اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-970-3200 / 0333-832-3200       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Telephone:- 1-514-970-3200

Email:-ceditor@inbox.com

تاریخ اشاعت:۔10-05-2011

اسامہ کے بعد پاکستان پر ایک نئے دبائو کی شروعات
پرویز مشرف کو اپنی بے گناہی ثابت کرنا ہوگی
محترمہ بینظیر بھٹو قتل کیس میں پرویز مشرف کو راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر3 نے اشتہاری قرار دے دیا ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ برطانیہ سے مجرموں کی حوالگی کا معاہدہ نہ ہونے کے باعث سابق صدر کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہیں ہوسکتی۔ اس ضمن میں برطانوی وزارت داخلہ کی رپورٹ عدالت میں پیش کر دی گئی جس کے بعد پبلک پراسیکیوٹر نے استدعا کی کہ مرکزی ملزم کے اشتہارات ضلع کچہری اور عوامی مقامات پر آویزاں کیے جائیں۔ عدالت نے اخبارات میں اشتہارات شائع کرانے کا نوٹس جاری کر دیا۔ ذرائع کے مطابق آئندہ سماعت پر پرویز مشرف کی جائیداد کی قرقی کی کارروائی ہوگی۔
پرویز مشرف پاکستانی سیاست اور معاشرت کا ایک ایسا کردار ہیں جنہوں نے نہ صرف ایک منتخب حکومت پر شب خون مارا بلکہ اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لئے پوری قوم کو دہشت گردی کی دلدل میں دھکیل دیا۔ موصوف ایک زمانے میں کمانڈو تھے لیکن ان کی بزدلی کا یہ عالم ہے کہ سات سمندر پار بیٹھ کر بھی قوم کو امریکہ کی طاقت سے ڈرا رہے ہیں۔
ان کی طرف سے تازہ ترین بیان یہ سامنے آیا ہے کہ اگر وہ دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ میں ساتھ دینے کی حامی نہ بھرتے تو امریکہ پاکستان کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیتا۔
پرویز مشرف کی شخصیت کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ وہ امریکہ سے بہت ڈرتے تھے جبکہ اپنے عوام کے لئے شیر تھے۔ اپنے ملک کے کمزور لوگوں پر جب بھی چڑھائی کرتے تو فخریہ انداز میں کہتے کہ ان کے پاس بہت طاقت ہے۔ انہوں نے لال مسجد کی بے گناہ بچیوں پر چڑھائی کرکے انہیں روند ڈالا ، نواب اکبر بگٹی جیسے بزرگ سیاستدان کو قتل کرایا۔ سینکڑوں بے گناہ پاکستانیوں کو امریکہ کے ہاتھوں بیچ دیا۔ فاٹا کو خودکش حملہ آوروں کی فیکٹری بنا دیا اور اپنے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو پامال کرتے چلے گئے۔
انہوں نے طاقت کے زعم میں کئی مرتبہ یہ بات کی کہ نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے لئے سیاست کے دروازے اب بندہوچکے۔ بسا اوقات یہ بھی کہا کہ یہ لوگ اب باہر ہی رہیں گے۔ پھر جب محترمہ بے نظیر بھٹو کراچی پہنچیں تو ان پر خوفناک انداز میں قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ اس حملے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو تو ٹرک میں ہونے کی وجہ سے محفوظ رہیں لیکن کم و بیش ڈیڑھ سو پارٹی کارکن جاں بحق ہوگئے۔ پرویز مشرف نے اس کارروائی کو بیت اللہ محسود گروپ کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی جبکہ ملک میں کوئی بھی یہ بات ماننے کو تیار نہ تھا کہ اتنا بڑا اور منظم حملہ بیت اللہ محسود گروپ کے بس کی بات تھی۔
لیاقت باغ کے باہر محترمہ پر جو قاتلانہ حملہ ہوا وہ کوئی عام کارروائی نہ تھی۔ اسے بھی بیت اللہ محسود کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی گئی لیکن صدر آصف علی زرداری سے لے کر کسی بھی ذمہ دار شخص نے یہ بات تسلیم نہ کی کہ محترمہ کی شہادت بیت اللہ محسود گروپ کی کارروائی تھی۔ دبے لفظوں میں ان گنت لوگوں نے پرویز مشرف پر شک ظاہر کیا کیونکہ محترمہ کی موجودگی میں ان کی دال نہیں گل سکتی تھی۔ یہ الگ بات کہ انہیں اقتدار پھر بھی چھوڑنا پڑا تاہم یہ معلوم نہیں کہ اس کے بدلے میں انہیں کیا کیا ضمانتیں فراہم کی گئیں۔
بالعموم جو مجرم ہوتا ہے وہ عدالت کے سامنے سرنڈر نہیں کرتا ۔ بے گناہ ملز م تو چاہتا ہے کہ عدالت میں پیش ہوکر اپنی بے گناہی ثابت کرے تاکہ اس پر لگادھبہ دھل جائے۔ اس کسوٹی پر جب ہم پرویز مشرف کو دیکھتے ہیں تو وہ قانون کے سامنے سرنڈر کرنے کو تیار نظر نہیں آتے ۔ یا تو وہ اپنی بے گناہی ثابت نہیں کرسکتے یا ابھی تک اس زعم میں مبتلا ہیں کہ وہ ایک سابق جرنیل ، پاکستان کے سابق صدر اور ایسی شخصیت ہیں جن کے لئے قانون موم کی ناک سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا یا پھر انہیں اطمینان ہے کہ صدارت چھوڑنے کے عوض انہیں جو بین الاقوامی گارنٹی ملی تھی اس کی موجودگی میں ان کے وارنٹ نکلیں یا اشتہاری قرار دے دیئے جائیں کوئی مائی کا لال انہیں پکڑ نہیں سکتا۔
ممکن ہے ایسا ہی ہو لیکن ایک چیز ہوتی ہے مکافات عمل جس کی زد میں وہ بہرحال آچکے ہیں اور اب دنیا میں ان کی شناخت ایک مفرور اور اشتہاری کی ہے۔ جب تک یہ شناخت برقرار ہے وہ د نیا میں کہیں بھی چین سے نہیں رہ سکیں گے۔
درحقیقت ان کی گردن پر ایک نہیں کئی خون ہیں۔ اور آستین کا لہو پکارتا رہتا ہے اس وقت تک ، جب تک کہ خون کرنے والا سزا نہ پاجائے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ محترمہ بینظیر بھٹو نے جن دوسرے افراد پر شک ظاہر کیا تھا ان سے بھی تفتیش ہونی چاہیے کیونکہ انصا ف اور قانون کا بنیادی تقاضا ہوتا ہے کہ جن پر مقتول یا مقتولہ نے اپنی زندگی میں شک کیا ہو ، انہیں شامل تفتیش کیا جاتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت وقت کو پرویز مشرف کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کے لئے بھرپور طریقے سے عدالت کی مدد کرنی چاہیے تاکہ وطن عزیز کے اٹھارہ کروڑ عوام کو یہ تاثر ملے کہ قانون صرف غریبوں پر ہی ہاتھ نہیں ڈالتا بااثر اور طاقتور لوگوں کی گردنیں بھی ناپتا ہے۔
 

Email to:-

 
 
 
 
 
 

© Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved

Copyright © 2010 urdupower.o.com, All rights reserved