اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-970-3200 / 0333-832-3200       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Telephone:-

Email:-
 

کالم نگارحافظ منصورجگیوٹ کے مرکزی صفحہ پر جانے کے لیے کلک کریں

 

تاریخ اشاعت:۔2010-10-23

ہمارا کردار اور سماجی ذمہ داریاں
کالم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حافظ منصورجگیوٹ

پاکستان کے حالات سے کون واقف نہیں ہے۔ہر پاکستانی جانتا ہے کہ ہمارا ملک پاکستان اس وقت ان گنت پریشانیوں ،مصائب اور ناگہانی آفات میں گھرا ہے۔ملکی معیشت ڈوب رہی ہے اور عام آدمی کی زندگی اجیرن بن چکی ہے۔ مہنگائی نے عوام کو اپنے بچے فروخت کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔بجلی کی لوڈشیدنگ میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے جس سے کاروبار متاثر ہو رہے ہیں۔ساتھ ہی بجلی کے بلوں میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ٹارگٹ کلنگ، دہشتگردی، چوری ڈکیتی،خودکش حملے، ڈرون حملے عروج پر ہیں۔ملک بھر میں بدامنی کی فضا قائم ہے اور وطن عزیز پرناگہانی آفات کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ سیلاب کے بعد وکی لیکس اور ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹس پٹاخے اور آتش بازی کے سامان سے مزین ضرور ہے مگر قوم کے لیے فکر انگیزدستاویزات بھی ہے۔ان دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے حکمران خواہ فوجی ہوں یا سیاستدان کس طرح امریکہ کی جی حضوری کرتے ہیں۔اس وقت پاکستانی عوام نے بڑا واویلا کیا تھا جب ایک امریکی وکیل نے کہا تھا کہ”پاکستانی امریکہ کے ویزے، شراب اور ڈالر کی خاطر اپنی مائیں بھی بیچ دیتے ہیں۔“(ڈاکٹر عافیہ کی مثال ہمارے سامنے ہے )مگروکی لیکس کی دستاویزات کے افشاءہونے سے آج یہ حقیقت پوری دنیا کے سامنے عیاں ہو چکی ہے ۔آج پاکستان کی تباہی کی وجہ وہ ذاتی مفادات ہیںجنکے ہمارے لیڈر صاحبان اسیر بنے ہیں۔ٹرانسپرنسی کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے لیڈروں سمیت عام شہری تک اپنے ہاتھوں سے ملک کی تباہی کے لیے اس کی ایک ایک اینٹ اکھیڑ رہے ہیں۔ صنعت ،تجارت،ریلوے،قومی ایئرلائن،کالاباغ ڈیم،بجلی چینی،گیس،پٹرول کے پیچھے سازشوں کے تانے بانے ہیں۔ملک میں امریکیوں کو اڈے دینا،ڈرون حملوں کی اجازت اور صرف دکھاوے کے احتجاجی بیانات ،بلوچستان کو توڑنے،قبائلی پٹی کی نارضگی،تھرکول،سونے کی کانوں سے ملک کو فائدہ نہ پہنچنے دینے کے پیچھے ہمارے اپنے ہی ہیں۔عوام کو ان مسائل سے لاعلم رکھنے اور اپنی کرپشن کو چھپانے کے لیے ہمارے حکمران انتہائی ڈھٹائی سے جھوٹ بولتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ کرپشن ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ہمارے ملک کو رب العالمین نے ہر قسم کی نعمتوںاور صلاحیتوں سے نوازہے ،مگر کرپشن کی وجہ سے ملک ترقی کی راہوں سے دور ہو گیا ہے۔سابق وزیر اعظم خالد معراج (مرحوم) نے سچ کہا تھا کہ”سارا معاشرہ کرپٹ ہے۔“یکم ستمبر2010ءکو زندہ دلانِ لاہور نے گدہوں پر آصف،عامر اور سلمان بٹ کے سٹیکر لگا کر پاکستان اور کرکٹ سے انتہائی درجہ محبت اور لگاو ¿ کا اظہار کیا ۔مگر یہ انوکھا احتجاج ہر ذی شعور کے سوچنے کے لیے کئی سوالات چھوڑ گیا۔کیا کرپشن صرف کرکٹ میں ہے؟کیا باقی معاشرہ اور ادارے کرپشن جیسے ناسور سے پاک ہیں۔کیا ہمارا معاشرہ ایسے افراد پر مشتمل ہے جن کے ماتھوں پر زہدوتقویٰ کے محراب بنے ہیں؟کیا ہمارے ہاں کرکٹ کے علاوہ جوڑتوڑ اور فکسنگ نہیں ہوتی؟ کیا آئین،تعلیم اور انصاف کرپشن سے پاک ہیں؟کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کی میچ فکسنگ سے ہمارے سر شرم سے جھکے تو یہ کس کی ذمہ داری ہے؟کیا صرف کھیلوں میں کرپشن ہے؟کیا جعلی ڈگریوں کے حامل سیاستدانوں کو ہم نے ووٹ نہیں دےے؟کیا آئین توڑنے والوں اور انصاف خریدنے والوں کا ساتھ ہم نے نہیں دیا؟ہم کرکٹرز کی کارکردگی پر آگ بگولہ ہوتے ہیں مگر کیا ہم پاکستان ہاکی ٹیم کی گذشتہ دس سال کی کارکردگی سے آگاہ نہیں؟سکوائش میںگذشتہ 18سال کی کارکردگی سے بھی آشنا ہیںپھر گذشتہ ان سالوں میں ہمیں شرم کیوں نہ آئی؟الغرض عام شہری، استاد، ملاّ، سیاستدان، بیوروکریٹ، تاجر، صحافی، سرکاری ملازم، صنعتکار، فنکار،کھلاڑی بلکہ سارا معاشرہ کرپشن میں مبتلا ہے۔ہم نے ان سب کی کرپشن کو کیوں برداشت کیا ؟کیا ہمار ا کردار ٹھیک ہے اور یہی ہماری ذمہ داریاں ہیں؟
ایک اندازے کے مطابق ہرسال پاکستان میںایک ہزار ارب روپے کرپشن کی نذر ہو جاتے ہیں۔آج سے تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ منظر عام پر آئی تھی جس میں دنیا میں کرپشن کے لحاظ سے ہم آٹھ درجے اوپر آگئے تھے۔تو اس وقت بجائے کہ ہم اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھتے ہماری حکومت نے انتہائی ڈھٹائی سے اسے مسترد کرتے ہوئے اسے یہودیوں کا ایجنٹ قرار دیا تھا۔ لیکن حالیہ حج سکینڈل اس رپورٹ کے سچے ہونے کی گواہی دے رہا ہے۔دل خون کے آنسوروتا ہے کہ ہمارے حجاج کرام بدترین کرپشن کا شکار ہو کر دیار حرم میں رلتے رہے۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے حالیہ سروے کے مطابق پاکستان میں تین برس کے دوران کرپشن میں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں پارلیمنٹ،سیاسی جماعتیں اورپولیس انتہائی کرپٹ ہیں۔
بات سیدھی اور صاف ہے کہ ہم کو نہ خدا کے عذاب کا ڈر ہے اور نہ قومی وقار کا خیال۔پوری قوم بہتری کے لیے حکومت سے انقلابی اقدامات کی توقع کر رہی ہے مگر اقتدار کے ایوانوں سے مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو رہا۔آج ہمیں جتنی مشکلات ، خراب حالات اور بے حس حکمرانوں کا سامنا ہے وہ سب ہماری اپنی ہی بدولت ہیں۔کیونکہ ہم نے نماز، قرآن و حدیث کی تعلیمات کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔اس خالق کے احکامات کو بھلا دیا ہے۔مسلمانوں کے ایک دوسرے پر کیا حقوق و فرائض ہیںان سے غافل ہو چکے ہیں۔پیسے کی ہوس نے ہمیں بے حس کر دیا ہے۔

 
 
 

Email to:-

 
 
 
 
 
 

© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved

Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved