اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-970-3200 / 0333-832-3200       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Telephone:-

Email:-
 

کالم نگارمرادمقصود کے مرکزی صفحہ پر جانے کے لیے کلک کریں

تاریخ اشاعت:۔2011-04-21

مغرب کا دوہرا معیار
کالم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مرادمقصود
یہ 27فروری2011ءکی بات ہے کہ فٹبال میچ کے چوہترویں منٹ میں ایک پرندہ زخمی حالت میں میدان میں گرا۔اس واقعہ کے بعدریفری نے کھیل کو کچھ دیر کے لیے روک دیا۔کولمبیا کے فٹبالرلوئس مورینو، حقیقت میں کھیل رُکنے پر بڑھے مایوس ہوئے کیونکہ میچ کے ختم ہونے میں چند منٹ باقی تھے اور ان کی ٹیم دو کے مقابلے میں ایک گول سے ہار رہی تھی۔ اپنی ٹیم کی ممکنہ شکست سے دلبرداشتہ لوئس مورینونے زخمی پرندے کو فٹبال کی طرح زوردار ٹھوکرلگا کرسائیڈلائن سے باہر کر دیا، جو بعد ازںمرگیا۔اس حادثہ پر مقامی تماشائی اورحیوانی حقوق کی تنظیمیں خاصی برہم ہوئیں۔ اس حرکت پر تماشائیوں نے کھلاڑی پر ”قاتل،قاتل‘ ‘کی آوازیںکسیںاور ساتھی کھلاڑیوں نے بھی اسے خاصی جھاڑ پلائی۔ عوام کی طرف سے اس واقعہ کی اس قدر شدیدمذمت کی گئی کہ اگلے روز کولمبیا کے فٹبال لوئس مورینو کو ایک نیوز کانفرنس کے دوران معافی مانگناپڑی۔عوام کی مزید تشفی کے لیے کولمبین لیگ کی طرف سے لوئس مورینو کو حیوانی حقوق کی پامالی اورتماشائیوں کو اشتعال دلانے کی پاداش میں 552 ڈالر کا جرمانہ اور 2 میچوں کی معطلی کا فیصلہ سنایاگیا۔حیوانات اور پرندوں کے حقوق عوام میں تسلیم اور رائج کرانے پر مغربی دنیاقابل رشک و تقلیدہے ، تاہم انسانی حقوق کی پامالی پران عظیم طاقتوںکی خاموشی اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی منشور کی خلاف ورزی ان کے دوہرے معیار کو عیاں کرتی ہے ۔27فروری کے حادثہ میں ایک پرندے کی ہلاکت کا پاکستان میںڈرون حملوںسے انسانی اموات کا موازنہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ مغربی دنیا پرندوں کے حقوق کی تو قائل ہیں مگر ترقی پذیریا معاشی طور پر کمزور ممالک مثلاًپاکستان میںمذکورہ حملے اگرچہ عالمی وانسانی حقوق اور آزادیوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہیں، نہتے معصوم شہریوںکو انسانی حقوق دینے اور دلانے میں لاپرواہ اور ناکام واقع ہوئی ہے۔
تمام انسانوں کی ذاتی حرمت ،مساوی اور ناقابل انتقال حقوق کو تسلیم کرنا ،دنیا میں آزادی، انصاف اور امن کی بنیاد ہے۔انسانی حقوق سے لاپروائی اور ان کی بے حرمتی اکثر ایسے وحشیانہ افعال کی شکل میں ظاہر ہوئی ہے جن سے انسانیت کے ضمیر کو سخت صدمے پہنچے ہیں۔اقوام متحدہ کے ممبر ممالک نے یہ عہد کیاتھا کہ وہ اقوام متحدہ کے اشتراکِ عمل سے ساری دنیا میں اصولاًاور عملاًانسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کا زیادہ سے زیادہ احترام کریں گے اور کرائیں گے۔ جنرل اسمبلی کے اعلان کردہ انسانی حقوق کے عالمی منشور کی دفعہ12 میں لکھا ہے کہ ”کسی شخص کی نجی زندگی،خانگی زندگی، گھربار،خط وکتابت میں من مانے طریقے پر مداخلت نہ کی جائے گی اور نہ ہی اس کی عزت اور نیک نامی پر حملے کئے جائیں گے۔ہر شخص کا حق ہے کہ قانون اسے حملے یا مداخلت سے محفوط رکھے۔“جنیوا کنونشن کے مطابق ایسے علاقے جو جنگ کا میدان نہ ہوں ان شہری علاقوں پر طاقت کا استعمال بین الاقوامی اور جنگی قوانین کی کھلم کھلی خلاف ورزی ہے۔مگر یہ کیا ہے کہ ڈرون حملوں پرچپ سادھ لی گئی ہے اورکوئی شور اٹھتا دکھائی نہیں دیتا جس کے نتیجہ میں امریکہ کو معصوم شہریوں کے قتل اور پاکستان کی سالمیت اورخودمختاری کی دھجیاں بکھیرنے پرپاکستانی عوام سے معافی مانگنااور ڈرون حملے بند کرنے کا اعلان کرنا پڑے۔پاکستان کے ہزاروں قبائلی اپنے جگرگوشوں کی یاد میں خون کے آنسو بہا کر انصاف کے حصول کے لیے دربدر پھر رہے ہیںلیکن یہاں انصاف دینے اور ان کے سروں پر دست شفقت رکھنے والا کوئی نہیں ۔ایک تحقیق کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقوں میں چودہ جنوری دوہزار چھ سے اپریل دوہزار نو تک کئے گئے ساٹھ حملوں میں چھ سو ستاسی معصوم شہری جاں بحق ہوئے تھے جبکہ اس میں القاعدہ کے محض چودہ بندے ہلاک ہوئے۔اس تحقیق کے مطابق ڈرون حملوں کی کامیابی کی شرح چھ فیصد سے زیادہ نہ تھی۔جبکہ گذشتہ پانچ سالوں کے دوران امریکی ڈرون حملوں میں2043 افراد(جن میں زیادہ تعدادمعصوم شہریوں کی ہے)لقمہ اجل بن چکے ہیں۔یہ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ حقیقت ہے کہ پاکستان پر ڈرون حملوں کا سلسلہ نوبل انعام یافتہ امریکی صدر اوبامہ کے دور حکومت میںبھی جاری ہیں۔
کیا وجہ ہے کہ پاکستانیوں کا خون اتنا سستا ہو چکا ہے؟ امریکی ڈرون حملے کب بند ہوں گے؟سال 2010ءمیںامریکی ڈرون حملوں سے1140 پاکستانی شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔کیا ڈرون حملوں سے ہونے والی ہلاکتوں میں 2011ء اس سے بھی خوفناک ہو گا؟یہ وہ سوال ہیں جو ہر پاکستانی کے ذہن میں ہیں۔ہمارے حکمران جب تک حقیقی معنوں میں عوام کی جان و مال کی حفاظت اور ملکی مفاد کو اولین ترجیح دیتے ہوئے ٹھوس اور باوقار داخلہ اور خارجہ پالیسیاں مرتب نہیں کرتے ان سوالات کے جواب میں دکھاوے کی لچھے دار تقروںسے عوام کو اب تسلی دینا ممکن نہیںرہا،جس کی وجہ سے پاکستانیوں کی ذلت و رسوائی کا سفر جاری و ساری ہے۔ اورصد افسوس ان عظیم طاقتوں کے دوہرے معیار پر جو ایک پرندے کی ہلاکت پر تو لرزجاتے ہیں اور پرندے کو ٹھوکر مارنے کی حرکت پر فٹبالر کو معافی کے ساتھ جرمانہ اور معطلی کی سزا برداشت کرنا پڑتی ہے مگرانہیں نام نہاد دہشتگردی کی جنگ میں حصہ بننے کے بعد پاکستان میں خودکش حملوں، ڈرون حملوں اور فوجی آپریشنوںمیںایندھن بننے والے پاکستانیوں کا احساس تک نہیں ہے ۔
پاکستان نائن الیون کے بعد سے مسلسل دہشت گردی کا شکار بنا ہواہے ۔ جن مشکل حالات میںآج ہر پاکستانی ہے اور جس تن دہی سے دہشت گردی کا مقابلہ عوام اور فوج کر رہی ہے مغربی دنیاکو چاہیے تھا کہ ہمارے مثبت اقدامات کا اعتراف کرے مگر یہاں تو اعتراف کم اور ڈومور کا تقاضا زیادہ تقویت پکڑتا جا رہا ہے۔اس کی واضح مثال امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں وائٹ ہاو ¿س کی شائع ہونی والی رپورٹ ہے۔جس میں دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی کارکردگی پر کڑی نکتہ چینی کی گئی ہے۔امریکہ اور اتحادی افواج کے افغانستان میں ناکامی کی طرف بڑھتے ہوئے قدم ہوںتوقصور وار پاکستان کو ٹھہرایا جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مغرب کے دوہرے معیار کے باعث دوسری اقوام کے مقابلے میں مسلم سوسائٹی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔فلسطین، عراق، افغانستان اور کشمیرایسے علاقے ہیں جہاں مسلمانوں کوانسانیت سوز اذیتیں پہنچائیں جا رہی ہیں،محکوموں پر جبرو تشدد اور غیر ملکی قبضہ ہے۔ان تمام واقعات سے مسلمانوں کو دیوار کے ساتھ لگایا جا رہا ہے جس کے نتیجے میںدنیا رہنے کے لیے خطرناک ہوتی جا رہی ہے،کیونکہ ہر عمل کا ردِ عمل ضرروت ہوتا ہے ۔یہ مغرب کی مسلمان مخالف پالیسیاں ہی ہیں جس سے دنیا کے امن کو خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔ بہت ساری امریکی ریاستوں میںٹی وی اور ریڈیو پراسلام کے خلاف زہریلی زبان کا استعمال اور اب چرچ میں قرآن پاک کی بے حرمتی ناقابل برداشت حد تک بڑھ گئی ہے۔یورپی ممالک میں وقفے وقفے سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت سے پوری مسلم دنیا کے جذبات مجروح اور دل زخمی ہوتے چلے آرہے ہیں۔انسانی حقوق کے علمبردار بعض یورپی ممالک میںمسلم خواتین کو نقاب اوڑھنے اور مساجد کے مینار کی تعمیر کی مخالفت کسی طور بھی ان کے شایانِ شان نہیں۔ہم یہ نہیں سمجھ پائے کہ مغرب اگر دہشت گردی کا خاتمہ چاہتا ہے تو اسرائیل کو معصوم فلسطینی عوام کا خون بہانے سے کیوں نہیں روکا جاتا؟اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق وہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی اجازت کیوں نہیں دیتا کہ وہ کیا چاہتے ہیں؟مغربی دنیا کو بھارت میں ہندوانتہا پسندی اور غنڈہ گردی کیوں دکھائی نہیں دیتی؟
اقوام متحدہ کے اعلان کردہ انسانی حقوق کی دفعہ 1 میں لکھا ہے کہ ”تمام انسان آزاد اور حقوق و عزت کے اعتبار سے برابر پیدا ہوئے ہیں۔انہیں ضمیر اور عقل ودعیت ہوئی ہے اس لیے انہیں ایک دوسرے کے ساتھ بھائی چارے کا سلوک کرنا چاہیے۔“انسانی حقوق کے معاملے میں کیا یہ مغرب کا دوہرا معیار نہیں کہ انہیں صرف مسلمان ہی دہشت گرددکھائی دیتے ہیں؟جبکہ مسلمان جس دین کے پیروکار ہیںوہ امن و آشتی کا درس دیتا ہے اور کسی بھی قسم کی دہشت گردی کو جائز قرار نہیں دیتا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم بھی فٹبال تماشائیوںکی طرح عظیم طاقتوں کے انسانی حقوق کی پامالی اور دوہرے معیار پر عالمی سطح پر اپنی آواز بلند کریں، کیونکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ہر آئے روز ڈرون حملوںسے کئی محب وطن معصوم پاکستانیوں کا جنازہ اٹھتا ہے۔جہاں پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری کی دھجیاں بکھر جاتی ہیںوہاںملک تباہی و بربادی کے مناظر بھی پیش کر رہا ہے ۔
 
 
 

Email to:-

 
 
 
 
 
 

© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved

Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved