اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-970-3200 / 0333-832-3200       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Telephone:- 

Email:-

 
 

تاریخ اشاعت:۔05-08-2010

زکوٰة اور غریب کا خاتمہ
 
کالم۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ محمد فیاض عباسی
 
دین اسلام کی بنیاد پانچ ارکان پر ہے جن میں کلمہ ،نماز ،روزہ ،زکوٰة اور حج شامل ہیں۔باقی ارکان کی طرح زکوٰة بھی ایک رکن ہے ۔جس طرح باقی ارکان کا انکار کفر ہے اسی طرح زکوٰ ة سے انکار کرنےوالا بھی کافر ہوجاتاہے او رباقی ارکان کی طرح زکوٰة پر ایمان لانا واجب اور فرض ہے جب رسول اکرم ﷺ اس دنیا سے رخصت ہوگئے اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ خلیفہ اول بن گئے توکچھ لوگوںنے زکوٰة دینے سے انکار کیا تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ فرمانے لگے اللہ کی قسم میں ان لوگوں سے ہمیشہ قتال کروں گا جو لوگ نماز اور زکوٰة کے درمیان فرق کرتے ہیں او رفرمایاکہ جو آدمی اونٹ کی رسی کو زکوٰة میں دینے سے انکار کرے میں اس سے بھی قتال کروں گا ۔حضرت عمرفاروق ؓاس بات پر اتفاق نہ کیا او رحضرت ابوبکر صدیق ؓ سے فرمانے لگے کہ آپ منکرین زکوٰة سے کیسے قتال کریں گے قتال تو صرف کافروں سے درست ہوتاہے لیکن حضرت ابوبکر صدیق ؓ مسلسل یہی بات کہتے رہے کہ جوآدمی نماز او رزکوٰة کے درمیان فرق کرے گا میں اس سے قتال کروں گابالآخر حضرت عمر فاروق ؓ کو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے مو ¿قف پر تشفی ہو گئی اور انکی بات پر اتفاق کرلیا۔اس سے زکوٰة کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتاہے کہ اس کا کیا مقام ہے ۔
قرآن کریم میں 700 مقامات پر نماز کے ساتھ ساتھ زکوٰة کا ذکر آیا ہے او ایک اور آیت میں ہے ہ ”لوگوں سے ان کے اموال کا صدقہ لو او ریہ صدقہ انکی پاکی کے لیے ہے “او رآپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ صدقہ کے ذریعہ سے اپنے بیماروکو دوا دو :۔ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ صدقہ دیتے رہاکرو ا سے اللہ کا غصہ ٹھنڈا ہوجاتاہے اور انسان بر ی موت سے محفوظ ہوجاتاہے ۔ایک اور آیت میں اللہ رب العزت نے فرمایا کہ میری رحمت ہرچیز پر وسیع ہے اور میری رحمت ان لوگوں کے لیے ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں ۔
ایک حدیث میں ہے کہ جوشخص مال کی زکوٰة ادانہیں کرتا قیامت کے روز اس کا مال گنجے سانپ کی شکل میں آئیگا اور اس کی گردن میں لپٹ کر اس کے گلے کا طوق بن جائے گا ۔
ایک اور حدیث میں آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جو شخص زکوة ادا کردیتاہے تووہ اپنے مال کے شرسے مامون ہوجاتاہے۔اسکے علاوہ اور بھی قرآ ن کریم کی آیات اور آحادیث ہیں جن سے زکوة کی اہمیت کا اندازہ ہوتاہے اور ادانہ کرنے والوں کے لیے وعیدیں وارد ہوئی ہیں ۔
ایک مرتبہ آپ ﷺ خانہ کعبہ میں تشریف فرماتے ار ارشاد فرمایا کہ صدقات سے مال کی حفاظت کر و توایک نصرانی نے جب یہ بات سنی تو اس نے صدقات دینے شروع کردیئے ۔ایک مرتبہ تجارتی قافلہ روانہ ہوا تو اس نصرانی نے بھی اپنا مال ایک وکیل کے ہاتھ تجارت کے لیے اس قافلے کے ساتھ بھیج دیا کچھ دنوں بعد یہ خبر پھیل گئی کہ قافلہ لوٹ لیا گیا ہے جب یہ خبر اس نصرانی کو پہنچی تو وہ غضبناک ہوگیا کہ رسول اکر م ﷺنے فرما یا تھا کہ صدقہ مال کی ذریعہ حفاظت ہوتی ہے میں صدقہ دیتاہوں پھر بھی مال لٹ گیا ہے اس پر وہ کہنے لگا کہ اللہ کے رسول نے مجھ سے کذب بیانی کی ہے ۔چنانچہ اس نے تلوار سونت لی اور آپ ﷺ کے خلاف لشکر جمع کرنا شروع کردیا ۔پھر وکیل کی خبر پہنچی کہ میرا اونٹ لنگڑا ہوگیا تھا جس کی وجہ سے میں قافلہ سے پیچھے رہ گیا تھااور سارا قافلہ لٹ گیا لیکن میرامال محفوظ ہوگیا ۔جب نصرانی نے یہ خبر سنی تو تلوار پھینک دی اور ایمان لے آیا ۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقات کے ذریعہ سے مال کی حفاظت ہوتی ہے ا سپر ہر مسلمان کا ایمان ہونا چاہیے ۔
حق تعالی شانہ نے جتنے احکام بندوں کے لیے مقرر فرمائے ہیں ان میں بے شمار حکمتیں ہیںجن کاانسانی عقل احاطہ نہیں کرسکتی ۔اللہ تعالیٰ نے زکوة کے فریضہ میں بھی بہت ساری حکمتیں رکھی ہیں انسان کی ان حکمتوں تک رسائی ممکن نہیں ۔ان میں کچھ عام فہم حکمتیں قابل ذکرہیں ۔
 آجکل امیر وغریب کی جنگ اس لےے پیدا ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے متمول طبقہ کے ذمہ پسماندہ طبقہ کے جو حقوق عائد کئے انہوں نے اس سے پہلوتہی کی اگر پورے ملک کی دولت کا چالیسواں حصہ ضرورت مندوں میں تقسیم کرلیاجائے او ریہ عمل مسلسل جاری رہے اور متمول طبقہ کسی جبر واکراہ کے بغیر ہمیشہ یہ فریضہ اداکرتا رہے اور پھر اس رقم کی منصفانہ تقسیم مسلسل ہوتی رہے تو کچھ ہی عرصہ میں غربت کا خاتمہ ہوجائیگا اور امیراور غریب کے درمیان جو دوریاں ہونگی وہ ختم ہوجائیں گی ۔اور پوری ملت اسلامیہ سکون اور راحت میں ہوجائیگی ۔یہ ملت اسلامیہ کے لیے نہیں ہے بلکہ اگر پوری دنیا اس پر عمل پیراہوجائے تو غر بت کا خاتمہ ہوسکتاہے ۔
 مال ودولت کی حیثیت معیشت میں ایسی ہی ہے جیسے خون کی بدن میں ۔اگر خون کی گردش میں فتور آجائے توا نسانی زندگی کو خطرہ لاحق ہوجاتاہے اور بعض اوقات دورے پڑنا شروع ہوجاتے ہیں اور موت تک واقع ہوجاتی ہے ۔ٹھیک اسی طرح اگر دولت کی منصفانہ تقسیم نہ ہو تو معاشرہ کی زندگی خطرہ میں ہوتی ہے ۔حق تعالیٰ نے دولت کی منصفانہ تقسیم اور عادلانہ گردش کے لیے جہاں اوربہت ساری تدبیریں ارشاد فرمائی ہیں ان میں سے ایک زکوة وصدقات کانظام بھی ہے اگر یہ نظام صحیح چلتارہے تومعاشرہ میں دولت کی بے اعتدالیاں ختم ہوجائیں گے
انسانوں سے ہمدردی انسانیت کا اہم ترین وصف ہے ۔جس شخص کا دل اپنے جیسے انسانوں کی بے چارگی ،غربت وانداس،بھک ،فقروفاقہ اور تنگ دستی وزبوں حالی دیکھ کر نہیں پیجتا وہ انسان نہیں جانور ہے ۔چونکہ ایسے موقعوں پر شیطان اور نفس انسانی کو ہمدری میں اپنا کردار اداکرنے سے باز رکھتے ہیں اس لئے حق تعالیٰ شانہ نے اپنے کمزور بندوں کی مدد کے لیے امیروں کے ذمہ یہ فریضہ عائد کیا ہے کہ وہ زکوة کے زریعہ سے غریبوں کی مدد کریں ۔
 ماں جہاں انسانی معیشت کی بنیا د ہے وہاں انسانی اخلاق کے بنانے اور بگاڑنے میں بھی اس کو گہرا دخل ہے بعض مرتبہ مال نہ ہونا انسان کو غیر انسانی حرکات پر آمادہ کرتاہے اور وہ معاشرہ کی ناانصافی کو دیکھ کر معاشرتی سکون کو غارت کرنے کی ٹھان لیتاہے ۔بعض اوقات وہ چوری ،ڈکیتی ،سٹہ بازی اور جواجیسی قبیح حرکات کردیتاہے اور کبھی غربت سے تنگ آکر وہ اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ۔کبھی وہ پیٹ کا جہنم بھرنے کے لیے اپنی عزت وعصمت کو نیلام کردیتاہے او رکبھی فقروفاقہ کا مداوا ڈھونڈنے کے لیے اپنے دین وایمان کو سودا کردیتاہے اسی بناءپر ایک حدیث میں فرمایا گیا کہ قریب ہے کہ فقرو فاقہ انسان کو جہنم تک پہنچادے ۔ہمارے معاشرے میں یہ تمام برائیاں بہت عام ہوچکی ہیں جوکہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں ۔اگر زکوة کی منصفانہ تقسیم کوعمل میں لایا جائے توان برائیوں سے بچا جاسکتاہے ۔
ّ(۵)زکوة وصدقات کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے مال ودولت میںبرکت ہوتی ہے زکوة وصدقات میں بخل کرنا آسمانی برکتوں کے دروازے سے بند کرناہے ۔حدیث میں آتاہے کہ جو قوم کو روک لیتی ہے اللہ تعالیٰ ا سپر قحط اور خشک سالی مسلط کردیتاہے او رآسمانوں سے بارش بند ہوجاتی ہے ۔ایک اور حدیث میں ہے کہ چار چیزوں کا نتیجہ چار چیزوں کی شکل میں ہوتاہے ۔
۱:۔جب کوئی قدم عہد شکنی کرنی ہو تو اس پر دشمنوں کو مسلط کردیا جاتاہے ۔
۲:۔جب وہ ماانزل اللہ کے خلاف فیصلہ کرتی ہے توقتل وخونریزی اور موت عام ہوجاتی ہے ۔
۳:۔جب کوئی قوم زکوة روک لیتی ہے تو ان سے بارش روک لی جاتی ہے ۔
۴:۔جب کوئی قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے تو زمین کی پیداوار کم ہوجاتی ہے اورقوم پر قحط مسلط ہوجاتاہے خداتعالیٰ کا تجویز مزمودہ نظام زکوة وصدقات وہ انقلابی نظام ہے جس سے انسان کو راحت وسکون کی زندگی نصیب ہوسکتی ہے۔اور اس سے انحراف کا نتیجہ معاشرے کے افراد کی بے چینی وبے اطمینانی کی شکل میں رونما ہوتاہے ۔
تمام مسلمانوںکو چاہیے کہ وہ اس اہم فریضہ کو پوراکرنے کا خاص طور پر اہتمام کریں اور ملک کی ترقی کا باعث بنے ۔حکومت وقت کو چاہیے کہ وہ اس اہم فریضہ کی ادائیگی کے لےے اقدام کرے تاکہ ملک سے غربت کا خاتمہ ہوجائے ۔اہل خیر حضرات انفرادی طورپر اس فریضہ پر عمل پیراہوں اور اپنی عیاشی کی زندگی میں بے آسرا لوگوںکو بھی یاد رکھیں تاکہ ان کا دنیا میں جینا آسان ہوجائے ۔


 
 
 

Email to:-

 
 
 
 
 
 

© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved

Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved