اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-250-3200 / 0333-585-2143       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 

Email:-raufamir.kotaddu@gmail.com 

Telephone:-       

 

 

تاریخ اشاعت19-03-2010

سعودی شہنشاہوں کی فکر و سوچ میں تبدیلی

کالم۔۔۔ روف عامر پپا بریار

 
بانی قوم قائد اعظم نے کہا تھا اگر تم سیاسی معاملات میں کسی غلطی کے مرتکب ہوئے تو تم بہت سے ایسے دوستوں کو نقصان پہنچاو گے جو تم پر اعتماد کرتے ہیں۔بھارت جنوبی ایشیا کا دادا گیر بننے کے خبط میں مبتلا ہے۔ اسی لئے بھارتی قیادت پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی رٹ لگائے ر ہتی ہے تاکہ وہ عالمی سطح پر تنہا اور بدنام ہوجائے ۔ پاکستانیوں کو دہشت گرد کہنے والا انڈیا بھارتی مسلمانوں کو اعتدال پسند ی کا زینہ بنا کر مسلم ممالک میں اپنے اثر و رسوخ میں اضافے کی کوششیں کررہا ہے۔بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے پچھلے دنوں سعودی عرب کا کامیاب دورہ کیا۔ موہن سنگھ کے دورے پر مختلف نقطہ ہائے نظر کے تبصرے کئے جارہے ہیں۔بھارت سعودی عرب سے جہاں ایک طرف توانائی کی ضروریات پوری کرنا چاہتا ہے تو وہیں تبصرہ نگاروں نے رائے زنی کی ہے کہ بھارت اسلام اباد اور ریاض کے ریلیشن شپ کو سوت کے دھاگے کی شکل د ینا چاہتا ہے جو تڑک کرکے ٹوٹ جائے۔ پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی بحیرہ ہند سے چوڑی اور کے ٹو کی چوٹیوں سے بھی بلند تر ہے۔شاہ فیصل نے لاہور کی اسلامک کانفرنس 1975میں پاکستان کو اسلام کا قلعہ اور بھٹو کو اسکا چوکیدار کہا تھا۔پاکستان کاجوہری طاقت کا اعزاز بھی سعودی عرب کی لمبی چوڑی مالی امداد سے ممکن بن سکا۔ بھٹو اور شاہ فیصل کو اسلامک ورلڈ یعنی تیسری دنیا کی تشکیل اور امت مسلمہ کو دو قالب یک جان بنانے کے جرم میں عالمی سامراج نے قتل کروایا شاہ فیصل اور بھٹودونوں جلد ہی شہید کئے گئے تاہم انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان جس والہانہ اور ناقابل فراموش دوستی کی بنیاد رکھی تھی وہ اج تک الفت و یگانگت کے روپ میں قائم و دائم ہے۔سعودی عرب مسئلہ کشمیر پر ابتدا سے ہی پاکستانی موقف کا نہ صرف ترجمان رہا ہے بلکہ عرب شہنشاہوں نے مستحکم پاکستان کے لئے ہر مشکل دور میں دامے درمے سخنے اور قدرے مددکی۔اگر کوئی تیسرا فریق پاک سعودی تعلق کو ختم کرنے کے درپے ہے تو پھر ارباب اختیار کو نئی سعودی پالیسی تشکیل دینی ہوگی۔موہن سنگھ کے چار روزہ دورے کا زائچہ بنانے سے پہلے ہمیں تاریخ کے اوراق دیکھنے ہونگے۔ پہلی اسلامک کانفرنس مراکش کے کیپٹل رباط میں22 ستمبر1969 کو منعقد ہوئی۔یہ پہلا موقع تھا جب امت مسلمہ کے سارے حکمران ایک ساتھ بیٹھنے والے تھے۔پاکستانی وفد کی قیادت یحیی خان نے کی۔ بھارت نے منتظمین کو اس نقطے پر قائل کرکے شرکت کا دعوت نامہ حاصل کیا کہ بھارت میں کروڑوں مسلمان اباد ہیں اور بھارتی صدر بھی مسلمان ہیں جو او ائی سی میں شمولیت کے حق دار ہیں۔ یوں او ائی سی کے ارگنائزرز چکنی چوڑی باتوں پر بہک گئے اور بھارتی مسلمانوں کی نمائندگی کے جواز پر نیو دہلی کو مدعو کرلیا ۔بھارتی مسلمانوں کا وفد بھارتی صدر فخر الدین کی سپہ سالاری میں رباط پہنچ چکا تھا۔ پاکستانی وفد پہلے روز جونہی کانفرنس روم میں داخل ہوا تو سارے ایک انڈین سکھ کو دیکھ کر ششدر رہ گئے۔یہ رباط میں بھارتی سفیر تھے۔ صدر پاکستان کو اطلاع دی گئی تو وہ بھی حیرت و استعجاب کی وادیوں میں کھوگئے۔ یحیی خان کا جرنیلی دماغ پھر گیا۔وہ گویا ہوئے کہ کانفرنس میں بھارت کی موجودگی میں پاکستانی وفد شریک نہ ہوگا اور میں بھی ایسی کسی کانفرنس میں شامل نہیں ہوسکتا جہاں ہندو ملک ممبر کی کرسی پر بیٹھا ہو۔ صدر کو قائل کرنے کی کوشش کی گئی کہ انڈین صدر کچھ ہی دیر میں اپنے وفد کے ہمراہ پہنچنے والے ہیں اور وہ مسلمانوں کی نمائندگی کررہے ہیں اسی لئے پاکستانی صدر کو کانفرنس کا بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے مگر یحیی کے اٹل و توانا موقف میں لچک پیدا نہ ہوسکی۔ منتظمین صدر پاکستان کی جرات کے سامنے مٹی کے مادھو بنکر ڈھیر ہوگئے اور بھارتی وفد کو شرکت سے روک دیا گیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ بھارت نے اپنی تذلیل کا بدلہ سقوط ڈھاکہ کی شکل میں لے لیا۔ یحیی خان دو ٹوک موقف نہ اپناتے تو بھارت اج اوائی سی کا رکن ہوتا۔ کہا جاتا ہے کہ بھارت اپنی مسلمان ابادی کے توسط سے ریاض کے ساتھ خوشگوار تعلق استوار کررہا ہے جسکے پس چلمن کئی بھارتی عزائم و مقاصد کار فرماہیں جنکے حصول کی خاطر موہن سنگھ سعودی عرب گئے۔ اندرا گاندھی نے28 سال پہلے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔یہ وہ دور تھا جب سکھوں کی خالصہ تحریک زوروں پر تھی۔پاکستان پر سکھوں کی حمایت کا طومار باندھا گیا۔اندرا گاندھی نے سعودی شہنشاہوں سے اپیل کی تھی کہ پاکستان کو سکھوں کی سرپرستی سے روکا جائے۔ خیالی پلاو پکانے والے پاکستانی حلقوں نے اس خوش گمانی کو سینے سے لگالیا کہ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کے لئے موہن سنگھ نے سعودی شہنشاہ کو دعوت دی مگر من موہن سنگھ نے ثالثی کے ایشو کو یکسر رد کردیا۔ دورے کے متعلق ایک انڈین رپورٹ میں بتاگیا ہے کہ دورے کا اصل مقصد سعودی عرب سے اپیل کرنا مطلوب تھی کہ وہ اپنے دیرینہ دوست پاکستان کو دہشت گردی کی حمایت سے روکے۔ ہندو فلاسفرز کی محنت رنگ لائی اور سعودی حکومت نے ایک بیان جاری کیا کہ سعودی عرب کو پاکستان میں ہونے والی شدت پسندی پر تشویش ہے۔پاکستان فوری طور پر دہشت گردی کو سختی سے روکے۔دوسری طرف من موہن نے عرب شہنشاہوں کو باور کروایا کہ انڈین مسلمان اعتدال پسند ہونے کی وجہ سے دہشت گردی سے نفرت کرتے ہیں۔موہن سنگھ نے سعودی شوری سے خطاب میں بھارتی مسلمانوں کی طرف سے سعودی فرمانروا کوبھارتی دورے کی دعوت دی۔سعودی فرمانروا نے موہن سنگھ کو قیمتی تحائف ،ہیرے اور ڈائمنڈ کی انگوٹھیاں پیش کیں۔ بھارت ایک تیر سے تین شکار کرنا چاہتا ہے۔ایک ارب سے زائد ابادی والے بھارت کو تیل کی ضرورت ہے ۔ سعودی عرب دنیا میں تیل پیدا کرنے والا بڑا ملک ہے۔ بھارت سعودی عرب سے تیل حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔ سعودی عرب میں کام کرنے والے بھارتی ہنر مند افراد کی تعداد پاکستانیوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ موہن سنگھ نے سعودی عرب میں بھارتیوں کے لئے مذید ملازمتیں حاصل کرنے کی کوشش کی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ بھارت اپنے تعلقات وسیع کرکے اوائی سی کی ممبر شپ لینے کا خواہاں ہو؟ پاکستانی تجزیہ نگاروں نے موہن سنگھ کے دورے کو پاکستان کے لئے لمحہ فکریہ قرار دیا کیونکہ بھارت سعودی پائیدار سفارتی تعلق کی صورت میں سعودی عرب مسئلہ کشمیر کی حمایت سے دستبردار ہوسکتا ہے۔ویسے بھی اجکل پاک سعودیہ ریلیشن شپ میں وہ چکا چوند نہیں جو ماضی کا طرہ امتیاز تھی۔ سعودی عرب کی لازاول دوستی میں کمی واقع ہوئی تو ہم امت مسلمہ میں یتیم کے انسووں کی طرح بے توقیر ہوجائیں گے۔ہمارے پالیسی سازوں کو چاہیے کہ وہ ایسی خارجی پالیسی ترتیب دیں جو عرب خطے اور پاکستا ن کے مابین باہمی رشتوں کو دوبارہ ایسی بنیادوں پر استوار کرنے میں ممدون ہو جو یہود و ہنود کی عیاریوں مکاریوں اور شاطریوں کو چکنا چور کردے۔ بھارت کی ایما پر سعودی حکومت کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کے موضوع پر جاری کیا جانیوالا بیان عرب شہنشاہوں کی فکر و سوچ میں معمولی مگر یقینی تبدیلی کا پتہ دیتا ہے۔ کیا ایسا تو نہیں کہ عرب فرمانروا تیل کی فروخت کے لئے بھارت کو بڑی منڈی کا درجہ دے دیں؟ سعودی عرب کے شہنشاہوں کو قائد اعظم کے قول کی روشنی میں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اگر پاکستان کو نظر انداز کرکے کسی اور ریاست کو فوقیت دی گئی تو سعودی شہنشاہوں کو اپنا مشعل بردار تسلیم کرنے اور اعتماد رکھنے والی امت مسلمہ کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا کیونکہ پاکستانی شمولیت کے بغیر او ائی سی اندھی لنگڑی اور لولی بن جائے گی
 

E-mail: Jawwab@gmail.com

Advertise

Privacy Policy

Guest book

Contact us Feedback Disclaimer Terms of Usage Our Team