اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-970-3200 / 0333-832-3200       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Telephone:- 1-514-970-3200

Email:-ceditor@inbox.com

تاریخ اشاعت:۔10-05-2011

اسامہ کے بعد پاکستان پر ایک نئے دبائو کی شروعات
 
امریکی صدر باراک اوبامہ کا دورہ پاکستان ملتوی کر دیا گیا ہے اور پاکستان سے کہا گیا ہے کہ وہ اسامہ کا نیٹ ورک ڈھونڈے میں مدد کرے۔ امریکی قومی سلامتی کے مشیر کا کہنا ہے کہ واشنگٹن یہ نہیں جانتا کہ اسامہ کا حامی نیٹ ورک حکومت میں شامل ہے یا نہیں۔ دوسری جانب وائٹ ہائوس کی طرف سے کہا گیا ہے کہ پاکستان اسامہ بن لادن کے بیوی بچوں تک رسائی دے۔
وہی ہوا جس کا خدشہ ہم نے اسامہ بن لادن کے بعد اپنے اداریوں میں ظاہر کیا تھا کہ اب امریکی ان لوگوں کا پیچھا کریں گے جن کا اسامہ کے ساتھ کسی نہ کسی حوالے سے تعلق رہا ہے۔ ان لوگوں کی تلاش کے لئے امریکی کون سا راستہ اختیار کرتے ہیں ہمیں اس کا اندازہ تو نہیں لیکن اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کے حوالے سے دونوں ملکوں کے درمیان شکوک و شبہات کی جو دیوار کھڑی ہوگئی ہے اس کی موجودگی میں یہ ممکن ہی نہیں کہ امریکی انتظامیہ یہ ذمہ داری کلی طور پر پاکستانی حکومت کو سونپے، وہ اپنے انداز میں یہ سب کچھ کریں گے اور چاہیں گے کہ انہیں پورے پاکستان تک رسائی دی جائے۔ انہیں رسائی دینے کا مطلب قومی خودکشی کے مترادف ہوگا کیونکہ ایک ایٹمی ملک میں غیر ملکی جاسوسوں کی بھرمار کن نتائج کی حامل ہوسکتی ہے ہمیں اس کا بخوبی اندازہ ہے۔
عدم اعتباریت کے اس ماحول میں حکومت کے پاس دو آپشن ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ امریکی مطالبہ مان لے اور دوم یہ کہ امریکہ کو صاف انکار کر دے کہ ہم اپنی سرزمین پر مزید کسی آپریشن کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ایک تیسرا راستہ بھی ہے لیکن اس پر چلنے میں بھی سراسر نقصان ہے۔ یعنی یہ کہ امریکی خواہ کچھ بھی کہتے رہیں۔ ہم خود آپریشن کرکے اسامہ کے حامی پکڑتے جائیں اور امریکہ کے حوالے کرتے جائیں لیکن اس کے باوجود امریکی ہم پر اعتبار نہیں کریں گے اور یہی سمجھتے رہیں گے کہ ہم جتنے لوگوں کو پکڑ کر اس کے حوالے کر رہے ہیں اس سے بہت بڑی تعداد کو ادھر ادھر کرتے جارہے ہیں۔
ہماری رائے میں عزت اور آبرو کے ساتھ جینے کا صرف ایک ہی آپشن ہے کہ ہم امریکہ کو صاف انکار کر دیں اور اس پر یہ بھی واضح کر دیں کہ اگر اب امریکی طیارے، ہیلی کاپٹرز یا امریکی جاسوس پاکستانی حدود کو پامال کرنے کے لئے آئے تو اس عمل کو پاکستان پر حملے سے تعبیر کیا جائے گا اور کوئی طیارہ، کوئی ہیلی کاپٹر بچ کر افغانستان یا امریکہ واپس نہیں جا پائے گا۔
کوئی شک نہیں کہ امریکہ اسے اپنے ساتھ ٹکر سمجھے گا اور ہم پر بہت سی بندشیں عائد کر دے گا لیکن ہمارے پاس اب جینے کے دو راستے ہیں۔ پہلا راستہ بے غیرتی کا راستہ ہے یعنی ہم امریکی غلامی قبول کرلیں اور پورے ملک کو امریکیوں کی چراگاہ بنا دیں او دوسرا راستہ یہ ہے کہ پوری قوم روکھی سوکھی کھا کر عزت کی زندگی گزارنے کے لئے تیار ہو جائے۔
اس راستے کو اختیار کرنے سے پہلے یقیناً حکمرانوں پر لرزہ طاری ہوگا، حکومت میں شامل وہ لوگ آڑے آئیں گے جن کے امریکہ اور یورپ میں بنک اکائونٹس اور جائیدادیں ہیں لیکن جن لوگوں کا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے اور ڈالروں کی چمک نے جنہیں اندھا نہیں کیا وہ اس حوالے سے حکومت کی حمایت کریں گے اور وقت کی تپتی بھٹی میں سے پاکستانی قوم کندن بن کر نکلے گی۔
حکمران اشرافیہ یہ خیال دل سے نکال دے کہ اس راستے پر چلنے کی صورت میں امریکہ ہمارے ساتھ نہ جانے کیا کچھ کر دے گا۔ یقیناً وہ بہت بھونڈی چالیں چلے گا لیکن ہمارا کچھ بھی نہیں بگاڑ پائے گا کیونکہ جب ملک میں ڈالروں کی کرشمہ سازی بند ہو جائے گی تو امریکہ کے خلاف ملک میں ایک ماحول بن جائے گا اور پاکستانی عوام پہلی بار قوم بن کر امریکہ سے وہ سوال بھی کریں گے جو اس سے پہلے نہیں کئے گئے۔ مثال کے طور پر یہ سوال کہ آج پاکستان جس دلدل میں پھنسا ہوا ہے اسے پھنسانے والا کون ہے؟ افغان جہاد کی کامیابی کے بعد ہم نے امریکہ کو چھوڑا تھا یا امریکہ ہمیں اور افغانوں کو کلاشنکوفوں اور بموں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر بھاگ گیا تھا؟
پاکستان کی دو غیر قانونی اور ناجائز حکومتوں (ضیاء اور مشرف کی آمریت) کو سند جواز دینے والا کون تھا؟ اور کس نے ان دو آمروں کو 19سال تک پاکستانی عوام پر مسلط رکھتے ہوئے ان سے غیر قانونی اور غیر اخلاقی کام کروائے، صرف یہی نہیں جمہوریت پسندوں کا راستہ روکنے کے لئے ان کی مدد کی اور جب ان دونوں کو نچوڑ لیا تو ان سے جان چھڑاتے ہوئے اسی جمہوریت کی حمایت شروع کر دی جو 19برسوں تک امریکہ کی نظروں میں راندہ درگاہ رہی۔
اور یہ سوال بھی تو ہوگا کہ امریکہ نے ہر جمہوری حکومت کے ساتھ ساتھ جمہوری حکمرانوں کو بھی یرغمال بنا کر رکھا۔ ان کے اردگرد خوف کے ایسے پہرے بٹھا دئیے گئے کہ یہ حکومتیں عوام کو نہ تو ڈلیور کر سکیں اور نہ ہی ان مسائل سے نجات دلا سکیں جو آمرانہ دور کی پیداوار تھے۔ ان ڈری سہمی حکومتوں کا ایک ماڈل آج بھی ہمارے سامنے ہے۔ اسامہ کے حوالے سے نہ صدر زرداری کا ماضی میں کوئی رول رہا نہ وزیراعظم گیلانی کا لیکن امریکہ نے دوسروں کے گناہوں کا منوں ملبہ ان کے سر پر ڈال رکھا ہے اور انہیں کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ یہ اس مصیبت سے کیسے جان چھڑائیں۔
 

Email to:-

 
 
 
 
 
 

© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved

Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved