اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-250-3200 / 0333-585-2143       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 

Email:-mabdullah_87@hotmail.com

Telephone:-          

 

 

 
 
 
   
 

 

 
 
 
   
 

 

 

تاریخ اشاعت19-05-2010

یہ ہے   NGOs اصل چہرہ

کالم۔۔۔ مفتی عبداللہ شارق

سوات سے منسوب بدنامِ زمانہ جعلی ویڈیو کو یقینا آپ بھولے نہیں ہوں گے ،جو حکومت اور اہلِِ سوات کے مابین طے پا نے والے معاہدہ نظامِ عدل کو ناکام بنانے اور پختونوں کو ان کی دینی عصبیت کا مزہ چکھانے کے عالمی (خصوصاً امریکی ) ایجنڈے کی تکمیل میں اہم سنگِ میل ثابت ہوئی تھی ۔ آپ کو یہ جان کر حیر ت ہوگی کہ ایک سال کے مختصر ترین عرصہ میں ہمارے چست اور قابلِ فخر تحقیقاتی اداروں نے اس ویڈیو پر اپنی تحقیقات کے حتمی نتائج حاصل کرلیے ہیں ۔اگرچہ حکومت کی طر ف سے ان نتائج کو مخفی اور صیغہءراز میں رکھنے کی کوشش کی گئی ہے مگر ”جاسوس صحافی “آج ایسی چیزوں کو کہاں پوشیدہ رہنے دیتے ہیں ۔ چنانچہ اس حوالہ سے 29 مارچ کو روزنامہ جنگ کے صفحہ نمبر 3 پر بالکل آخر میںآن لائن کے حوالہ سے یہ دوکالمی خبر لگی ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں :
پشاور(آن لائن) سوات میں راہِ راست آپریشن سے قبل خاتون کو کوڑے مارے جانے کی ویڈیو جعلی ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔ یہ انکشاف فلم تیار کرنے والے سوات کے شہری نے گر فتاری کے بعد کیا ہے ۔ ملزم نے اسے ڈرامہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک این جی او نے ا نہیں اس کام کے لیے پانچ لاکھ روپے دیے ۔ آپر یشن کے بعد مذکورہ ویڈ یو فلم میں دکھائے گئے بچوں کو حساس اداروں نے اپنی تحویل میں لیاتھا جبکہ ویڈیو تیار کرنے والے سوات کے شہری کو کوہاٹ انتظامیہ نے گرفتارکیا تھا ۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ گرفتار بچوں اور سوات کے شہری کو تحویل میں لینے کے بعد ان سے تحقیق کی گئی ،جس کے دوران گرفتار ملزم نے بتایا کہ وہ اسلام آباد کی ایک این جی او میں کام کرتاہے اور اسلام آباد ہی کی ایک این جی اور کی جانب سے پانچ لاکھ روپے فراہم کرنے کے بعد یہ ویڈیو تیار کی گئی تھی تاکہ صوبائی اور وفاقی حکومت کی بدنامی عالمی سطح پر کی جاسکے ۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ جس لڑکی کو کوڑے مارے گئے ہیں ، اس لڑکی کو بھی شاملِ تفتیش کیا گیاجس نے بتایا کہ مذکورہ ملزم نے اسے ایک لاکھ روپے جبکہ دونوں بچوں کو بچاس پچاس ہزار روپے دےے تھے اور اسے کہا گیا تھا کہ وہ ایک ڈرامہ کررہا ہے ۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کامیاب کارروائی میں....“
اگر دیکھا جائے تو اس خبر میں بظاہر کوئی ایسی نئی بات نہیں ہے جسے ”انکشا ف “کا نام دیاجائے سوائے اس کے کہ اس کی جعلیت کے پسِِ پر دہ کہانی کے چند کردار سامنے آگئے ہیں یاپھر یہ کہ حکومتی تحقیقات نے بھی ان خدشات کی تصدیق کردی ہے جن کا اظہار آج سے ایک سال قبل ہی آزاد صحافتی ذرائع اور خصوصا ً مذہبی حلقے کرچکے تھے، مگر حکوت نے اس وقت ان پر کان دھرنے کی بجائے الٹا اس ویڈیو کے ڈرامائی انداز میں منظرِِ عام پر آنے اور اس کے ساتھ رائے عامہ کے راتوں رات آپر یشن کے حق میں تبدیل ہوجانے کو اپنے لیے نعمتِ غیر مترقبہ سمجھتے ہوئے فوراََامریکی دباو ¿ کے آگے سرِ تسلیم خم کر کے معاہدہ نظام عدل کو منسوخ کیا اور عام آبادی کو انخلاءکا کافی وقت دیے بغیر بھاری اسلحہ کے ساتھ وہاں چڑھائی کردی جس کی اندر ہی اندر نہ جانے کب سے تیار یاں ہورہی تھیں ؟ حق تو یہ ہے کہ ہمارے حکم رانوں کو اس ویڈیو اور اس کے تخلیق کاروں کا احسان مند ہونا چاہیے کہ انہوںنے ان کی اس پریشانی کود ور کردیا جو انہیں ایک طرف امریکا کے دباو ¿ اور دوسری طرف عوام کے احتجاج کے خوف کی شکل میں لاحق تھی ۔
مذکورہ بالا خبر نہ صرف ملکی مفادات کے تحفظ کے حوالہ سے ہمارے حکم رانوں کی فرض شناسی اور فکر مندی اور متعلقہ تحقیقاتی اداروں کی بروقت اور کامیاب کارکردگی کا نمونہ پیش کرتی ہے ، بلکہ وطنِ عزیز کے نام نہاد آزاد میڈیا کی آزادی کی صحیح تصویر بھی دکھاتی ہے جس کے بعض عناصر نے تو ہر قسم کی صحافتی دیانت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بغیر کسی تحقیق وتفتیش کے محض اپنے ” کرم فرماو ¿ں “ کو خوش کرنے کے لیے باقاعدہ ایک مہم چلاکر اس جعلی ویڈیو کی تشہیر کی تھی ۔
پھر اس رپورٹ ( بمطابق خبر ) کا ایک افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس میں ویڈیو کومحض ملک اور حکومت کی بدعملی اور جگ ہنسائی کا ذمہ دار قرار دیاگیا ہے ، حالانکہ اس کے منظرِ عام پر آنے سے جس چیز پر سب سے زیادہ طعن وتشنیع اور طنز و تمسخر کے تیر برسائے گئے ، وہ اسلام اور حدود اللہ ہیں ، مگر رپورٹ ( بمطابق خبر )میں اس کا کوئی تذکرہ تک نہیں ہے ۔ گویا اس ملک میں اسلام کی آئینی اور دستوری حیثیت اب ایک ایسے ”عضوِ معطل “ کے سی ہے کہ جس پر کیچڑ اچھالنا ہمارے نزدیک کوئی جرم بھی نہیں ہے ۔ یہ صورتِ حال نظریہءپاکستان کے محافظوں اور رکھوالوں کے لیے ایک المیہ سے کم نہیںہے ۔
اسی طرح یہ ویڈیو ملک بھر میں عموماً اور سوات کے مرغزاروں میں خصوصاً بدامنی اورقتل وغارت گری کے شروع ہونے والے لامتناہی سلسلہ کی خشتِ اول اور تیس لاکھ نفوس کے اپنے ہی ” گھر “ میں بے گھر ہونے کا مرکزی عنوان قرار پائی تھی ،مگر اس رپور ٹ(بمطابق خبر ) میں اس سانحہ کا نام تک نہیں لیا گیا ۔ شاید ہمارے حکم رانوں کی عزت وحرمت سوات کے متاثرین کی جانوں سے بھی زیادہ قیمتی ہے ۔ کہنے کو تو بہت کچھ ہے جو اس خبر کی مختلف جہتوں پر کہا جاسکتاہے ، مگر کالم کا دامن ختم ہوا چاہتاہے اور میں آپ کی توجہ ایک اہم نکتہ کی طرف مبذول کرانا چاہتاہوں ۔ چند دن پہلے ایک صاحب این جی اوز کے حوالہ سے مذہبی حلقوں کے مخصوص روکھے رویہ کے بار ہ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ” مولوی لوگوں “ نے این جی اوز کے بارہ میں انتہائی عجیب وعریب تصورات پال رکھے ہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ مذہبی حلقہ کے اس رویہ پر یہ اشکال صرف انہیں ایک صاحب کا نہیں ، بلکہ نام نہاد ترقی پسندوں کا پورا مکتبِِ فکر مذہبی طبقات کے اس رویہ پر نالاں ہے ۔ جبکہ بعض اچھے بھلے دین دار اور علماءکی مجلسوں میں اٹھنے بیٹھنے والے حضرات بھی ان کی دیکھا دیکھی علماءکے این جی اوز پر تحفظات کو غیر ضروری اور حد سے بڑھی ہوئی حساسیت کا نام دے کر ان سے تعاون کرنے میں چنداں تامل نہیں کرتے ۔ ایسے کئی حضرات کو تو میں خود ذاتی طور پر جانتاہوں جو مثالی حد تک دینی اقدار وحدود کے پابند ہونے کے باوجودصیہونی اور صلیبی لابیوں کے اشارہ ءابرو پر ناچنے والے ان اداروں کے درپردہ گھناو ¿نے کردار سے ناواقفیت کی بناءپر اور ان کے مکارانہ رویہ اور پر فریب ظاہری مقاصد سے متاثر ہو کر ان سے معاونت کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے ۔ حتی کہ جب میں نے دینی اخوت کے جذبہ کے تحت ان میں سے بعض حضرات کو سمجھانے کی کوشش کی تو اوپر سے اس طرح کے جملے سننے کو ملے کہ ”جناب! یہ این جی اوز ہیں ، را اور موساد کے تخریب کار نہیں ....!“ امید ہے کہ محولہ بالا خبر مذہبی علماءسے ان حضرات کے اس شکوہ شکایت کو دور کردے گی کیونکہ یہ تنگ نظر مولویوں کی الزام تراشی نہیں ، بلکہ عزت مآب سرکاری تفتیشی اداروں کی تحقیقاتی رپورٹ ہے ۔
میرا شکوہ اپنے حکم رانوں سے نہیں کہ ان کاتو مقصدِِ حیات ہی کشکول ِ گدائی لے کر پور ی دنیا میں پھرنا اور دشمنانِ اسلام وپاکستان کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانا ہے ۔ میرا شکوہ آپ اور خود اپنی ذات سے ہے کہ آخر ہم لوگ اپنے دشمن کے طریقہءواردات کو سمجھ کر ان کا توڑ کرنے کے لیے کب فکر مند ہوں گے ....؟

E-mail: Jawwab@gmail.com

Advertise

Privacy Policy

Guest book

Contact us Feedback Disclaimer Terms of Usage Our Team