|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
Telephone:- |
Email:-
|
|
کالم نگارحافظ
منصورجگیوٹ کے مرکزی صفحہ پر
جانے کے لیے کلک
کریں |
|
|
|
تاریخ اشاعت:۔2010-08-12 |
|
ہندوستان میں مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ |
|
|
|
کالم۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
حافظ منصورجگیوٹ |
تحریر: حافظ منصور جگیوٹ
ہندوستان کے قائدین اور عوام اپنے ملک کو
سیکولرازم اور مذہبی رواداری کا گہوارہ قرار
دیتے نہیں تھکتے ۔تاہم دنیا میں ہندوستان کی
شناخت اب بھی مذہبی منافرت اور فرقہ پرست ملک
کے طور پر کی جاتی ہے۔جہاں اقلیتوںکو مکمل طور
پر آزادی حاصل نہیں ہے۔اقوام متحدہ کی خصوصی
نمائندہ عاصمہ جہانگیر کی طرف سے ہندوستان میں
مذہبی آزادی کی صورتحال کے بارے میں تیار کردہ
رپورٹ سے ہندوستان کا اصل چہرہ ایک بار پھر
ابھر کر سامنے آگیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے
کہ ہندوستان میں ایک طرف اقلیتوں کے مذہبی
حقوق کے تحفظ کے لیے کوئی ٹھوس قانونی نظام
موجود نہیں تو دوسری طرف قانون نافذ کرنے والے
ادارے مذہب کے نام پر اقلیتوں کے حقوق کی
پامالی کرنے والے ہندو انتہا پسند رہنماو ¿ں
اور دیگر گروپوں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی
سے گریز کرتے ہیں۔ ہندو انتہا پسندوں کے مذہبی
عدم برداشت اور اقلیتوںکے ساتھ تعصب برتنے پر
مبنی رویے نے مسلمان ، عیسائی اور دیگر
اقلیتوں کومسلسل خوف میں مبتلا کر رکھا ہے۔
ہندوستان میںہندو برہمنوں کا اقلیتوں خصوصاً
مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک اور ظلم و ستم
میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ۔ بقول کپل
کومریدی ”ہندوستان کے سیکولرازم کی تشریح کا
دارومدار اب ہندوو ¿ں کی منشاءپر ہے یعنی جو
وہ چاہیں گے وہ ہو گا۔“
امریکہ نے افغانستان پر چڑھائی کی تو دہشت
گردی کے خلاف جنگ کے نام پر مسلمانوں کو دہشت
گرد قرار دیکر صفحہ ہستی سے مٹانے کا سلسلہ
شروع ہوا۔یہ سلسلہ پھیلتے پھیلتے عراق اور پھر
پاکستان پہنچ گیا۔غور طلب بات تو یہ ہے کہ
نائن الیون کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں
کی مسلمانوں پر یلغار کے ساتھ ہی ہندوستان میں
مسلمانوں کا عرصہ حیات بھی تنگ کر دیا
گیا۔مقبوضہ کشمیر کی حالت یہ ہے کہ ماہ جون کے
آغاز سے اب تک مختلف علاقوں میں کرفیونافذ
ہے۔گذشتہ ایک ماہ میں ہندوستانی افواج کے
ہاتھوں 2خواتین سمیت 33کشمیری شہید ہو چکے ہیں۔
کریک ڈاو ¿ن کے دوران 1,400بے گناہ کشمیری
نوجوان گرفتارجبکہ اس کے علاوہ ہزاروںمعصوم
کشمیر ی جیلوں میں بند ہیں۔سیکورٹی فورسز کے
ہاتھوں آبروریزی، ماورائے عدالت قتل اور
انسانی حقوق کی دیگر خلاف ورزیاںمعمول بن چکی
ہیں۔ حکومت ہندکے تمام حربوں کے باوجود
کشمیریوں کی احتجاجی تحریکوں اور مظاہروں
میںابھی تک کمی واقع نہیں ہو سکی۔یقینا یہ
ایسا جذبہ ہے جو کسی قوم کی کامیابی اور
سربلندی کے لیے لازم ہے۔ ہندوستانی افواج اور
سیکورٹی فورسزکی بے گناہ اور معصوم کشمیریوں
کے ناحق خون اور مظالم کے خلاف احتجاجی
تحریکیں اور مظاہرے عالمی برادری سے متقاضی
ہیںکہ مسئلہ کشمیر کو جلد از جلد حل کیا جائے۔
ہندو برہمنوں کے دباو ¿کی وجہ سے ہر ہندوستانی
حکومت مسئلہ کشمیر کے متعلق اقوام متحدہ کی
کسی قرارداد کو سرے سے مانتی ہی نہیں، عمل
درآمد تو بعد کی بات ہے۔
کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حوالے سے اقوام
متحدہ میں قراردادیں موجود ہیں ۔سلامتی کونسل
نے ایک قرارداد میں کشمیر میں رائے شماری
کرانے کا کہا تھا۔جبکہ ہندوستان کے سابق
وزیراعظم جواہر لال نہرونے 1952ءکوبھارتی لوک
سبھا میں یہ بیان دیا تھا کہ”کشمیریوں کو انکی
مرضی کے مطابق فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے گا۔“
لیکن ان سب کے باوجود مسئلہ کشمیر کے حل کے
حوالے سے ہندوستان آج بھی اٹوٹ انگ کی ہٹ
دھرمی پر قائم ہے، جس کی وجہ سے ان قراردادوں
پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔تحریک ِکشمیر کب کی
کامیابی سے ہمکنار ہو چکی ہوتی اگر اقوام
متحدہ غیر جانبداری سے اپنا کردار ادا کرتی۔
وہ اقوام متحدہ ہی تھی جس کی مدد سے مشرقی
تیمور(عیسائی ریاست)کی تحریک کو کامیابی نصیب
ہوئی۔اس سے قبل اقوام متحدہ اسرائیل کی صورت
میں ناجائز ریاست کو جائز قرار دے چکی
ہے۔کشمیریوں کے ساتھ زیادتی صرف مسلمان ہونے
کی وجہ سے ہے۔اقوام متحدہ کا رویہ ہمیشہ
مسلمانوں کے ساتھ دشمنی پر مبنی رہا
ہے۔فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم ہوں یا
کشمیریوں پر بھارتی افواج کی یلغار نہ کہیں
شنوائی ہوتی ہے اور نہ کہیںنوٹس لیا جاتا ہے ۔یہاں
اتحاد ثلاثہ(یہود ،ہنود اور نصاریٰ)قائم ہو
چکا ہے جس کا مقصد اور متفقہ ایجنڈا مسلمانوں
کی تباہی اور بربادی ہے۔اور اس اتحادمیں اقوام
متحدہ بطور معاون اپنا کردار باخوبی نبھا رہا
ہے۔
نائن الیون کے بعد بھارت میں2002ءمیںبس حملہ
سے لے کرفروری 2010ءمیں جرمن بیکری پر دھماکے
سمیت16 بم دھماکے اور حملے ہوئے،جن میں ہر ایک
کا الزام مسلمانوں پر لگا کر انہیں دہشت گرد
قراردیا گیا۔ہندوستان میں چرچ پر حملہ ہو یا
مندر پر ،پارلیمنٹ پر یا ٹرین پر،سینما گھر پر
ہو یا ہوٹل پر اس کا الزام بلا سوچے سمجھے
مسلمانوں اور پاکستان پر لگا دیا جاتا ہے۔غضب
تو یہ ہے کہ مسلمانوں کے قبرستان ، مساجد اور
درگاہوں پر ہونے والے حملے بھی مسلمانوں کے
کھاتے میں ڈالے دیئے جاتے ہیں۔مہاراشٹر میں
2002ءمیں مساجد پر بم حملے ،ستمبر 2006ءکو
مالیگاو ¿ں پر بم حملہ یا اکتوبر2007ءکو درگاہ
اجمیرشریف پر دھماکہ ان سب کا الزام مسلمانوں
پر لگایا گیا۔درحقیقت سوا ارب کی آبادی کے ملک
ہندوستان میں 18کروڑ مسلمان، 25کروڑ دلت
اور2کروڑسکھ ،ہندو برہمن کے ظلم و جبر کا
نشانہ بن رہے ہیں۔ ہندوانتہا پسندی عروج پر
ہے۔ہندوو ¿ں کا فلسفہ ہی دہشت گردی ہے اس لیے
اس کی ترویج کے لیے ہندو انتہا پسند تنظیمیں (آر
ایس ایس ،سناتن سنستھا پربھات، ابھیناو بھارت،
وشوا ہندو پریشد، ونواسی کلیان، ہندو مانی،
بجرنگ دَل،راشٹریہ جگران منچ، بندے ماترم جن
کلیان سمینی ، راشٹر وادی سینا، مہاشٹر نریمان
سینا، سنکھ پریواروغیرہ وغیرہ) ملک میں مختلف
مقامات پر بم دھماکے اور دہشت گرد کارروائیاں
منعقد کراکے اپنے مقاصد حاصل کرتی ہیں ۔
ہندوستانی صحافی کلدیپ نیئرکا13مئی
2010ءکولکھا ایک مضمون Between the Linesبطور
گواہی ملاحظہ کریں ۔جس میںموصوف نے انکشاف کیا
ہے کہ” ہندو طالبان کے رابطے انتہائی بدنام
زمانہ ہندو تنظیم آر ایس ایس کے ساتھ ہیں
جودرگاہ اجمیر شریف 2007ئ، حیدرآباد مکہ
مسجد2007ئ،سمجھوتہ ایکسپریس، مالیگاو ¿ں،گووا
کے بم دھماکوں میں ملوث ہے۔ اورانٹی ٹیررسٹ
سکواڈ کے چیف ہیمنت کرکرے کی ہلاکت کے پیچھے
بھی ان ہندو تنظیموں کا ہاتھ ہے۔“ اگست
2008ءمیں ہندوستان کے سکیورٹی ایڈوائزر ایم کے
نارائنن نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ” اس
وقت ملک میں آٹھ سوسے زائد دہشت گرد گروپ
متحرک ہیں“۔اس بنیاد پر یہ کہنا غلط نہ ہو گا
کہ ہندوستان دہشت گردوں کی جنت ہے۔ جن کی
موجودگی کے باعث ہندوستان دنیا کا سب سے
خطرناک ترین ملک بن چکا ہے ۔غور طلب امر یہ ہے
کہ ماسوائے تحریکِ کشمیر کے ایک بھی تحریک یا
گروپ ایسا نہیں جس میں مسلمانوں کی شرکت ثابت
ہو ۔لہذا محض شک کی بنیاد پر دہشت گردحملوں
اور دھماکوں کاالزام ہندوستان میں بسنے والے
مسلمانوں اور پاکستان پر لگاناصریحاً ناانصافی
ہے؟
ہندوستان سماجی طور پر تنگ نظر ملک ہے جہاں
2002ءمیں گجرات کے مسلم کش فسادات اور
2008ءمیں اڑیسہ میںعیسائیوں کے خلاف شدت پسند
ہندو تنظیموں کی پرتشدد مہم دنیا کے سامنے ہے۔
بہرحال بات چاہے انسانی حقوق کی ہو یا دہشت
گردی کی ،ہندو ستان کا دوغلا پن دنیا پر واضح
ہو چکا ہے ۔
|
| |
|
|
|
|
|
|
 |
 |
|
|
 |
|
|
 |
|
|
|
|
|
© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved |
|
Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved
|