|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
Telephone:- |
Email:- |
|
|
|
|
|
تاریخ اشاعت:۔05-08-2010 |
|
رمضان المبارک کی آمد اور مہنگائی |
|
|
|
کالم۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
برکت اللہ خان |
پاکستان کا ہروہ شہری جو دین سے لگاﺅ رکھتاہے
او رشریعت کے احکام پر عمل پیرا ہو اسے رمضان
شریف کے آنے کا بے چینی سے انتظار ہوتاہے کہ
کب یہ مہینہ آجائے اور اس ماہ مقدس وبرکات سے
بہرمند ہوسکے ۔یقینا یہ ایک انتہائی مثبت او
رقابل تعریف سوچ ہے ۔
رمضان المبارک اوہ مہینہ ہے جوتما مہینوں سے
بہتر ہے ۔یہ وہ مبارک مہینہ ہے جو اپنے ساتھ
برکتوں اور رحمتوں کا ٹھاٹھیں مارتاہوا سمند ر
لے کر آتاہے ۔
روزے دار کو اللہ تعالی ٰ کاقرب حاصل ہوتاہے
ہرکوئی دل وجان سے عبادت میں مشغول ہوتاہے اور
اللہ تعالیٰ کے دربار میں ہمہ تن سر جھکا کر
اپنے گناہوں کے مغفرت مانگتاہے ہرایک کی نیک
خواہش اور حاجت پوری ہوتی ہے گنہگاروں کی توبہ
قبول ہوتی ہے، جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے
ہیں ،شیاطین کو باندھ دیا جاتاہے ،لیکن جیسے
بھی یہ مقدس اور بابر کت مہینہ شروع ہونے والا
ہوتاہے ،ہمارے ملک میں اشیائے خوردنوش کی
قیمتیں آسمان سے باتیںکرنے لگتی ہیں جس سے
غریب لوگوں کا جینا مشکل ہوجاتاہے ۔دال ،آٹا ،چینی
،چاو ل،بیسن کے علاوہ مشروبات اور سبزیان تک
انتہائی مہنگون داموں خریدنی پڑتی ہیں ۔اشیاءمارکیٹ
سے غائب کی جاتی ہےں جس سے روزے دار او رغریب
عوام کو مشکلات کا سامناکرنا پڑتاہے ۔
غریب کو توصرف دو وقت کی دال روٹی ملنی چاہیے
اور سر چھپانے کے لےے چھت میسر ہونی چاہیے اس
کے سوا غریب لوگوں کی کوئی خواہش نہیں ہوتی ہے
لیکن افسوس کہ موجودہ حکومت جس کا نعرہ روٹی ،کپڑا
،مکان ہے وہ بھی غریب عوام کے منہ سے اس نوالے
کو چھیننے کے درپے ہے جو انہوں نے خون پسینا
ایک کر کے کمایاہے ۔
رمضان المبارک میں تمامسلم ممالک کی حکومتیں
اپنی عوام کی سہولت کے لئے روز مرہ اشیاءکی
قیمتوں میں کمی کرتی ہیں ہمارے ہاں رمضان کے
شروع ہوتے ہی قیمتیں بڑھادی جاتی ہیں ۔
دکھ اور افسوس کی بات تو یہ ہے کہ وہی تاجر
حضرات جو حکومت کوتنقید کا نشانہ بناتے رہتے
ہیںوہ خود اشیا ئے خوردنوش کی قیمتوں میں
اضافہ کرکے اپنی تجوریاں بھر کے اور مختلف
اشیائکی مصنوعی قلت اورذخیرہ انداوزی کرکے
روزے کی حالت میں کیس نیکی کمارہے ہیں ۔
رمضان المبارک مقدس مہینے میں انکو مال اکھٹا
کرنے کی خواہش بڑھ جاتی ہیں اگر یہی خواہش
اپنے روز ہ دار بھائیوں اور بہنوں کی خدمت کے
لئے ہو تو شاید ہمارے ملک میں نہ تومہنگائی
ہوگی اور نہ ہی ذخیرہ اندوزی لیکن یہ ایک تلخ
حقیقت ہے کہ جب بھی رمضان کی آمد ہوتی ہے
توہراس شئی کی قیمت آسمان کو چھونے لگتی ہے جو
رزہ داروں کے روزمرہ استعمال میں آتی ہے پھر
عید کے قریب ملبوسات ،جوتوں اور دیگر
اشیاءقیمتوں میںاس حدتک اضافہ ہوجاتاہے کہ عام
شہری کے لےے انکا حصول ایک خواب بن جاتاہے ۔نہ
صرف وفاقی حکومت بلکہ صوبائی حکومتوں کی اولین
ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی قیمتوں میں اضافے کا
سد باب کریں اور اسکے تدارک کے لیے کوئی لائحہ
عمل اختیار لیں اور جوتا جر حضرات عوام کو
مہنگائی کے عذاب میں مبتلاکردیتے ہیں انکو
کیفر کردار تک پہنچائیںتاکہ عوام کو اس مقدس
مہینے میں کچھ نہ کچھ ریلیف مل سکے ۔
اب پھر رمضان شریف کی آمد سے پہلے ماہ شعبان
میں بھی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے
کا سلسلہ جاری ہے ابھی تک نہ وفاقی اور نہ ہی
صوبائی حکومتوں نے اس تدارک کے لےے کوئی لائحہ
عمل اختیار کیا ہے ۔
ضرورت اس امرکی ہے کہ وفاقی اورصوبائی حکومتیں
اس کے لئے مو ¿ثر اقدامات کریں اور مہنگائی کے
روک تھام کے لئے ایسالائحہ عمل اختیار کرلیں
جس سے روزہ دار شہریوں کے لیے زیادہ سے زیادہ
ریلیف حاصل ہوسکے ۔
اگر ابھی سے اشیائے خوردونوش کی بڑھتی ہوئی
قیمتوں پر قابو نہ پالیا توایک متوسط طبقے
روزہ دار کے لیے کھجور تک خریدنے کی طاقت نہ
رہیگی ۔یہاں ہماریاپنے ان تاجر بھائیوں سے بھی
درخواست ہے کہ اس ماہ کے تقدس کا خیال رکھتے
ہوئے اشیاءکی قیمتوں اور ذخیرہ اندوزی کرنے سے
گریز کریںاور دولت کی ہوش سے کنارہ کشی اختیار
کرلیں ۔
|
| |
|
|
|
|
|
|
 |
 |
|
|
 |
|
|
 |
|
|
|
|
|
© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved |
|
Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved
|