|
وفاق المدارس
العربیہ پاکستان کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے شیخ
الحدیث مولانا سلیم اللہ خان صاحب دامت
برکاتہم العالیہ کی قیادت میں صوبہ خیبر
پختونخواہ کے گور نر اویس احمد غنی سے ملاقات
کی ۔ وفد میں مولانا انوار الحق، مولانا قاضی
عبد الرشید ،مولانا مفتی کفایت اللہ ،مولانا
عبید اللہ خالد،مولانا حسین احمد اور راقم
الحروف شامل تھے ۔علمائے کرام کی نمائندگی اور
ترجمانی کرتے ہوئے میں نے گور نر صاحب کی خدمت
میںجو معروضات پیش کیں ان کا خلاصہ پیش خدمت
ہے۔
” آپریشن سے متاثرہ علاقوں کے بارے میں ہمیں
یہ تشویشناک اطلاعات موصول ہو ئی ہیں کہ وہاں
بہت سی مساجد کو شہید کردیا گیا ، کئی مدارس
میں بارود رکھ کر انہیں ملبے کاڈھیر بنادیاگیا،
بہت سی مساجد اوردینی مدارس کو بمباری سے جزوی
طور پر نقصان پہنچا ۔ہمارے پاس ان مساجد کی
فہرست بھی موجودہے اور تصاویر بھی لیکن ہم
دانستہ طور پر انہیں عوامی حلقوں میں سامنے
نہیں لاتے ورنہ پورے ملک میں اضطراب و اشتعال
کا طوفان آجائے گا۔ ہمارے لیے یہ بات بالکل نا
قابل فہم ہے کہ عمارتوں کا کیا قصور ہے جس کی
بنیا د پر انہیں مسمار کرنا ضروری سمجھا جا تا
ہے حالانکہ دنیا کے تمام مذاہب میں عبادت
گاہوںاور مقدس مقامات کو ہر گزنشانہ نہیں
بنایا جاتا، دشمن کے مذہبی مقامات کا تقدس بھی
ملحو ظ رکھا جاتاہے جبکہ یہاں خو دمسلمانوں نے
اپنے مذہبی مقامات کو نشانہ بنایا ہے جس پر جس
قدر افسوس کا اظہار کیا جائے کم ہے ۔ ہمارا
پہلا مطالبہ تویہ ہے کہ حکومت متاثرہ علاقوں
کے ماسڑپلان میں مساجد و مدارس کو خصوصی اہمیت
کے ساتھ شامل کرے اور ان کی تعمیرِ نو کو اپنی
اولین تر جیح قرار دے کیونکہ یہ تمام مدارس
ومساجد لوگوں نے پائی پائی جوڑ کر اور چندہ کر
کے بنوائے تھے ۔
دوسری بات یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے باربار یہ
دعویٰ کیا جاتا ہے کہ مالاکنڈڈویژن او ر دیگر
علاقوںمیں تما م معمولاتِ زندگی بحال ہو چکے
لیکن افسوسناک اطلاعات یہ ہیں کہ مدارس کو
اپنا تعلیمی سلسلہ بحال کر نے کی اجازت نہیں ،ایسے
مدارس جہاں طلبہ ہاسٹلز میں اقامت پذیر ہیں
وہاں طلبہ کی رہائش پرمکمل پابندی ہے جس کی
وجہ سے دو ر افتادہ اورپسماندہ علاقوں کے
طلباءتعلیم کے بنیادی حق سے محروم ہیں۔ اس لئے
ہمارا مطالبہ ہے کہ ان طلباءکو تعلیم کے
بنیادی حق سے محروم نہ کیا جائے ، مدارس کی
تعلیمی سر گر میوں میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ
ڈالی جائے اور نہ ہی مدارس کے ہاسٹلز میں طلبہ
کی رہائش پر پابندی عائد کی جائے ۔
تیسرے نمبر پر افغان طلباءکا معاملہ زیر بحث
آیا اور ہم نے گورنر صاحب سے گزارش کی کہ
افغان طلبہ ہمارے عصری تعلیمی اداروں میں
تعلیم حاصل کررہے ہیں،یہاںافغان نژاد لوگوںکو
کاروبار کرنے ، رہائش اختیار کرنے حتیٰ کہ
زمینیں خریدنے کی آزادی اور اجازت ہے اگر نہیں
تو افغان طلبہ کو دینی مدارس میں پڑھنے کی
اجازت نہیں۔ یا تو تمام افغانوں کو اپنے وطن
واپس بھیجا جائے اور انہیں یہاں کسی قسم کی
سرگرمی کی اجازت نہ ہو اوراگر وہ با قی کام کر
سکتے ہیں تو پھر صرف مدارس کے معاملے میں ان
سے امتیازی سلوک روا نہ رکھا جائے ۔ان تینوں
معاملات میں گورنر نے مکمل اور ہر ممکن تعاون
کی یقین دہانی کروائی اورشہید ومتاثرہ مساجد
ومدارس کی تعمیر نو کا وعدہ بھی کیا ،مدارس
میں تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے اور طلباءکی
رہائش پر سے پابندی اٹھانے کا وعدہ بھی کیااور
افغان طلباءکو تعلیم کے بنیادی حق سے محروم نہ
کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا ۔اب دیکھنا یہ
ہے گورنر کی ان یقین دہانیوں اور وعدوں کا
عملی طور پر کیا نتیجہ نکلتا ہے ؟
ایجنڈے میں شامل ان بنیادی تین موضوعات کے
علاوہ بھی دیگر موضوعات زیر بحث آئے ۔ جن
موضوعات میں سے صوبے میں جاری آپریشن ،ڈرون
حملوں ،عسکریت پسندی ،نظام عدل ریگولیشن ،لاہور
اجلاس کا اعلامیہ اور لسانی ومسلکی آویزش
وغیرہ بطور خاص قابل ذکر ہیں ۔ ہم نے گورنر
صاحب کے سامنے اپنے دیرینہ موقف کا اعادہ کیا
کہ شورش زدہ علاقوں میں طاقت کا استعمال مسئلے
کا حل نہیں۔ بات چیت او ر افہام و تفہیم سے
بھی کام لیا جائے ،اچھے برے اور اپنے پرائے کی
تمیز بھی کی جائے اور بالخصوص عسکریت پسندی کے
اسباب پر توجہ دی جائے۔ہم نے ڈرو ن حملوں کی
روک تھام کے لیے جرا ¿ت مندانہ کردار ادا کرنے
کا مطالبہ بھی کیا اور ان سے یہ بھی کہا کہ
مالاکنڈ ڈویژن کے عوام کا نفاذِ اسلام
کامطالبہ اب آپ کو از خود تسلیم کرلینا چاہیے
اور نظامِ عدل ریگولیشن کا ذاتی دلچسپی لے کر
نفاذ کردینا چاہیے کیونکہ پہلے حکومت کی طرف
سے یہ عذر سامنے آتاتھا کہ عسکریت پسندوںکی
طرف سے معاہدوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے یا یہ
بہانہ کیاجاتا تھا کہ صوفی محمد نظام عدل کے
نفاذ میں رکاوٹ ہیں لیکن اب تو ایسا کوئی عذر
باقی ہے اورنہ ہی کوئی رکاوٹ موجود ہے اس لئے
آپ کو وہاں کے عوام کو ان کا یہ حق ضرور
دیناچاہیے اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر اس میں
مزید تاخیر ہوئی تو حالات معمول پر آنے کی
بجائے مزید بگاڑ پیداہونے کا خدشہ ہے ۔
اس موقع پر گورنر کی طرف سے یہ بات بھی سامنے
آئی کہ اس وقت پاکستان اور اسلام دشمن قوتو ں
کی طرف سے لسانی اور مسلکی بنیادوں پر ملک میں
تقسیم و تفریق او ر قتل و غارت گری کے
شدیدخطرات منڈلارہے ہیںجس میں علماءکرا م کو
کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس پر ہم نے ان سے عرض
کیا کہ جہاں تک لسانی بنیادوں پر جھگڑے کی بات
ہے اس کی بنیاد تو آپ نے خود ہی رکھی ہے اور
عوام کے بنیاد ی مسائل و مشکلات پر توجہ دینے
کی بجائے آپ نے خواہ مخواہ پختونخواہ کا مسئلہ
کھڑا کر دیا جس کی وجہ سے پورے ملک میں ایک
ہلچل برپا ہوگئی ہے۔ ہزارہ میںجوکچھ ہورہاہے
وہ آپ کے سامنے ہے ، عنقریب بلوچستان میں بلوچ
اور پختون تفریق کی تحریک میں تیزی آجائے گی،
اسی طرح جنوبی پنجاب میں صوبے کی تحریک زور
پکڑتی جا رہی ہے ۔اس صورتحال کا تدار ک آ پ ہی
بہتر انداز سے کرسکتے ہیں ۔اس پر گورنر کا
کہنا تھا کہ میں توصوبے کے نام کی تبدیلی کے
حق میں نہیں تھا اور میں نے صوبائی ذمہ داران
سے پہلے بھی بات کی تھی کہ اس معاملے کو اگر
ہوا نہ دی جائے تو زیادہ بہتر ہو گا ۔
جہاںتک مسلکی اختلافات کا معاملہ ہے ا س کے
بارے میں گورنر نے ملی یکجہتی کونسل کا حوالہ
دیا جس پر ہم نے ان کے سامنے واضح کیاکہ
علماءکی طرف سے بین المسالک ہم آہنگی کی بہت
قابل قدر کو ششیں ہوئیں لیکن بدقسمتی سے
خودسرکاری اداروں کی طرف سے اس محنت کو سبو
تاژ کر دیا جاتاہے ۔ملی یکجہتی کونسل میں
فریقین کو ہم ایک ٹیبل پر بٹھانے میں کامیاب
ہوگئے تھے،بہت سے معاملات میں افہام وتفہیم کی
فضا پیدا ہو گئی تھی لیکن اسی اثناءمیںسرکاری
اداروں نے خود شدت پسند تنظیمیں کھڑی کیں اور
وہ مشن ناکام ہوگیا ۔ہم سمجھتے ہیں کہ مسلکی
تنازعات کی سب سے بڑی بنیاد ”توہین“ ہے اگر یہ
بنیاد ختم کردی جائے تو کسی قسم کے مسلکی
جھگڑے کا کوئی امکان باقی نہیں رہے گا لیکن یہ
کام حکومت کرسکتی ہے کیونکہ علماءکے پاس قوت
نافذہ نہیں اور جن کے پاس قوت نافذہ ہے وہ جب
تک معاملات کنٹر ول میں ہوتے ہیں اس وقت تک
خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں اور جب پانی سر سے
گزرنے لگتا ہے اس وقت ہاتھ پاﺅ ں مارنے لگتے
ہیں ۔
اس موقع پر صوابی کے علاقے بام خیل میں واقع
دینی مدرسہ معہد الصدیق پر رات کے بارہ بجے
حساس اداروں اور پولیس کی نفری کے چھاپے کا
معاملہ بھی گورنر کے نوٹس میں لایا گیا اور
انہیں بتایا کہ وہاں پر کمسن طلباءکی قمیصیں
اترواکر انتہائی توہین آمیز انداز سے تلاشی لی
گئی ،چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کیا
گیا ،درسگاہوں کی بے حرمتی کی گئی،بچوں کی
نقدی غائب کی گئی ۔اس کارروائی کو اشتعال
انگیزقرار دے کر ہم نے گورنر سے اس واقعے میں
ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے کا
مطالبہ کیا جس پر گورنر نے بھرپور کارروائی کی
یقین دہانی کروائی اور آئندہ اس قسم کے چھاپوں
کی روک تھام کی ہدایات جاری کرنے کا وعدہ کیا
۔
بہرحال مجموعی طور پر گورنر اویس احمد غنی سے
ملاقات بہت خوشگوار ماحول میں ہوئی اور اگر اس
موقع پر زیربحث آنے والے معاملات پر سنجید گی
سے پیش رفت ہوئی تو امید ہے کہ مجموعی طور پر
ملکی حالات اور بالخصوص متاثرہ علاقوں میں
بہتری کے آثار نمایاں ہوں گے ۔
|