اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-970-3200 / 0333-832-3200       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Telephone:- 1-514-970-3200

Email:-ceditor@inbox.com

تاریخ اشاعت:۔21-04-2011

فوجداری نظام عدل ناکام
پاکستان کی انسانی اور حقوقِ نسواں کی تنظیموں نے مختاراں مائی سے اجتماعی زیادتی کے پانچ ملزمان کی رہائی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے عدالتی فیصلوں سے خواتین پر تشدد کے واقعات کی حوصلہ افزائی ہوگی۔
پاکستان میں خواتین پر جنسی تشدد اور ان کو ہراساں کرنے کا معاملہ کئی برس سے زیرِ بحث ہے مگر سنہ دو ہزار دو میں مختاراں مائی سے اجتماعی جنسی زیادتی کے واقعے کے بعد مقامی اور بین الاقوامی سطح پر اس بحث میں شدت آگئی اور اس سلسلے میں قانون سازی اور اس پر مؤثر عمل درآمد کے مطالبات سامنے آنے لگے تھے۔

مختاراں مائی کا مقدمہ ایک آزمائشی کیس تھا بظاہر ایسا لگتا ہے کہ کرمنل جسٹس سسٹم خواتین کو انصاف دینے میں مکمل طور پر ناکام ہوگیا ہے اس لیے اب اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے بصورت دیگر اس طرح سے مجرموں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔
حکومت کی جانب سے خواتین کی حیثیت کے بارے میں بنائے گئے کمیشن کے چیئرپرسن انیس ہارون کا کہنا تھا کہ مختاراں مائی کا مقدمہ ایک آزمائشی کیس تھا بظاہر ایسا لگتا ہے کہ کرمنل جسٹس سسٹم خواتین کو انصاف دینے میں مکمل طور پر ناکام ہوگیا ہے اس لیے اب اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے بصورت دیگر اس طرح سے مجرموں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

انیس ہارون کے مطابق’ کمیشن پہلے بھی قانون پر نظرثانی کی سفارشات دے چکا ہے اور اُن سفارشات کو دوبارہ بھیجےگا، ہم صرف قانون بنانے کا مطالبہ نہیں کرتے اس پر موثر عملدرآمد کی بھی بات کرتے ہیں۔‘

مختاراں مائی کا مقدمہ ایک آزمائشی کیس تھا بظاہر ایسا لگتا ہے کہ کرمنل جسٹس سسٹم خواتین کو انصاف دینے میں مکمل طور پر ناکام ہوگیا ہے اس لیے اب اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے بصورت دیگر اس طرح سے مجرموں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

کمیشن کے سربراہ انیس ہارون
انسانی حقوق کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمیشن کی رہنما حنا جیلانی کے مطابق انہیں یہ لگتا ہے کہ یہ ایک وسیع مسئلے کی نشاندھی کر رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک ایسا جرم جو بے شمار گواہوں کی موجودگی میں ہوا اور لوگوں نے اس حقیقت کو قبول کیا تو کیا وجہ ہے کہ عدالتی سطح پر جاکر اس کا سدباب نہیں ہوسکا۔

حنا جیلانی کا کہنا ہے ’یہ ایک ایسا جرم ہے جس میں مدعی اپنے موقف پر قائم رہی، کوئی متضاد بیان نہیں آیا اور نہ شواہد کمزور رہے تو پھر قانون کو دیکھنے کی ضرورت ہے کہ جنسی زیادتی کے مقدمات کے ٹرائیل میں جن شواہد کی ضرورت ہے اور جس طریقے سے عدالتوں کو شواہد دیکھنے کی پریکٹس ہے کیا وہ مناسب ہے؟ اس صورتحال میں زیادتی کے ملزمان کو سزا کی شرح اتنی کم ہے جونہ ہونے کے برابر ہے۔‘

یہ ایک وسیع مسئلے کی نشاندھی کر رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک ایسا جرم جو بے شمار گواہوں کی موجودگی میں ہوا اور لوگوں نے اس حقیقت کو قبول کیا تو کیا وجہ ہے کہ عدالتی سطح پر جاکر اس کا سدباب نہیں ہوسکا۔

کمیشن کی رہمنا حنا جیلانی
جنسی زیادتی کا شکار خواتین کو انصاف کی فراہمی کے لیے کام کرنے والے ادارے ’وار اگینسٹ ریپ‘ کا کہنا ہے کہ جنسی زیادتی کے مقدمات میں سزائیں نہ ہونے کے قصوروار تفتیش کاروں ہوتے ہیں جو یا تو بدعنوان یا نااہل ہوتے ہیں۔

تنظیم کی سوشو لیگل افسر خالدہ قادری کا کہنا ہے کہ واقعے کی ایف آئی ار اور طبی معائنہ کرانے کے وقت سے شواہد اور حقائق مسخ ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔

پولیس اپنی مرضی سے ایف آئی آر درج کرتی ہے جس میں وقت اور واقعے کے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے، جس کا آگے جاکر ملزم کو فائدہ پہنچتا ہے مثلاً دن کو رات یا رات کو دن تحریر کیا جاتا ہے بعد میں ملزم کہتا ہے کہ اس وقت تو وہ فلاں جگہ موجود تھا اسی طرح متاثرہ لڑکی اگر کہتی ہے کہ وہ گھر سے جارہی تھی تو لکھا یہ جاتا ہے کہ وہ گھر آرہی تھی۔

خالدہ قادری کے مطابق میڈیکل چیک اپ میں بھی تاخیر ہوتی ہے پولیس کا مطالبہ ہوتا ہے کہ میڈیکل رپورٹ لاؤ پھر ایف آئی آر ہوگی جبکہ لیڈی ڈاکٹر کہتی ہیں کہ ایف آئی آر لاؤ پھر چیک اپ ہوگا۔ دیہی علاقوں کی سرکاری ہسپتالوں میں لیڈی ڈاکٹروں کی کمی ہے جہاں پہنچنے میں بھی وقت لگتا ہے اس طرح تاخیر سے شواہد مٹتے جاتے ہیں۔

خالدہ قادری کا کہنا تھا کہ متاثرہ لڑکی یا خاتون کے جو نمونے حاصل کیے جاتے ہیں انہیں کیمیائی تجزیاتی لیبارٹری تک پہنچانے میں تاخیری حربے استعمال کیے جاتے ہیں جس سے ثبوت متاثر ہوتے ہیں اور پولیس ان کو مطلوبہ درجہ حرات میں نہیں رکھتی۔ اسی طرح گواہوں کو ورغلایا جاتا ہے یا ڈرایا دھمکایا جاتا ہے جس سے ان کے بیانات متضاد ہوجاتے ہیں اس پوری مشق کا فائدہ ملزم کو پہنچتا ہے‛۔

انسانی حقوق کمیش کی رپورٹ کےمطابق گزشتہ سال انتیس سو خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جن میں پچہتر فیصد واقعات صوبہ پنجاب میں پیش آئے جہاں سے مختاراں مائی کا بھی تعلق ہے۔

 
 

Email to:-

 
 
 
 
 
 

© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved

Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved