|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
Telephone:- |
Email:-
|
|
کالم نگارحافظ
منصورجگیوٹ کے مرکزی صفحہ پر
جانے کے لیے کلک
کریں |
|
|
|
تاریخ اشاعت:۔2010-09-01 |
|
سیلاب:ناگہانی آفت |
|
|
|
کالم۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
حافظ منصورجگیوٹ |
دہشت گردی کی بھڑکتی آگ تو ایک عرصہ سے ہمارے
وطن عزیز کو جلا رہی تھی۔قوم طیارے کے دل خراش
حادثے سے نڈھال تھی ۔ غم تھورا ہلکا ہوا تھا
کہ کراچی اور بلوچستان کی مٹی ہم وطنوں کے لہو
سے رنگین ہونے لگی اور سیلاب کا پانی ہمارے
سروں سے گزرنے لگا۔یہ حقیقت ہے کہ ناگہانی
آفات سیلاب،طوفان،زلزلے بدقسمت حادثات ہیںجن
سے بہت سارے لوگ متاثر ہوتے ہیں۔حالیہ سیلاب
کی تباہ کاریوں سے جہاں ہر پاکستانی آبدیدہ ہے
وہاں بین الاقوامی برادری بھی گزشتہ سوسال کے
دوران خطے میں آنے والے بدترین سیلاب پرصدمے
میں ہے۔سیلابی ریلے جس طرح بار بار تباہی مچا
رہے ہیں اس تناظر میں نقصانات ہر آنے والے دن
بڑھتے جا رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے ادارے نے
پاکستان میں سیلاب کو دنیا کا بہت بڑا بحران
قرار دیا ہے ۔اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سیلاب
کے متاثرین کی تعداد 13.8ملین کی حد سے بڑھ
جائےگی۔ادارے کے مطابق پاکستان پر نازل ہونے
والی اس تباہی کا حجم2004ءمیںسونامی،2005ءمیں
جنوبی ایشیا میں آنے والے زلزلوں اور 2010ءمیں
ہیٹی کے زلزلے کی مجموعی تباہی سے کہیں زیادہ
ہے۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہر قسم کی
فصلیں تباہ ہو چکی ہیں۔خوراک کے ذخائراورلائیو
سٹاک کا شعبہ تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکا
ہے۔ ایسے میں آنے والے دنوں میں خوراک کا ایک
ایسا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے جس کا تصور
بھی رونگھٹے کھڑے کردینے کے لیے کافی ہے۔فیڈرل
فلڈ ریلیف کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق
سیلاب سے متاثرہ47 لاکھ 19ہزار 845ایکڑ زمین
میں سے41لاکھ50ہزار38ایکڑ پر کاشت کردہ فصلیں
تباہ ہو گئیں جبکہ ایک لاکھ 87ہزار 473مویشی
ہلاک ہوئے ہیں۔
ملک کا چوتھائی حصہ زیر آب،زرعی زمین اور کھڑی
فصلیں،مواصلات کا نظام، ہسپتال ، سکول تباہ ہو
چکے ہیں۔ بیماریوں نے بے گھرلوگوں کو اپنی
لپیٹ میں لینا شروع کر دیا ہے۔سیلاب ختم ہونے
کے بعد بھوک ، پیاس، بیماری اور دیگر بحران
جنم لے سکتے ہیں۔سیلاب زدگان کے لیے اس وقت سب
سے زیادہ اور فوری ضرورت خیموں کی ہے تاکہ
لوگوں کو عارضی چھت مل سکے۔اکثر علاقوں میں
متاثرین خیموں کے بغیر ہی کھلے آسمان تلے
زندگی بسر کر رہے ہیں۔آلودہ پانی کے استعمال
سے ہیضہ ،جلدی بیماریاںاور دیگرامراض جنم لے
رہے ہیں۔متاثرین کو طبی سہولتوں کی عدم
دستیابی اور حکومتی امداد میں تاخیر سے نئے
خدشات جنم لے رہے ہیں۔امریکی میڈیا کے مطابق
اکتوبر2005ءکے زلزلے کی طرح سیلاب زدہ علاقوں
میں شدت پسند گروپ متاثرین کی سب سے زیادہ
مددکرتے نظر آرہے ہیںاور اپنا اثرورسوخ بڑھا
رہے ہیں۔ شدت پسند گروپوں کوروکنے کے لیے
دنیاسیلاب زدگان کی مزید مدد کرے۔ امریکی
اخبار وال سٹریٹ جرنل نے لکھا ہے کہ شدت پسند
گروپ اپنے اثرورسوخ کو وسعت دینے کے لیے سماجی
خدمت کر رہے ہیں۔اخبار کے مطابق امدادی
کارروائیوں کی آڑ میںان گروپوں کو جو عوامی
حمایت حاصل ہو رہی ہے اس سے افغانستان میں
امریکی مشن کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔نیویارک
ٹائمز کے مطابق سیلاب سے پاکستان میںموجود
15لاکھ افغان مہاجرین بھی بری طرح متاثر ہوئے
ہیںاور ا نتہا پسند اس ناگہانی آفت کو استعمال
کر کے عوام کی ہمدردیاں حاصل کر سکتے ہیں۔
سیلاب کی تباہ کاریوں سے جہاں ساری قوم اضطراب
میں مبتلا ہے وہاں غیر ملکی طاقتیں کوچاہیے کہ
اپنے مفادات اورسیاست کو پس ِپشت ڈال کر
پاکستانی عوام کی دل کھول کر امداد
کریں۔امریکہ سمیت دیگر عالمی طاقتیں دہشت گردی
کے خلاف جنگ اور اپنے مفادات کے حصول کے لیے
پاکستان سے اس کی استطاعت سے کہیں زیادہ
قربانیوں کا تقاضا کرتی ہیں۔اب جبکہ پاکستان
دہشت گردی کے بعد سیلاب جیسی ناگہانی آفت سے
نبردآزما ہے تو کولیشن سپورٹ فنڈ سے اس کے حصے
میں آنے والی 1.5 بلین ڈالرکی ادائیگی میں
تاخیرنہیں کرنی چاہیے۔ دہشت گردی کی جنگ سے
متاثرہ پاکستان کے لیے فرینڈز آف ڈیموکریٹک کی
بہت ساری میٹنگز میں 5بلین ڈالر کے وعدے کئے
گئے لیکن بدقسمتی سے پاکستان کو 1بلین ڈالر تک
بھی وصول نہیں ہوئے۔ جنوبی ایشیا کی تاریخ کے
اس سب سے بڑے بحران کی موجودگی میںامریکہ سمیت
عالمی طاقتیں اوردیگر عالمی برادری کی
امدادصرف وعدوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ
عملی طور پر اقدامات کی ضرورت ہے۔
ہم بدقسمتی سے وہ قوم بن چکے ہیں جو کبھی پانی
کی کمی کے باعث پیاس سے مرجھائی رہتی ہے تو
کبھی پانی کی زیادتی میں غرق ہو جاتی ہے۔یہ
سیلاب ہمارے لیے آزمائش تو تھا،لیکن اگر ہم
تدبیراور قومی یک جہتی سے سیاسی نفرتوں اور
تعصبات کو پس پشت ڈال دیں توا س میں سیکھنے کے
لیے بہت سبق بھی ہیں۔بلا شبہ اس وقت پاکستان
میں سیلاب نے زبردست تباہی مچارکھی ہے
مگرپاکستان کومستقبل میں سیلاب کی تباکاریوں
سے بچانے،زرعی آب پاشی اور بجلی کی ضروریات کو
پورا کرنے کے لیے نئے ڈیم بنانا انتہائی لازم
ہو چکا ہے۔ پاکستان میں ڈیم اور آبی ذخائر
وافر تعداد میں نہ ہونے کے باعث محتاط اندازے
کے مطابق کم سے کم 25ملین ایکڑ فٹ پانی ضائع
ہو جاتا ہے۔جبکہ حالیہ تیز بارشوں اورسیلاب سے
ضائع ہونے والے پانی کی مقدار بہت زیادہ ہے۔آج
اگرکالاباغ،بھاشا، منڈا،کرم تنگی اور اکوڑی
ڈیم کی تعمیر میں سنجیدگی کا مظاہر ہ کیا جاتا
تو سیلاب کا سارا پانی ان ڈیموں کے دامن میں
سما جاتاجو کئی برسوںکے لیے رحمت بن جاتا |
| |
|
|
|
|
|
|
 |
 |
|
|
 |
|
|
 |
|
|
|
|
|
© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved |
|
Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved
|