اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-970-3200 / 0333-832-3200       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Telephone:- 

Email:-

 
 

تاریخ اشاعت:۔05-08-2010

استقبال و فضائل رمضان
 
کالم۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ توصیف احمد

 
 
رمضان المبارک کا مہینہ اپنی آغوش میں بے شماررحمتیں اور برکتیں سمیٹے مسلمانو کی طرف متوجہ ہونے والا ہے ۔یہ مہینہ اپنی مثال آپ ہے آ پ ﷺ رمضان المبارک سے قبل شعبان المعظم ہی سے رمضان کی تیاری شروع فرماتے تھے شعبان المعظم کے روزے رکھتے تھے اور فرماتے اے لوگوں ”تمہارے اوپر ایک مہینہ آرہاہے جو بہت بڑا اور مبارک مہینہ ہے اس میں ایک رات (شب قدر )ہے جوہزار مہینوں سے بڑھ کرہے ۔رمضان المبارک سے قبل اس طرح اہتمام کے ساتھ وعظ فرمانا اس لیے تھا کہ لوگ متنبہ ہوجائیں اور ان کاایک سیکنڈ بھی غفلت میں نہ گزرے
اک آن بھی رحمان سے غافل نہ رہو تم
شاید کہ توجہ کرے اور سوئے رہو تم
یہ تھے رحمة للعالمین جو اپنی امت کے لیے اس قدر درد رکھتے کہ میراکوئی امتی رمضان المبارک کے فضائل وبرکات سے محروم نہ ہوجائے ۔ایک حدیث شریف میں وار د ہے کہ آپ ﷺ رمضان المبارک کے علاوہ کسی مہینے کے مکمل روزے نہیں رکھتے تھے بجز شعبان کے ۔
ایک حدیث میں ہے آپ ﷺ نے شعبان کے آخر مین امت کو روزہ رکھنے سے منع فرمایا تاکہ شعبان کے آخر میں روزہ رکھنے کی وجہ سے جسم میں کمزوری نہ آجائے جس کی وجہ سے رمضان مین سستی پیدا ہو اور آپ ﷺ کامنع فرمانا بطور شفقت کے تھا۔تاہم اگر کوئی شخص ہرمہینے کے آخر میں روزے رکھتاہے اور اسکی عادت ہے تو اس کے لیے یہ ممانعت نہیں ہے ۔
جہاں تک فضائل رمضان کا تعلق ہے اس کے بارے میں بے شمار احادیث مبارکہ وارد ہوئی ہیں قرآن کریم میںرب تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ”اے ایمان والو تم پر رمضان کے روزے فرض کئے گئے ہیںجیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم متقی او رپرہیز گار بن جاﺅ ۔البقرہ(۳۸۱)
نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس نے ہر باب میں جس قدر فضائل اور ترغیبات ارشاد فرمائی ہیں ان کا اصل شکریہ اور قدردانی یہ تھی ہم ان پر مرمٹتے مگر ہماری کوتاہیاں اور دینی بے رغبتیاں اس قدر افزوں میں ان عمل تو درکنار ان کی طرف توجہ والتفات بھی نہیں رہی ۔تاہم رمضان المبارک کی فضیلت کے بارے میں چند احادیث نقل کی جاتی ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں ان پر صحیح معنوں میں عمل کی توفیق عنایت فرمائیں ۔
(۱) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ”میری امت کو رمضان شریف کے بارے میں پانچ چیزیں مخصوص طور پر دی ہیں ۔جوپہلی امتوں کو نہیں دی ۔
۱:۔ان کے منہ کی بدبو اللہ تعالیٰ کومشک وعنبر سے زیادہ پسندیدہ ہے
۲:۔ان کے لیے دریا کی مچھلیاں تک دعا کرتی ہیں اور افطار کے وقت تک کرتی رہتی ہیں ۔
۳:۔جنت ہر روز ان کے لیے آراستہ کی جائی ،پھر حق تعالیٰ شانہ ارشاد فرماتے ہیں کہ قریب ہے کہ میرے بندے اپنے اوپر سے دنیا کی مشقتیںپھینک کر تیر ی طرف آئیں ۔
۴:۔اس میں سرکش شیاطین قید کردئیے جاتے ہیں کہ وہ رمضان میں ان برائیوں تک نہیں پہنچ سکتے جن کی طر ف غیر رمضان میں پہنچ سکتے ہیں۔
(۵)رمضان کی آخری رات میں روزہ داروں کی مغفرت کر دیجاتی ہے ۔صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ کہ یہ شب مغفرت شب قدر ہے؟فرمایا نہیں بلکہ دستور یہ ے کہ مزدور کو کام ختم ہونے کے وقت مزدوری دیجاتی ہے۔
حضرت کعب بن عجرة ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا کہ منبر کے قریب ہوجاﺅ ہم قریب ہوگئے ۔جب حضور ﷺ نے منبر کے پہلے درجہ پر قدم رکھا تو فرمایا آمین اسی طرح دوسرے پر قدم رکھا فرمایا آمین ،تیسرے پر قدم رکھا تو فرمایا آمین جب آپ ﷺ خطبہ سے فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کیا کہ آج ہم نے آپ سے (منبر پر چڑھتے ہوئے )ایسی بات سنی جو اس سے پہلے کبھی نہ سنی تھی ۔آ پ ﷺ نے فرمایا ”جب میں نے پہلے درجہ پر قدم رکھا تو جبریل میرے پاس اائے تھے اور کہا ہلاک ہو وہ شخص جس نے رمضان المبارک کا مہینہ پایا او رپھر اسکی مغفرت نہ ہوئی میں نے کہا آمین ،جب دوسرے درجہ پر قدم رکھا تو فرمایا ہلاک ہو وہ شخص جس کے سامنے آپ ﷺ کا ذکر کیا جائے او روہ آپ پر ورد نہ بھیجے میںنے کہا آمین جب میں تیسرے درجے پر چڑھا تو فرمایا ہلاک ہو وہ شخص جس کے سامنے اسکے والدین یا ان میں سے کوئی ایک بڑھاپے کو پالے اور وہ اسکو جنت میں داخل نہ کروائیں میں نے کہاآمین ۔
اس حدیث میں حضرت جبرئیل ؑ نے تین بددعا فرمائیں اور حضور ﷺ نے تینوں پر آمین کہا ۔اول توجبرئیل معصوم کی بددعا ہی کافی تھی پھر اس پر حضور ﷺ نے تینوں پر آمین کہا ۔اول تو جبرئیل معصوم کی بددعا کافی تھی پھر اس پر حضور ﷺ کی آمین نے جو اس بدعا کو سخت بنادیا وہ ظاہر ہے ۔
ایک اور حدیث جو عباد ہ بن صامت ؓ سے مروی ہے کہ نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا ”رمضان المبارک کامہینہ آگیاہے جو بڑی برکت والا ہے اس میں حق تعالیٰ شانہ تمہاری طر ف متوجہ ہوتے ہیں اوراپنی رحمت خاصہ نازل فرماتے ہیں ۔خطاﺅں کو معاف فرماتے ہیں ،دعا کو قبول کرتے ہیں ،تمہارے تنافس (ایک دوسرے سے آگے بڑھنا )کو دیکھتے ہیں پس اللہ تعالیٰ نیکی دکھاﺅ بد نصیب ہے وہ شخص جو اس مہینے میں بھی اللہ کی رحمت سے رہ جائے ۔
رمضان المبارک کا مہینہ رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ ساتھ دعا کی قبولیت کا مہینہ ہے حدیث پاک میں واردہے ۔ابوسعید خدری ؓ نبی پاک ﷺ کا ارشاد نقل فرماتے ہہیں کہ رمضان المبارک کے ہرشب وروز میں اللہ تعالیٰ کے یہاں (جہنم )سے قیدی چھوڑے جائے ہیں اور ہر مسلمان کے لیے ہرشب وروز میں ایک دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔
رمضان المبارک اور روزہ دار کی فضیلت کے بارے میں جو احادیث وار د ہیں بہت سارے آداب وقیود سے مقید ہےں ۔ہم لوگوں نے روزہ اس چیز کو سمجھ رکھاہے ۔کہ صبح سے لیکر شام تک کھانے پینے سے منہ کو بند کرلینا ۔حالانک روزہ کامفہوم بہت وسیع ہے ۔اس کا تعلق انسان کے اعضاءوجوارح میں سے ہرایکسے ہوتاہے ۔بالخصوص روزے کی حالت میں زبان کی حفاظت کرنا ،غیبت و چغلی سے اپنے کو بچانا ،کان کی حفاظت کر نا غیبت سننے سے بچنا ،ہاتھو ںکی حفاظت کرنا دوسروں کے اوپر اٹھنے سے بچانا ،پاﺅں کی حفاظت کرنا شیطانی اڈوںکی طرف جانے سے گریز کرنا اور نگاہ کی حفاظت کرنا غیرمحرم عورتوں کو دیکھنے سے بچنا یہ سب امورروزے کے اداب میں داخل ہیں۔خاص طور پر پیٹ کو افطار کے وقت مشتبہ اور حرام چیزوں سے محفوظ رکھنا اور حلال چیزوں کے ساتھ افطار کرنا انتہائی ضروری ہے ۔اگر روزہ ان امور اداب کا لحاظ کرکے رکھاجائیگا تو وہ روز ہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں روزہ ہے ورنہ حدیث شریف کے مطابق بہت سے روزہ رکھنے والے اسیسے ہیں جنکو بھوکارہنے کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔یہ وہی روزہ دار ہیں جو روزے کے اداب کا لحاظ نہیں رکھتے
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ماہ مقدس میں صحیح معنوں میں روزہ رکھنے اور اپنی رضا حاصل کرنے کی توفیق عنایت فرمائیں (آمین )
 
 
 

Email to:-

 
 
 
 
 
 

© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved

Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved