اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-970-3200 / 0333-832-3200       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Telephone:- 1-514-970-3200

Email:-ceditor@inbox.com

تاریخ اشاعت:۔06-04-2011

چیف جسٹس کا انتباہ
چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمدچودھری کا یہ جملہ بڑا معنی خیز ہے کہ ”خدا نہ کرے ملک میں پھر ایسے حالات پیدا ہوں کہ ججوں کو پی سی او کے تحت حلف اٹھانا پڑے۔“ اس جملے میں ایک واضح انتباہ ہے۔ او ریہ انتباہ صدر زرداری کے کسی سیاسی اداکار کا نہیں‘ ملک کی سب سے بڑی عدلیہ کے سربراہ کا ہے۔ چیف جسٹس جناب افتخار محمد چودھری گزشتہ پیر کو پرویزمشرف کے دور میں پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کی آئینی حیثیت کے مقدمہ کی سماعت کررہے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ وہ خود بھی پی سی او کے تحت حلف اٹھاچکے ہیں لیکن پارلیمنٹ نے اس اقدام کی توثیق کردی تھی جبکہ زیر بحث ججوں کی حلف برداری کی توثیق پارلیمنٹ نے نہیں کی۔ ان ججوں میں اس وقت کے چیف جسٹس مسٹر ڈوگر بھی شامل تھے جن کو فوجی صدر پرویزمشرف نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو برطرف کرکے چیف جسٹس بنایا تھا۔ 3 نومبر 2007 ءکو جب پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کرنے والے ججوں کی جگہ نئے ججوں سے حلف لیا جارہا تھا تو جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت عدالت عظمیٰ کے 7 ججوں نے اس اقدام کے خلاف فیصلہ دیا تھا لیکن ایک آمر کے سامنے کسی کی نہ چل سکی۔ عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ کے 60 سے زائد ججوں کو ان کے گھروں میں محصور کردیا گیا اور چیف جسٹس جناب افتخار محمد چودھری اور ان کے ساتھی ججوں کا فیصلہ عدالت عظمیٰ سے باہر نہ آسکا۔ مقدمہ کی سماعت کے دوران پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے وکیل کی دلیل یہ تھی کہ ان کے موکل کو 3 نومبر کو جاری کردہ حکم کا کسی طور علم ہی نہیں ہوسکا۔ ممکن ہے کہ یہ بات صحیح ہو لیکن اسی دن ٹی وی چینلز پر اور اگلے دن تمام اخبارات میں یہ بات آچکی تھی۔ چنانچہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے جج حضرات اپنے فیصلے سے رجوع لاسکتے تھے۔ اگر اس موقع پر تمام جج حضرات ایک آمر کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کے بجائے متحد ہوجاتے تو نہ صرف عدلیہ کا وقار بلند ہوتا اور نظریہ ضرورت دفن ہوجاتا بلکہ آمریت سے بھی اسی وقت جان چھوٹ جاتی۔ سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے حکومت سے سادہ سا سوال کیا تھا کہ وہ پی سی او ججوں کو کیا آئینی حیثیت دیتی ہے۔ لیکن حکومت کی طرف سے اس سوال کے واضح جواب کے بجائے کہا گیا کہ ججوں کے خلاف کارروائی صرف سپریم جوڈیشل کونسل ہی میں ہوسکتی ہے۔ اس پر عدالت عظمیٰ کا ردعمل یہ تھا کہ جو پوچھا گیا اس کا جواب نہیں ملا۔ حکومت سے استفسار کیا گیا تھا کہ جب 3 نومبر کے اقدام کی پارلیمنٹ نے توثیق نہیں کی تو ایسی صورت میں پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کی آئینی حیثیت کیا ہوگی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اس بات پر شکر کیا کہ ملک میں پہلی بار ایسی پارلیمنٹ آئی ہے جس نے مارشل لا کے کسی اقدام کو تحفظ نہیں دیا‘ خدا کے لیے اس ملک کے آئین او رجمہوریت کو بچائیں‘ یہاں صر ف قانون کی حکمرانی ہونی چاہیے‘ اب صرف آئین کا سکہ چلنا چاہیے‘ آئین پر عمل نہ کیا گیا تو کچھ اور ہوسکتا ہے۔ جناب چیف جسٹس کی اس خواہش پر ہر قانون پسند آمین کہے گا گو کہ ابھی تک قانون کی حکمرانی کا مشاہدہ ہو انہ پارلیمنٹ کی بالادستی کا۔ تاہم حکمرانوں نے ذرا سی بھی سمجھ‘ بوجھ کا مظاہرہ کیا تو آہستہ آہستہ معاملات درست ہوتے جائیں گے۔ ابھی تک تو عدالت عظمیٰ کے فیصلوں پر نیک نیتی سے عمل بھی ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا۔ این آر او منسوخ ہوگیا۔ اس سے فائدہ اٹھانے والوں کے مقدمات کھل گئے لیکن حکومت اب بھی ایسے لوگوں کو نواز رہی ہے جو این آر او کے فیض یافتہ ہیں۔ روزانہ ایک نیا اسکینڈل سامنے آرہا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی تازہ ترین حکم عدولی یہ ہے کہ ایف آئی اے کے افسر سجاد حید رکو چوتھی مرتبہ بحال کردیا گیا۔ سجاد حیدر اور ان کے باس رحمن ملک کو لاہور ہائیکورٹ نے تین سال کی سزا دی تھی جسے صدر نے معاف کردیا تھا۔ لیکن صدر صرف سزا معاف کرسکتا ہے‘ جرم نہیں۔ ان پر دو پاسپورٹ رکھنے کا الزام بھی ہے انہیں سب سے پہلے 2001 ءمیں برطرف کیا گیا تھا۔ ستم یہ ہے کہ اب سجاد حیدر کو ایسے منصب پر تعینات کیا گیا ہے جہاں ان کی دسترس میں اپنی اور اپنے سابق باس رحمن ملک کی بدعنوانی کا ریکارڈ ہوگا۔ این آر او زدہ اور بھی کئی افراد کو موجودہ حکومت نواز چکی ہے۔ ان حالات میں چیف جسٹس کایہ خدشہ کہ آئین پر عمل نہ ہوا تو کچھ اور ہوسکتا ہے اور ایسی نوبت آسکتی ہے کہ پھر جج حضرات پی سی او کے تحت حلف اٹھاتے نظر آئیں‘ بے بنیاد نہیں ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے بھی ذوالفقار علی بھٹو کی برسی پر اپنے خطاب میں یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اسلام آباد میں ٹیکنو کریٹس کی حکومت لانے کی تیاری ہورہی ہے۔ یہ خدشات اپنی جگہ ہیں لیکن کیا حکمران ان کے اسباب اور اپنی کارکردگی پر غور کرنے کی زحمت اب بھی نہیں کریں گی؟ چیف جسٹس کہہ رہے ہیں کہ اگر قوم کو کچھ بھگتنا پڑا تو اس کے ہم سب ذمہ دار ہوں گے‘ اب مزید غلطی کی گنجائش نہیں ہے۔ صحیح ہے کہ نتائج پوری قوم بھگتے گی لیکن اس کی پوری ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوگی۔ عوام تین میں نہ تیرہ میں۔ لیکن حکمرانوں کی حماقتوں‘ غلطیوں اور بدعنوانیوں کے نتائج انہی کو بھگتنا پڑتے ہیں۔ حکمران تو سامان سمیٹ کر ملک سے باہر نکل جاتے ہیں۔
 

Email to:-

 
 
 
 
 
 

© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved

Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved