|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
Telephone:- |
Email:- |
|
|
|
|
|
تاریخ اشاعت:۔05-08-2010 |
|
خدا
رااپنے اثاثہ اور بچوں کی حفا ظت کیجئے |
|
|
|
کالم۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
محمد عاصم جاوید |
یہا سے لوگ بڑی خو شی سے ملک بدر ہونے کی کو
شش کرتے ہیں کہ ملک سے با ہر جا تے ہیں بنک
بیلنس میں اضا فہ ہو گا ۔ یا پھر با ہر جا تے
ہو ئے ”جاب“ ہما ری منتظر ہے کہ آتے ہی مجھے
جا ئن کرلیں ۔ اسی چکر میں اپنے اثر و رسوخ کو
استعما ل کرتے سفا رشوں کے پیچھے یو ما رے
مارے پھرتے ہیں ، کہ جیسے وہاں کے باشندے ا ن
کی راہ میں پلکے بچھا ئے بیٹھے ہیں اور سمجھتے
ہیں ، کہ وہا ں کی زندگی بڑی پر سکون ہے ، وہا
ں کا ماحول نہایت عمدہ ہے ۔ وہا ں پاکستانیوں
کو بڑی عزت سے دیکھا جاتا ہے آپ اللہ کی عطا
کردہ صلا حیتوں کو ان کے حق میں اور مسلم امہ
کے خلاف کیوں استعمال کرتے ہیں ؟اور ان کے ما
تحت ہو تے ہو ئے غلا می کا طوق بھی گلے لگا تے
ہیں ۔ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وہا ں ہمیں آرام و
سکون میسر ہو گا ۔ یہ بات کس قدر صحیح ہے کہ
وہاں کی زندگی میں خوشحا لی ،راحت و آرام نام
کی کوئی چیز مو جود بھی ہے یا نہیں آپ کو آنے
والے ہنری کے واقعہ سے معلوم ہو گا ۔ ہنری
امریکی شہر سیاٹل میں پیدا ہوا ، واشنگٹن کی
جارج یو نیو رسٹی سے ماسٹر کیا ۔ مختلف
کمپنیوں سے ہوتا ہوا مائکروں سافٹ کمپنی پہنچ
گیا ، ہنری کے لیئے ما ئکرو سافٹ ،،ھیلی پیڈثا
بت ہو ئی ہنری 1995ءما ئکرو سا فٹ کمپنی میں
بھا ری معا و ضہ لینے لگا ، یہا ں تک کہا جا
نے لگا کہ ، جب تک ہنری کسی سافٹ وئر کو”
مسکرا“کر نہ دیکھے اسے ما رکیٹ قبول نہیں کرتی
، ہنری نے کمپنی میں اپنا لوہا بڑی جدو جہد
اور کو شش سے منوایا ، ہنری کمپنی میں مسلسل
سولہ گھنٹے کا م کر تا رہتا اور اسی کام کی
دھن “میں بسا اوقات اپنی بیوی اور اپنے اکلو
تے بیٹے کو کبھی بھول جا تا ، ہنری صبح 8بجے
کمپنی جا تا اور ات 12بجے واپس گھرلو ٹتا ،
یہی ترتیب جا ری رہی یہا تک کہ ہنری کا بیٹا
پروان چڑہنے لگا ، باپ بےٹھے کے ملاقات میں
ایک لمبا وقفہ ہو تا ، کیو نکہ ہنری کے اٹھنے
سے پہلے اس کا بیٹھا سکول جا چکا ہوتا جب ہنری
واپس آتا تو بیٹا سو یا ہو تا ، چھٹی کے ہنری
کا بیٹھاباپ کے اٹھنے سے پہلے کھیلنے کے لئے
جا چکا ہوتا اور بیٹا جب گھر آتا تو ہنری کسی
ٹیلی ویژن سٹو ڈیوں یا کہیں انٹر ویو کے لئے
جا چکا ہو تا ۔1998ءمیں سیاٹل کے ٹی ،وی نے
ہنری کا انٹرویو نشر کیا ، تعا رف کروا تے ہو
ئے میزبان نے کہا ،کہ آج ہما رے ہا ںسیا ٹل
میں سب سے بھا ری معا وضہ لینے وا لی ”شخصیت“
کیمرہ جو نہی میزبان کی طرف گیا تو ہنری نے ہا
تھ ہلا کر نا ظرین کی داد کا جواب دیا پھر با
قا عدہ انٹر ویو شروع ہو گیا ہنری نے اس
انٹرویو میں انکشاف کیا کہ وہ کمپنی سے ایک
گھنٹہ کے پا نچ سو ڈالر لیتا ہے ۔ یہ انٹرویو
ہنری کی بیوی اور اسکا بچہ بھی دیکھ رہے تھے ،
بیٹا اٹھا اور اس نے اپنا منی بکس کھو لااور
جمع پو نجی گننا شروع کر دیا۔ وہ 450ڈالر تھے
، اس رات جب ہنری گھر لوٹا تو بیٹا رات گئے تک
با پ کے انتظار میں بیدار تھا اور باہ کو دیکھ
کر فو راا ٹھااور اپنے با پ کے ہا تھ سے بیگ
پکڑا تو باپ نے جھک کر اپنے ہو نہا ر فرزند کو
دل کی گہرائیوں سے پیا ر کیا اور صو فہ پر
بیٹھ گیا ۔ بیٹے نے قریب آکر کہا ڈیڈی کیا آپ
مجھے 50ڈا لر ادھا ر دے سکتے ہیں ؟باپ نے محبت
سے لبریزجذبا ت کی ترجمانی کر تے ہو ئے کہا
کیوں نہیں میں اپنے بیٹے کو اپنی سا ری دولت
دے سکتا ہوں“جیب سے 50 ڈالر نکال کر بیٹے
کوتھما دیے،بیٹے نے جیب سے ریزگاری اور ڈالر
نکال کر 50 ڈالر ان کے اوپر رکھ کر باپ کی
ہتھیلی پر رکھ دیے ،ہنری تو حیرت کا مارا اپنے
بیٹے کی طرف دیکھتارہا ،بیٹے نے باپ کی انکھ
میں آنکھ ڈالی اور ”مسکراکر بولا“ میں سائل کے
سب سے امیر ترین ورکر سے صرف ایک گھنٹے کو
سوال کرتاہو ،میں اپنے باپ سے کھیلنا ،ہنسنا
اور گپ شپ کرنا چاہتاہوں ،ڈیڈی! کیا میں آپ کو
پورا معاوضہ ادانہیں کررہا ؟ باپ نے اپنے پھول
سے بیٹے کو گلے سے لگایا اور اگلے لمحے پھوٹ
پھوٹ کو رونے لگا ۔
ہمارے معاشرہ میں بھی کچھ لوگ ایسے ہےں ،جو
مغربی تہذیب کے گن گاتے ہیں، کہ فلاں ملک نے
بڑی ترقی کرلی ،فلاں ٹیکنالوجی میں آگے بڑھ
گیا ،فلاں نے زرمبادلہ میں اپناکوءہسر نہیں
چھوڑا ،جن لوگوں کی وجہ سے ان کا چرچاہوا اور
جن کی محنت وکوشش کی بدولت دنیا میں انہوں نے
اچھا نام کمایا ۔ان کی ”حالت زار “ دیکھیے !
یہ لوگ اپنے ملک میں رہتے ہوئے بھی اپنے بچوں
سے اس قدر دور ہیں ،کہ جیسے اورپر امن محسوس
ہوتا ہے ۔بچہ باپ کی شکل دیکھنے کو ترستا ہے ۔جب
مہینوں میں صرف ایک آدھ ملاقات ہوتی ہو وہاں
اچھی تربیت کا سوال ہی پیدانہیں ہوتا ۔ہنری نے
1999ءمیں”خیملی لائف “ کے نام سے ایک آرٹیکل
شائع کیا ،جس میں اس نے انکشاف کیا کہ دنیا
میں سب سے بے وفا چیز ہمارا کاروبار اور ہماری
نوکری ہے لیکن بدقسمتی سے اپنی سب سے قیمتی
چیز ”وقت“ ان کو سب سے زیادہ دیتے ہیں ۔ہم آج
اگربیمار ہوجائیں اور ہمارا ایکسڈنٹ ہوجائے ،تو
شام سے پہلے ہمارا ادارہ ہماری کرسی کسی اور
کے حوالہ کردے گا ۔ہمارا آج اگر انتقال ہوجائے
،تو فوراًہمیں اپنے ہی کاروبار سے فراموش
کردیا جاتا ہے ،ہم آج اگر اپنی دوکان بند
کرلیں ،تو ہمار ا پرانے گاہک دوسرے اسٹور سے
خریدار کرلیتاہے ۔لیکن پھر بھی ہم اپنے چاہنے
والوںسے اس بے وفادنیا کی وجہ سے کسی قدر ”ستم
ظرفی “کرتے ہیں اورانہیں لمبی جدائی میں رکھتے
ہیں کہ جیسے ہمارا ان سے ہمار اکوئی رشتہ
نہیں۔وہ ہمارے لیے اجنبی ثابت ہونے لگتے ہیں
اور ہم انہیں ۔
حالانکہ انسان کا سب سے قیمتی سرمایہ وہ اسکا
’ ©’خاندان“ ہے ،آدمی کے اطیمنان کا سب سے بڑا
سہارا اس کی بیوی اور بچے ہیں ،ان لوگوں سے
ہماری تمام دنیوی ضرورتیں وابستہ ہیں ، یہ لوگ
ہمارے لیے دکھ ،تکلیف اور مصیبت کو چھیلنا
اپنے لیے باعث فخر سمجھتے ہیں ۔ان کے لیے
ہمارے وعدے آسمانی تحریروں سے کم نہیں ہوتے ،یہ
لوگ رات کو ہمارے انتظار میں بیدار رہنے کو
اپنے لیے ایک اچھا مشغلہ سمجھتے ہیں ۔ہم کس قد
ر بے دردی سے ان کے عظیم احسانات کو فراموش
کرتے ہیں،اور ان کے جذبات کو بری طرح سے مجروح
کرتے ہیں،کہ شاید ان کے حقوق میں جو کمی رہ
جائے گی قیامت والے دن بھی وہ ہمیں معاف نہیں
کریں گے ۔ان کےساتھ ساتھ ہم نے تووطن عزیز کی
مٹی پر بھی ظلم کی انتہاءکردی اور اپنی تمام
تر صلاحیتوں سے اس کی دشمن کو مضبوط کرنے میں
لگے ،جس کی مٹی نے ہمیں پروان چرھا یا ، جس نے
ہمارے ہر دکھ کا مداوا کیا ،جس کے پاکیزہ پودے
کی سیرابی ہمارے آباﺅ اجداد نے اپنے جگر گوشوں
کے معصوم خونسے کی ،جس نے ہمیں بچپن میں
سنھبال دیا جس وقت ہم ”ناتواں، کمزور“ تھے ،جس
کے اندر رہ کر ہم نے بولنا سیکھا پھر اسی زبان
سے یہ کہنے لگے ،کہ پاکستان توا یسا غریب ملک
جس کے پاس سائنس وٹیکنالوجی نہیں ہے ۔اگرٹیکنالوجی
نہیں ہے تو کیا اس کے دشمن کے لیے آلہ کار
بننا درستہے ؟اپنے محسن کے لےے ایسے الفاظ
ہرگز استعمال نہ کریں ۔اور نہ ہی اپنے سرمایہ
کو باہر جانے سے قبل ہی ضائع کریں بلکہ یہ
رشوت والی رقم ،ویزہ اور ٹکٹ والی رقم کو ملا
کر یہاں کوئی کاروبار کرلیں۔اس سے آپ کو باعزت
روزگار حاصل ہوگا ۔ملک کی عزت وترقی میں آ پ
ایک حب الوطن شہر ی ہونے کا ثبوت دیں گے ۔اور
ساتھ ساتھ غلامی کے طوق سے بھی آپ کو نجات
حاصل ہوگی ۔اس سے بھی بڑھ کر آپ اپنے کنبہ کی
اچھی تربیت کر سکیں گے ۔وگر نہ ہوسکتاہے ،کہ
ہنری کے بیٹے کی طرح ہماری اولاد بھی اس نعمت
سے محروم رہے ۔اس لیے خداد اد !اپنے اثاثہ
اوربچوں کی حفاظت کیجیے ۔
|
| |
|
|
|
|
|
|
 |
 |
|
|
 |
|
|
 |
|
|
|
|
|
© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved |
|
Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved
|