عام
جنسی بے راہ روی کاشکار ہرگز نہیں ہونے دیں گے۔
اورآج امریکی ادارہ فوکس نیوزڈاٹ کام اپنی
رپورٹ میں اپنا یہ اِنکشاف اور دعویٰ”پاکستانی
اِنٹرنیٹ پر فحش اور عریان مواد تلاش کرنے
والے دنیا کے دیگر ممالک کے شہریوںکے مقابلے
میں سرِفہرست ہیں“ کرکے کیا سمجھ رہاکہ
پاکستان کا مسلم معاشرہ اور یہاں کے لوگ جنسی
بے راہ روی کا شکا ر ہوکر کیا امریکیوں کی طرح
عریاں ہوگے ہیں ۔جس کے لئے یہ اتنا خوش ہوکر
دنیا بھر میں یہ پروپیگنڈہ کررہا ہے کہ
پاکستانیوں نے نیٹ پر فحاش مواد تلاش کرکے ایک
نیاریکارڈ قائم کیاہے۔
|
| |
|
|
|
|
|
|
 |
 |
|
|
 |
|
|
 |
|
|
|
|
|
© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved |
|
Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved
|