اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-970-3200 / 0333-832-3200       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Telephone:-

Email:-
 

کالم نگارحافظ منصورجگیوٹ کے مرکزی صفحہ پر جانے کے لیے کلک کریں

 

تاریخ اشاعت:۔2010-07-23

جدوجہدآزادی اور دہشتگردی میں تفریق
 
کالم۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ حافظ منصورجگیوٹ
 
موجودہ دور میںجدوجہد آزادی کی تحریکوں کے بارے میںپوری دنیا بالخصوص مغرب بعض بنیادی غلط فہمیوںکا شکار ہے۔ان تحریکوں کو پروپیگنڈے کے زور پر طالبانائزیشن اور انتہاپسندی کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔آزادی کی ان تحریکوںکو دہشت گردی اور خودکش دھماکوں کے ساتھ اسطرح گڈمڈکرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ افغانستان، کشمیر،فلسطین اور عراق جیسے علاقوں میں قابض افواج کے خلاف برسرپیکارحریت پسندوں کو بھی انتہا پسند اور دہشت گرد عناصرکے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا جارہا ہے۔نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ دنیا جدوجہد آزادی کی جنگ اور دہشت گردی کو ایک ہی چیز سمجھنا شروع ہو گئی ہے۔عالمی دہشتگردی کے نام پر لڑی جانے والی نام نہاد جنگ کا مقصد دہشتگردی کو ختم کرنا تھامگر نتائج اس کے برعکس سامنے آئے ہیں۔خصوصاً مسلم خطوں میں دہشتگردی کم ہونے کی بجائے خطرناک حد تک بڑی ہے۔جدوجہد آزادی کی تحریکوں کے خلاف نہ صرف پروپیگنڈہ کیا جارہاہے بلکہ عملی طور پر کشمیر،فلسطین، افغانستان اورعراق یا جہاں کہیں بھی مسلمان استحصالی قوتوں کے ظلم کاشکار ہیں اور اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں انہیں پوری قوت سے دبایا جا رہاہے۔ بےگناہ اور نہتّے کشمیری، فلسطینی ،افغانی اورعراقی اپنی ہی سرزمین پر بے وطن وبے ےار و مددگار ہےں۔ اور ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کو دہشتگردی قرار نہ دےنا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ اُلٹا ان مظلوموں پرجو آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں دہشتگردی کا لےبل لگاکر نشانہ بنانا اور بدنام کرنا صریحاً ناانصافی نہیں تو اور کیا ہے؟
دنیا میں جہاں زندگی کے تمام میدانوں میں ترقی ہوئی وہاں ظلم و تشدد، جبرو تسلط اور استعمار کی نئی اور بھیانک صورتیں بھی سامنے آئیں۔ماضی قریب میںانسانی حقوق،عالمی امن اور انسانیت کے نام پر کشت و خون کے بازار گرم کیے گئے۔جبکہ ان حریت پسندتحریکوںکو غلط رنگ دیا گیاحتی کہ ان کی غرض و غایت اور حقیقت جانے بغیر کہیں اسے دہشت گردی اور کہیں انتہا پسندی کے نام سے منسلک کر دیا گیا۔طالبانائزیشن کا آغازجنرل ضیاءکے دورمیںہوا جب مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباءکے دل و دماغ میں امریکی پالیسی کے مطابق روسی کمیونزم کے خلاف سخت نفرت پیدا کی گئی۔’سی آئی اے‘کے فنڈز سے جہاد کے حق میںکئی کتابیں لکھی گئیںاوران کتب کو جگہ جگہ تقسیم کیاگیا۔ بین الاقوامی میڈیا کا یہ حال تھا کہ وہ روس کے خلاف سرگرم عمل جہادیوں کی عظمت کے گیت گاتا تھا۔ مگرافغانستان میں روس کی پسپائی کے بعدساری ترجیحات بدل گئیںاورامریکہ نے افغانستان میں اپنی حکومت بنانے کا خواب دیکھنے والے ان عناصرجو آج کے دہشت گردہیں کوکچلنے اور جنوبی ایشیاءمیں اپنی موجودگی کو برقرار رکھنے کی وجہ تراش لی۔تاکہ یہاں موجود رہ کرقدرتی وسائل کو ہتھیانے اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر قابو پانے کے علاوہ ہندوستان کی مدد سے چین کے لیے مشکلات پیدا کی جا سکیں جو امریکہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ بنتا جا رہا تھا۔اسامہ کا تعاقب شروع ہواتو امریکہ کے تخلیق کردہ مجاہدین اورامریکہ ایک دوسرے کے خلاف جنگ میں مصروف ہو گئے۔طالبان کے ہاتھوں میں بندوقیں اور میزائل تھمانے والے اب کہنے لگے کہ جہادی کلچر والا اسلام حقیقی اسلام نہیں،حقیقی اسلام تو رواداری سکھاتا ہے۔دہشتگردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میںنا صرف اسلام بلکہ واحد مسلم ایٹمی طاقت پاکستان کے سکیورٹی اداروں، مدارس، جوہری ہتھیاروں کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ کیاجاتا رہا اور ابھی تک تسلسل کے ساتھ جاری ہے ،جس سے اسلام اور پاکستان کو حد درجہ نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔
پاکستان اپنی تاریخ کے انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے۔ایک طرف دہشتگرد اپنی مذموم کارروائیوں کے ذریعے پاکستان کے اندرونی استحکام کو تباہ و برباد کرنے کے مشن پر ہیں ۔تو دوسری جانب پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے اور اسکے تشخص کو خراب کرنے کی سازشیں عروج پر ہیں۔اس حوالے سے مغربی ذرائع ابلاغ سب سے آگے ہر اول دستے کا روپ دھارے ہوئے ہے۔ کبھی یہ دعوی کرتے ہیں کہ القاعدہ پاکستان میں موجود ہے اور کبھی یہ کہ طالبان اسلام آباد قبضہ کرنے والے ہیں۔انہیں کبھی پاکستان کا جوہری اسلحہ دہشتگردوں کے ہاتھ لگنے کا خدشہ ہے تو کبھی یہ قیاس آرائی کی جاتی ہے کہ جوہری تنصیبات کی حفاظت پر مامورپاک فوج بے بس ہے۔اس کی تازہ مثال امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کاحالیہ بیان ہے جس میں محترمہ فرماتی ہیں کہ ” اسامہ بن لادن اور ملا عمر کے متعلق پاکستان کے کسی نہ کسی حکومتی عہدیدارکوعلم ہے“۔ اتحادی جب بھی دہشت گردی کا شکار ہوتے ہیںیادہشت گرد ان کی جنگی پالیسیوں کو کامیاب نہیں ہونے دیتے ،وہ اپنے جاسوس اداروں اور سیکیورٹی فورسز کی ناکامی کو الزام دینے کی بجائے یہ کہتے دکھائی دیتے ہیںکہ سارا قصور پاکستان کا ہے۔جبکہ ان کا اپنا حال یہ ہے کہ افغانستان پر حملے کے وقت صدر بش نے اپنے خطاب میں ایک سال کے ٹائم ٹیبل کی بات کی تھی۔اور یہ کہاتھا کہ اس عرصے میں اپنے ملک کے دشمن کا خاتمہ کر دیں گے لیکن 9سال بعد صورتحال مکمل طور پر الٹ ہے۔نہ دشمن کا خاتمہ ہو سکا اور نہ امریکی افواج کی افغانستان سے واپسی کی کوئی امید نظر آ رہی ہے۔
امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جہاں مسلم سوسائٹی بری طرح متاثر ہورہی ہے وہاںاس کی مسلمان مخالف پالیسیوں سے دنیا کے امن کوشدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں ۔حریت تحریکوں اور دہشت گردی میں تفریق وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے ۔جب تک بین الاقوامی سطح پرجدوجہد آزادی اور دہشت گردی کی جامع تعریف نہیں کی جاتی ہمیں دہشت گردی کاعذاب جھیلنا پڑے گا ۔
 
 

Email to:-

 
 
 
 
 
 

© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved

Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved