اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کو اس دنیا میں
آزمائش کے لیے بھیجا ہے اور جہاں اللہ نے
انسانوںاو جنوں کو پیدافرمیا ہے وہیں جن وانس
کے سب سے خطرناک دشمن شیطان کو بھی پیدافرمایا
ہے ۔سنت اللہ کے جب بھی کوئی قوم نافرمانیوں
میں بڑھ جاتی ہے توا للہ تبارک وتعالیٰ اس قوم
کو تباہ وبرباد فرمادیتے ہیں ۔لیکن جناپ محمد
رسول اللہ ﷺ کی امت پر یہ خاص انعام ہے کہ اس
کو اجتماعی عذاب کبھی نہیں دیا جائےگا ۔البتہ
امتوں میں اگر کوئی کسی گناہ کا ارتکاب
کرتاتھا تو اگلی صبح اس کی پیشانی پر وہ گناہ
لکھا ہوتاتھا لیکن اس ا مت پر اللہ کا انعام
کہ نہ تو خود کسی کے گناہ کوظاہر فرماتے ہیں
اور نہ ہی کسی اور کوا س کر اجازت دیتے ہیں
جیساکہ حدیث کا مفہوم ہے کہ جوکسی مسلمان کی
پردہ پوشی کرے گا روز قیامت اللہ اس کی پردہ
پوشی فرمائیں گے ۔اور ایک اورجگہ فرمایا ہے
اگر کوئی مسلمان اپنے کسی مسلمان بھائی کو
گناہ کا طعنہ دیتاہے تواللہ فرماتے ہیں کہ اس
طعنہ دینے والے کو اس وقت تک موت نہ دونگا جب
تک اس گناہ میں مبتلا نہ کردوں ۔
اللہ کی محبت اور دوستی حاصل کرنے کے دوہی
راستے ہیں ۔۱:تقویٰ کا راستہ ۔۲:توبہ کاراستہ
۔آج کے اس پر فتن دورمیں تقویٰ کے ساتھ زندگی
گزارنا بالکل ناممکن سا لگتاہے کہ ہرروز جھوٹ
،حسد ،کینہ ،غیبت ،ایذاءمسلم جیسے بڑے بڑے
گناہ سرزد ہوتے رہتے ہیں اور ہمیں اس گناہ کا
احساس تک نہیں ہوتا ۔سود کی لعنت تو ہرجگہ
ایسی پہنچ چکی ہے کہ بچہ اگر کوئی ٹافی بھی
لیتاہے تو کسی نہ کسی واسطے سے اس تافی میں
بھی سود شامل ہوتا ہے ۔تقویٰ سے زندگی گزارنا
ایک ناممکن سی چیز نظر آتی ہے ۔اللہ کی قربت
حاصل کرنے کا اس راستے میںمجاہدہ نہ ہونے کے
برابر ہے صرف اپنے رب کے حضور اخلاص نیت سے
اپنے گناہ کا اقرار کرنا ہے کہ یا اللہ ہم نے
اپنا جر م تسلیم کرلیاہے ۔ہمیں کوئی عذر پیش
نہیں کرنا ہے ۔کہ ہمارا گناہ فلاں وجہ سے
ہوگیا نہیں اپنے رب کی بارگاہ میں بس اس طرح
اپنی عرض پیش کرنی ہے کہ اے اللہ
عاصی ہوں باعمال قلیل آیاہے
تیرے درپہ میرے مولا بے وکیل آیاہوں
کیونکہ وکیل کی ضرورت اس کو پڑتی ہے جسے اپنے
اوپر لگائے گئے تمام الزامات قبول ہیں ۔ہم نے
واقعی آپ کی بہت نافرمانی کردی ہے ۔لیکن
پھربھی ہم آپ سے عدل کا نہیں فضل کا سوال کرتے
ہیں آپ ہمیں معاف فرمادیں ۔
توبہ کی حقیقت ہم آج تک نہیں سمجھ سکے ۔توبہ
صرف یہ نہیں کہ بس ایک بار کرلی تو آئندہ
آزادی حاصل ہوگئی ۔یاآئندہ توبہ کر
chance
ہی ختم
ہوگیا ۔نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے ۔توبہ کے لفظی
معنی ”لوٹنے “ اور رجوع کرنے کے ہیں۔اور شرعی
اصطلاح میں کسی گناہ سے باز آنے کو توبہ کہتے
ہیں“ اور توبہ کے صحیح اور معتبر ہونے کے لیے
تین شرائط ہیں
۱:یہ کہ جس گناہ میں فی الحال مبتلا ہے اس کو
فوراًترک کردے ۔مثلا شراب کی بوتلمنہ سے لگا
کر کوئی لاکھ مرتبہ کرے یہ قبول نہیں ہے پہلے
بوتل کو پھینکنا ہوگا پہلے اس لعنت سے جان
چھڑانی ہوگی ۔۲:یہ کہ ماضی میں جوگناہ ہو اس
پر نادم اورشرمندہ ہو ایسانہ ہو کہ لوگوں کو
فخر سے بناتا پھرے کہ میںنے فلاں فلاںگنہا کیا
ہے اور ہمارے معاشرے میں تو یہ مرض بہت ہی
زیادہ ہے کہ لوگ آپس میںباتیں کرتے ہوئے فخر
کرتے ہیںکہ میںپہلے بڑاگنہگار تھا ۔یہ بحث
دینی طبقات میں بھی ہوتی ہے ۔
۳:آئندہ گناہ کو ترک کرنے کا پختہ عزم کرلے ۔کہ
میرے مالک آئندہ کبھی آپکوناراض نہیں کرونگا ۔
یادرہے یہ توبہ کوئی
Dispqsible
چیز نہیں
ہے کہ بس ایک بار کرلی توائندہ کبھی موقع نہیں
ملے گا ۔نہیں ایسا نہیں ہے ہمیں ہرلمحے اپنے
رب کے حضو ررونا ہے گڑگڑانا ہے اور اپنے
گناہوں کو معاف کروانا ہے ۔ہمارے آقا ؑ تو
نماز کے فوراً بعد بھی تین مرتبہ استغفار کیا
کرتے تھے ۔حالانکہ حضور ؑ تو معصوم تھے۔لیکن
کمال عبدیت بھی مقصود تھی اور تعلیم امت بھی
کہ چیسے ہی نماز سے فارغ ہوجاﺅ فوراً استغفار
کرو کہ شاید نماز میں کمی رہ گئی ہو۔
اور توبہ کی قبولیت کے لےے اس چیز کا اہتمام
بھی کرنا چاہیے کہ اگر کوئی شرعی فریضہ چھوڑا
ہواہے توا سے ادایا قضا کرنے میں دیرنہ کرے ۔اگر
حقوق العباد سے متعلق ہے تواس میں ایک شرط یہ
بھی ہے کہ اگر کسی کامال اپنے اوپر واجب الادا
ءہے اور وہ شخص زندہ ہے توا سے وہمالوٹادے یا
اس سے معاف کروالے ۔اور اگر وہ زندہ نہٰں ہے
اور اس کے ورثاءموجودہےں توان کو لوٹادے ۔اور
اگر ورثاءبھی موجود نہیں توبیت المال میںداخل
کروادے اور اگر بیت المال کانظام ٹھیک نہیںہے
تو اس کی طرف سے صدقہ کردے ۔اللہ سے قوی
امیدہے کہ اس کے زمے سے حق ساقط ہوجائے گا ۔اور
اگر کوئی غیر مالی حق کسی کا اپنے ذمے واجب ہے
مثلا کسی کوناحق ستایا اس کی دل آہ وزاری کی
ہے یا برا بھلا کہا ہے یااس کی غیبت کی ہے توا
سے جس طرح ممکن ہو راضی کرکے معافی مانگی جائے
۔
گرامی قدر قارئین !اللہ سے دوستی کا اس سے
بہتروقت کیا ہوگا کہ رمضان بس آہی چکاہے ۔اللہ
کی رحمتیں مکمل طور پر متوجہ ہونےوالی ہیں ۔رمضان
کی تیاری کے لیے صرف سحری اور افطاری کاسامان
ضروری نہیںہے ۔صحابہ ؓ رمضان کی تیاری کے لیے
سحری وافطاری کا سامان تیار نہیں کیا کرتے تھے
بلکہ اعمال کی فکر میں لگ جایا کرتے تھے ہمیں
بھی توبہ کے لیے ،اللہ کے ساتھ دوستی کے لیے
رمضان کاانتظار نہیں کرناچاہیے ۔بس آج ہی سے
اپنے رب کے حضور معافی مانگنی ہے اور حضور ؑ
خوشخبری دے چکے ہیںتوجہ کرنے والوں کوکہ
”التائب من الذنب کمن لاذنب لہ “ کہ توبہ کرنے
والا ایسا ہے کہ جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں
ہے ۔اللہ ہم سب کو اپنے فضل وکرم سے معاف
فرمادے ۔(آمین )
|