|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
 |
|
|
|
|
|
Telephone:- 1-514-970-3200 |
Email:-ceditor@inbox.com |
   |
|
تاریخ اشاعت:۔27-04-2011 |
|
الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کی ذمہ داری پوری کی جائے |
چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے الیکشن کمیشن کی عدم
تشکیل کے خلاف دائر آئینی درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے
ہوئے کہا کہ ایک سال گزرنے کے بعد بھی آئین پر عملدرآمد نہیں ہوا۔
آزاد اور شفاف انتخابات کیلئے آئین کے مطابق الیکشن کمیشن کی تشکیل
ضروری ہے۔ الیکشن کمیشن آئین کے مطابق کام نہیں کر رہا ہے انہوں نے
کہا کہ آئین پر عملدرآمد نہ کرنے کے نتائج سے سب آگاہ ہیں جس کسی نے
بھی آئین کے تحت حلف اٹھایا ہے اس کو آئین سے انحراف کے نتائج معلوم
ہونے چاہیے۔ ماضی میں بھی آئین سے انحراف کیا گیا جس کے سنگین نتائج
برآمد ہوئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ملک میں اس وقت جمہوری حکومت ہے مگر
بار بار نوٹس لینے کے باوجود بھی اب تک الیکشن کمیشن تشکیل نہیں
پاسکا۔
اٹھارویں ترمیم کو منظور ہوئے ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے ۔
اٹھارویں ترمیم میں جہاں اور بہت ساری آئینی تبدیلیوں اور اداروں کی
تشکیل نو کی بات تھی وہاں الیکشن کمیشن کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ
حکومت تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے آزاد الیکشن کمیشن تشکیل دے
گی لیکن تاحال نہ تو آزاد الیکشن کمیشن کا قیام ممکن ہوسکا ہے اور نہ
ہی احتساب کا نظام درست ہوسکا ہے۔
اٹھارویں ترمیم اب آئین کا حصہ بن چکی ہے اب اگر اٹھارویں ترمیم کی
کسی بھی شق پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا ہے تو یہ آئین کی خلاف ورزی ہے
اور اس آئین کی خلاف ورزی کی وجہ سے ہی ملک میں آج تک سیاسی استحکام
نہیں آسکا ہے۔ قومیں، معاشرے اور ملک اسی صورت استحکام پاسکتے ہیں کہ
آئین پر عملدرآمد ہو ، عدل کا نظام ہو ، انصاف عام ہو۔ جن معاشروں
میں آئین صرف کتابوں کی حد تک موجود ہو اور ہر آنے والا حکمران حلف
تو آئین کا اٹھائے لیکن کرے وہ جو صرف اس کے مفاد میں ہو تو وہ ملک و
قوم اور معاشرے کبھی بھی استحکام نہیں پاسکتے او ر جہاں آئین پر
عملدرآمد نہ ہو وہاں انتشار ، انارکی اور افراتفری کے ماحول کا پیدا
ہونا حیرانگی کی بات نہیں۔ افراد سے لے کر اداروں تک آئین کے تابع
ہوں تو نظام میں خلل پیدا نہیں ہوتا اور اگر آئین کے تحت ادارے مضبوط
بنانے کی بجائے صرف چند شخصیات کے تحفظ اور مفادات کیلئے آئین کا
مذاق اڑایا جائے تو ترقی کا عمل رک جاتا ہے۔ سیاست مفادات کا کھیل
اور حکمرانی طاقت کا نشہ بن جایا کرتی ہے۔ پاکستان میں روز اول سے
آئین کو محض ایک کتاب سے زیادہ درجہ نہیں دیا گیا اور جس فوجی جرنیل
نے چاہا کہ حکومت پر قبضہ کرنا ہے آئین کو معطل کرکے آمریت مسلط کر
دی اور جب دیکھا کہ اب آمریت بھی ناکام ہوچکی ہے اور اس کے خلاف عوام
اٹھ رہے ہیں تو آئین کے ساتھ نیا کھلواڑ کیا اور آمریت کی چھتری تلے
جمہوریت کے نام سے مفاداتی گروہ جمع کیے۔ یہ مذاق ملک و قوم کے ساتھ
کسی ایک آمر نے نہیں کیا بلکہ ہر آنے والے آمر اور حتیٰ کہ جمہوریت
کے نام پر آنے والے حکمرانوں نے بھی کیا۔ ہر حکمران کی خواہش رہی ہے
کہ آئین اس کے تابع ہو۔ یہی وہ روش ہے جس کی وجہ سے ہمارے ملک میں نہ
تو جمہوریت پنپ سکی اور نہ ہی ہمارے ا دارے مضبوط ہوسکے ہیں۔
63 برسوں کے بعد ہماری عدالتیں آزاد ہوچکی ہیں لیکن جمہوریت ابھی تک
اس طبقے کے ہاتھ میں ہے جو جمہوریت کے نام پر خاندانی ، مفاداتی اور
ذاتی خواہشات اور مفادات کی سیاست کا قائل ہے۔ یوں تو ہمارے ملک میں
الیکشن بھی ہوتے ہیں بظاہر وہ تمام طریقے بھی آزمائے جاتے ہیں جو
جمہوری ملکوں میں رائج ہیں لیکن عوام پر بار بار وہی چہرے مسلط ہوتے
ہیں جو 63 برسوں سے مسلط ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ ہمارے اداروں کو
ابھی تک حقیقی آزادی نصیب ہی نہیں ہوئی ہے جب تک ادارے آزاد نہ ہوں ،
آئین کی تابعداری نہ ہو ، یہی طبقات ملک و قوم کی تقدیر کے ساتھ
کھیلتے رہیں گے۔ اگر اس کھیل کو ختم کرنا ہے تو اس کیلئے ضروری ہے کہ
ہمارے ادارے حقیقی معنوں میں آزاد ہوں اور آئین کی پاسداری کو یقینی
بنایا جائے۔ ایک آزاد الیکشن کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے۔
احتساب کا مضبوط ادارہ قائم کیا جائے۔
جمہوریت کی مضبوطی کیلئے پہلی سیڑھی آئین کی پاسداری ہے جب آئین پر
مکمل عملدرآمد ہو تو جمہوری ادارے صحیح طور پر کام کرسکیں گے اور
جہاں تک الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کی بات ہے تو جب تک آزاد الیکشن
کمیشن تشکیل نہیں دیاجاتا وہی چہرے کسی نہ کسی طریقے سے اسمبلیوں تک
پہنچیں گے جو 63 برسوں سے مختلف پارٹیوں کی شکل میں آرہے ہیں جب تک
آزادانہ الیکشن نہیں ہوں گے عوام جن کو آگے لانا چاہتی ہے وہ آگے
نہیں آسکتے۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر تمام سیاسی جماعتیں
اور حکومت جمہوریت کی مضبوطی چاہتی ہیں تو نہ صرف آزاد الیکشن کمیشن
تشکیل دیا جائے بلکہ نیب سمیت تمام اداروں کو آئین کے تحت تشکیل دیا
جائے تاکہ جمہوریت کی ترقی اور عوامی مسائل کے حل کا خواب شرمندہ
تعبیر ہوسکے۔
|
|
|
|
|
|
|
 |
 |
|
|
 |
|
|
 |
|
|
|
|
|
© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved |
|
Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved
|