اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-250-3200 / 0333-585-2143       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 

Email:-saeednawabi1@yahoo.com
 

Telephone:- 92-300-2248711        

 

 

 

تاریخ اشاعت22-01-2009

نام

کالم۔۔۔ سعید نوابی




saeednawabi1@yahoo.com
جنرل ضیاءالحق کے زمانے میں ریس کورس گراﺅنڈ راولپنڈی میں سکاﺅٹس ریلی منعقدہوا کرتی تھی اہم سکولوںکے طلبہ ہر سال 9 اگست سے 14 اگست تک ریس کورس میں خیمہ زن رہتے تھے ان پانچ دنوں کے دوران مختلف قسم کے مقابلے ہوتے، منتخب طلبہ پریڈ کی ریہرسل کرتے اورباقی کیمپ سجانے میںاپنی توانائیاں صرف کرتے۔ 14 اگست کوجنرل صاحب ریس کورس تشریف لاتے ، پیدل تمام کیمپوں کا معائنہ کرتے اور طلبہ سے کھل کرگپ شپ لگاتے۔ یہ 1985ءکی بات ہے اس سال میرا چھوٹا بھائی خالد اپنے گروپ کی قیادت کر رہا تھاجنرل صاحب ان کے کیمپ کے پاس پہنچے تو سلام دعا کے بعد انہوں نے خالد سے پوچھا بیٹا آپ کہاں سے آئے ہیں؟ خالد نے جواب دیا سر ہم سہگل آباد سے آئے ہیں۔ جنرل صاحب پہلے مسکرا ئے اور پھر مزاحیہ لہجے بولے وہی سہگل آباد جس کا اصل نام ”کھوتھیاں“ ہے! جی سراسی سہگل آباد سے جس کا اصل نام کھوتھیاں ہے! خالد نے جواب دیا۔ بعد میں معلوم ہوا جنرل ضیاءالحق صاحب بریگیڈیئر تھے تب فوجی مشقوں پر ہمارے علاقے میں تشریف لائے تھے اور یہ منفرد نام انہیں پندرہ بیس سال بعد بھی یاد تھا۔
خوش قسمتی سے ہم انتہا پسند قوم ہیں، ہم نے فیصلہ کیا علیحدہ ملک حاصل کرناہے تو حاصل کر کے ہی رہے، ہم نے فیصلہ کیا ایٹم بم بنانا ہے تو محدود وسائل کے باوجود ایٹم بم بنا کر دم لیا، ہم نے میزائل بنانے کی طرف توجہ کی تو قسم ہا قسم کے میزائل بنا ڈالے۔ کرکٹ کے میدان میں نکلے تو پوری اسلامی دنیا کو پیچھے چھوڑ گئے پاکستان وہ واحد اسلامی ملک ہے جس نے کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتا، جو چار مرتبہ ہاکی کا عالمی چیمپیئن بنا ، جس کا نام طویل عرصہ تک سکوائش کی دنیا میں گونجتا رہا جس نے سنوکر میں دنیا کو مات کیا۔ پاکستان ہی وہ اسلامی ملک ہے جہاں فوج کو اقتدار کا شوق چڑھا تو منتخب حکومتوں کو بولڈ کرنے کا عالمی ریکارڈ قائم کردیا۔ ہم نے کرپشن شروع کی تو ساری دنیا ہماری دو نمبری کی معترف ہوگئی۔ ہم ٹکرانے پر آئے تو روس جیسے ملک سے ٹکرا گئے اور جھکنے پر آئے تو ایک فون کال پر جھک گئے۔ تمام قسم کی ”بازیوں“ مثلاً سٹہ بازی،پتنگ بازی ، کبوتر بازی اور جگت بازی وغیرہ وغیرہ میں بھی ہمارا کوئی ثانی نہیں، ہم نے بے شمار موقعوں پر نجومیوں کی پیشگوئیوں کو غلط ثابت کر کے دنیا کو حیران و پریشان کیا ہے دنیا جو کام ہمارے لیئے مشکل یا ناممکن سمجھتی ہے ہم بڑی آسانی سے وہ کام کر گزرتے ہیں جبکہ آسان سمجھے جانے والے کاموں میں ہم یوں ناکامی حاصل کرتے ہیں کہ ہمیں ناکام کرنے والے کو اپنی کامیابی کا خود بھی یقین نہیں آتا ،ہم واقعی دلچسپ لوگ ہیں بلکہ یہ کہنا صحیح تر ہے کہ ہم لوگ دنیا کیلئے ایک معمہ ہیں ! میں کہیں اور نکل رہا ہوںفی الوقت مجھے اصل موضوع کی طرف آ نا چاہیے۔
نام کا انتخاب ایک مشکل کام ہے۔ لوگ نام رکھنے کے لیے مہینوں سوچتے رہتے ہیںتاہم پاکستانیوں کو خدا نے اس حوالے سے بھی خصوصی ملکا عطا کیا ہے۔ ہم لمحوں میں ایسا نام تخلیق کر لیتے ہیں جسے سن کر لوگ انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل تک ہم لوگ بچے کی پیدائش سے قبل ہی نام پکا کردیتے تھے اس لیئے کہ اچھے اور بامعنی ناموں کا ہمارے پاس وافر ذخیرہ موجود تھا اُس دور میں جو نام زیادہ پاپولر ہوئے ان میں سے چند ایک یہ ہیں اﷲ دتہ،گھیبا خان،اﷲ رکھا،سوندھا خان،پیراں دتہ،پہاڑ خان،دریا خان،سمندر خان،عجب خان،دودا سائیں،طوطی خان،مٹھن سائیں،دفتر عباسی، رخسار عباسی،پیندا خان،مکھن خان،ٹکا خان،فتح خان وغیرہ جبکہ عورتوں کے جن ناموں کو عوامی مقبولیت حاصل ہوئی ان میںبھاگ بھری،اﷲ رکھی،نیک بختی،کرم خاتون،صابراں،شریفاں،ملکانی،نوری اور اناراں وغیرہ شامل ہیںآج وقت بدل چکا ہے آج ہم تعلیم یافتہ اور مہذب ہو چکے ہیںاس دور میں ہمارا رجحان اسلامی ناموں کی طرف ہے لیکن ناس ہو انتہا پسندی کا وہ آج بھی ہمارے ساتھ چمٹی ہوئی ہے یا یوں کہئے کہ ہم اُس کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیںاسلامی ناموں کی دوڑ میں ریکارڈ قائم کرنے کیلئے ہم اپنی بچیوں کے جو نام رکھ رہے ہیںان میں سے کچھ نام یہ ہیں :فجر ،ماں پوچھتی ہے فجر بیٹا کیا وقت ہوا ہے؟ جواب آتا ہے امی ظہر ہو چکی ہے ماں کہتی ہے فجر بیٹا تم ظہر پڑھ لو میں بازار جا رہی ہو ں عصر تک لوٹ آوں گی،ٹھیک ہے مما جلدی آئیے گا مغرب کے وقت میری دوست منیٰ، عشاءاور کائنات مجھے ملنے آرہی ہیں۔آج کا ایک اور خوبصورت نام ہے ایمان۔تقدیر پوچھتی ہے آنٹی ایمان ہے ؟نہیں بیٹا ایمان جنت کے ساتھ ملائکہ کے گھر گئی ہے ۔ میرے دوست قائم دین کے بیٹے کا نام اذان ہے میں اکثر اس کی زبان سے سنتا ہو اذان بیٹا چپ ہو جاو ¿ اذان ہو رہی ہے! اب میں آپ کو شہروں اوردیہاتوں کے نام کی طرف لیئے چلتا ہوں دور جانے کی کیا ضرورت ہے میرے گاﺅں کا نام ہی دیکھ لیں ”کھوتھیاں“ کتنا خوبصورت اور دلکش نام ہے جی چاہتا ہے آدمی بولے تو بولتا ہی چلا جائے ”کھوتھیاں“ ایک منفرد اورنایاب نام ! لیکن افسوس صد افسوس ! ان پڑھ، جاہل اورحاسد لوگ آنکھوںوالی ”ھ“ حذف کر کے اسے کھوتیاں کہنے لگے جسے بولتے ہی ڈھینچوں ڈھینچوں کی آواز کانوں میں لاتیں مارنے لگتی ہے۔ گاﺅں کے نام کے ساتھ ہونیوالی دہشت گردی دیکھ کر میرے والد محترم نے تجویز پیش کی کہ گاﺅں کا نام اس کے بانی باباسلطان کی نسبت سے سلطان آبادرکھ دیتے ہیں۔ حسبِ توقع اس تجویز پر تین گروپ سامنے آگئے ایک گروپ نے کہا چونکہ سہگل آباد اور کھوتھیاں پنڈی اسلام آباد کی طرح دوجان یک قالب ہو گئے ہیںاس لیے اب کھوتھیاں کو سہگل آباد ہی کہا جائے۔ دوسرے گروپ نے کہا خبردار جو آئندہ ایسی بات منہ سے نکالی! گاﺅں کا نام کھوتھیاں تھا‘ کھوتھیاں ہے اور کھوتھیاں ہی رہے گا۔ تیسرے گروپ نے کہا اچھی بات تو یہ ہے نوابی صاحب کی تجویز مان لی جائے اور گاﺅں کا نام سلطان آباد رکھ دیا جائے اگر سلطان آباد پر اتفاق نہیں ہوتاتو کوئی اور اچھا نام دیکھ لیا جائے، جی ہاں اچھا نام جس پر سب متفق ہو جائیں! 30 سال بیت گئے ایک نسل بوڑھی اور دوسری جوان ہو گئی حالات بدل گئے زمانہ بدل گیا کھوتیوں کی جگہ ٹریکٹر آگئے لیکن میرا گاﺅں بیچارا آج بھی کھوتھیاں کا کھوتھیاں ہی ہے! اسی طرح آپ دیکھیں چیچو کی ملیاں جیسا سریلا نام کیا کوئی اور تخلیق کر سکتا ہے؟ چند اور بے مثال نام میں آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔ آپ پڑھیں اور ان کے تخلیق کنندگان کو داد دیں۔ یہ چند بستیوں کے نام ہیں، دھوپ سڑی، گیدڑی، تھاپیاں،مینگن، کھودے‘ کاناکاچھا، منڈیاں، دھکے والا، لکڑ والا، رتوچھہ ، چربیاں، لولے دی جھگی، ٹھٹھی،ٹئی، سمہ سٹہ، انارشاہ، کلوٹیاں، ٹنڈا، منڈے، نتھووال، جھرڑے، دندہ شاہ ،موڑہ کدکے لتھی، ٹینگل، گڈولہ، لنڈی نشیب، ڈونگہ، متو، پبی، لدھا‘منیاں والا، ڈالا نوالا اور پنھتی! اس طرح کے نایاب ناموںکا میرے پاس بڑاذخیرہ ہے مگر عوام کے ڈر کی وجہ سے میں لکھ نہیں سکتا کیونکہ عوام نہیں چاہتے کہ ان کے گاو ¿ں، دیہات یا شہر کا نام لیک آو ¿ٹ ہو ۔ بہر کیف آج تو مجھے صرف اور صرف یہ عرض کرنا تھا کہ ہمارے چوتھے بھائی این ڈبلیو ایف پی یعنی چھوٹے خان صاحب خیر سے 63برس کے ہو گئے ہیں اب وہ چاہتے ہیں اُن کا نام رکھ دیا جائے میرا مشورہ بھی یہی ہے این ڈبلیو ایف پی کا فوراً کوئی اچھا سا نام رکھ دیا جائے اور ہاں میرے گاﺅں کا بھی!!ایسا نہ ہو کہ جذبات میں آکر ہم خود اپنا کوئی خواہ مخواہ قسم کا نام رکھ لیں اور آپ منہ تکتے رہ جائیں۔


 

 
 

E-mail: Jawwab@gmail.com

Advertise

Privacy Policy

Guest book

Contact us Feedback Disclaimer Terms of Usage Our Team