|
پاکستان کی
معاشی
شہہ رگ میں زندگی کی رعانائیوں کا خون دوڑانے والی کراچی میں یوم عاشور
کو ہونے والے غمناک واقعات اور خونخوار دہشت گردی کا درد ناک منظر ابھی
تک زہن سے محو نہیں ہوا خون شہداکی لالی ابھی تک خشک نہیں ہوئی کہ
الیکٹرانک میڈیا دوبارہ اداروں کے تصادم کا راگ الاپ رہا ہے۔پاک فوج
اور صدر مملکت کے درمیان رنجش و شورش کے قصے بھی زرائع ابلاغ کے ازراہ
تفنن کا زریعہ بنے ہوئے ہیں۔جمہوری اقدار کی کبریائی کی خواہش رکھنے
والے دانشوروں اور سیاسی موشگافیوں پر تجزیہ نگاروں نے رائے دی ہے کہ
صدر کی اپنی زوجہ بینظیر بھٹو کی دوسری برسی 27 دسمبر1999 پر کی
جانیوالی تقریر نے پاک فوج اور ایوان صدر کے تعلقات میں ایسی گرہ لگادی
ہے جو دھیرے دھیرے ہی کھلے گی اور اب دونوں فریقوں کو اگے بڑھنا
ہوگا۔گوایوان صدر کے ترجمان اور وزیراعظم گیلانی نے دوٹوک انداز میں
طرفین کے مابین کسی قسم کی کدورت کو خارج از امکان قرار دیا۔زرداری نے
مغمور و جذباتی امیزش میں گندھی ہوئی تقریر کی۔صدر وفاق کی علامت ہیں
جنکی نیت پر شک کیا جانا بھی درست نہیں تاہم یہ بھی سچ ہے کہ زرداری
صاحب کی شعلہ نوائی میں چند تلخ جملے ایسے بھی تھے کہ یار لوگوں نے
اپنے اپنے مطالب اخذ کرنے میں کوئی کسر نفسی سے کام کیا۔جی ایچ کیو و
ایوان صدر کی سرد جنگ کے خدشات پر اس وقت حقیقت کا رنگ چھا گیا جب سابق
گورنر سندھ کمال اظفر نے عدالت عظمی کے روبرو فائر کیا کہ جمہوریت اور
ایوان صدر جی ایچ کیو سے خطرات کی باد سموم کی بو سونگھ رہے ہیں۔یوں دل
کی بات بے ساختہ زبان پر اہی گئی۔کمال اظفر کو جونہی اپنی ناعاقبت
اندیشی کا احساس ہوا تو انہوں نے سیاسی قلابازی کھائی اور اپنی وضاحت
یوں کی کہ یہ نقطہ نظر انکا اپنا ہے نہ کہ فیڈریشن کا۔کمال اظفر کے
نظرئیے نے حکومتی سبکی کا پکا پکا انتظام کردیا۔ خرد کو جنون اور جنون
کو خرد کہنے سے حقائق بدلا نہیں کرتے اور نہ ہی پلوں کو بہا لے
جانیوالا طوفانی سیلاب سوچوں و خوابوں کی تعمیرات سے روکا جاسکتا
ہے۔صدر مملکت نے جمہوریت کے ساتھ والہانہ وابستگی کا اظہار یوں کیا تھا
کہ جمہوریت کی طرف میلی انکھ دیکھنے والوں کی انکھیں نکال لی جائیں
گی۔صدر کے انکھیں نکال دینے کے جملے کو پی پی پی سے عداوت رکھنے والوں
نے افواج پاکستان کی طرف اچھالنے کی لن ترانیاں کی ہیں۔دوسری طرف
حکومتی ایوانوں میں صدر مملکت کی تقریر کے متنازعہ سمجھے جانیوالے
جملوں و لفظوں کے لئے تاویلات کی پٹاری کھل چکی ہے۔وزیرداخلہ کہتے ہیں
کہ صدر کا مطلب تھا کہ جمہوریت کو دہشت گردوں سے خطرہ ہے اور یہ سارا
کھیل نان سٹیٹ ایکٹر کروارہے ہیں۔رحمن ملک منجھے ہوئے بیوروکریٹ ہیں جو
پوری دلجمعی سے دہشتگردی کے خلاف ہونے والے اپریشن میں فرنٹ لائن
کھلاڑی کا رول نبھا رہے ہیں مگر ایہ تاویلیں عذر گناہ بدتر از گناہ کے
مترادف ہیں۔جمہوریت کو ہمیشہ امریت سے خطرہ ہوتا ہے۔ہمارے دیس میں پہلی
امریت 1958سے لیکر بارہ اکتوبر والی مشرفی ڈکٹیٹرشپ 1999کے بانیان
چونکہ جرنیل تھے اسی لئے جب کبھی جمہوریت کو لاحق خدشات کا ترانہ مترنم
اواز میں گایا جاتا ہےتب اسکی سر تال دھیان کو پاک فوج کی طرف مائل
کردیتی ہے۔صدر مملکت افواج کے سپریم کمانڈر ہیں انہیں اپنے ریمارکس کے
ضمن میں احتیاط برتنی چاہیے تھے۔صدر کی سوچ کا دائرہ بے شک دہشت گردوں
تک محیط ہو مگر یہ بھی سچ ہے کہ دل جلوں نے دوسری طرف اگ کا الاو
دہکادیا ۔ویسے بھی ترکش سے نکلنے والا تیر سامنے کھڑے ہوئے فرد کی انکھ
ناک یا پیٹ میں ضرور پیوست ہوتا ہے ۔غیر جمہوری عناصر اور ٹی وی کے
اینکرز کی طرف سے لگائی جانے والی اگ کو بجھانا لازمی ہے۔کالم نویس نہ
تو سیاسی تجزیہ نگاری کے فن میں یگانہ روز گار ہیں اور نہ ہی فقیہ شہر
ہیں جو لغت ہائے حجازی کے قارون کہلاتے ہیں۔پاکستان ہمیں دل و جان سے
پیارا و ر عزیز ہے یہی ہمارا نشیمن اور شاخ نشیمن بھی یہی ہے۔ قلمی
مزدور تو کہاوتوں و حکائیتوں کی شوشہ ارائی اور بے پرکیوں و مفروضات کی
غوغہ ارائی کاغیر جانبدارانہ تجزیہ کرکے اسے صفحہ قرطاس کی زینت بنانے
کی سعی کرتے ہیں تاکہ ایک طرف حقیقی مرض کی تشخیص کی جاسکے اور پھر اس
مرض سے چھٹکارہ پانے کی دوا کا بندوبست کیا جائے۔طرفین کے کیمپوں میں
موجود وہ اصحاب کہف فاقر العقل ہیں جو اختلاف رائے کی شدت و حدت کو
اتنا بھڑکادیتے ہیں جو ہمیشہ قومی المیوں پر متنج ہوتی ہیں ۔ شاہ سے
زیادہ شاہ کی تابعداری میں رطب اللسان یہ گروہ اپنی ڈیڈھ اینٹ کی الگ
مسجد تیار کرنے کا فن جانتا ہے جو قوموں کی سربلندی و فکری و شعوری
بلوغت کے لئے وبال جان ثابت ہوتی ہیں۔دس سال کے عہد شب کے بعد طلوع
ہونے والی جمہوریت کے استحکام اورپاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی سازشوں
میں مصروف عمل بیرونی و اندرونی طاقتوں کے عزائم کو خاک کرنے اوردہشت
گردی کے خلاف فائنل راونڈ جیتنے کے لئے جہاں ریاست کے تین بڑے پشت
بانوں پرویز کیانی ۔صدر مملکت اور پرائم منسٹر کے درمیان باہمی اہنگی
لازم و ملزوم ہے تو وہاں قومی و سیاسی یکجہتی خون میں ملے ہوئے پانی کی
طرح ناگزیر ہے۔ ایوان صدر اور جی ایچ کیو کو چند اقدامات اٹھانے ہونگے
تاکہ اداروں کے تصادم کو روکا جائے۔ارباب اقتدار کو پہل کرنی ہوگی
کیونکہ بی بی کی برسی پر زرداری صاحب نے خارجی دھماکہ کیا تھا۔ فوج کے
پاس جوابی خارجی دھماکے کےلئے صرف ایک ہی گر ہوتا ہے جسے مارشلا کہا
جاتا ہے۔صدر کے ریمارکس پر فوج جلد بازی میں کسی رد عمل کا اظہار نہیں
کرسکتی کیونکہ ملکی و عالمی حوادث اسکی اجازت نہیں دیتے مگر اسے فوج کی
کمزوری یا تابعداری سے تشبیہ دینا بھی نادانی کے سوا کچھ نہیں۔صدر وسیع
القلبی و فراخدلی کا مظاہرہ کرکے جی ایچ کیو کا دورہ کریں جہاں وہ
وزیراعظم کی موجودگی میں عسکری انتظامیہ پر واضح کریں کہ انکی تقریر کا
ایک حرف یا جملہ پاک فوج کے خلاف نہ تھا۔دونوں ائینی حدود میں رہنے کا
عزم کریں اور اختلافات و مسائل کو دوستانہ انداز میں حل کرنے کے لئے
کمیٹی تشکیل دیں۔مرکزی حکومت اور ایوان صدر انتہاپسندوں کے خلاف جنگ
اور خود کش حملوں کا شکار بننے والے فوجی شہدا کے لواحقین کی دامے درمے
سخنے اور قدمے دلجوئی کرے۔دفاع پاکستان کے لئے اپنی جانیں نچھاور کرنے
والے فوجیوں و پولیس مینوں کو صدارتی گولڈ میڈل دئیے جائیں۔صدر مملکت
تینوں سروسز چیفس وزیراعظم ،صوبوں کے گورنرز، وزرائے اعلی اور
پارلیمانی اپوزیشن لیڈرز ، ازاد کشمیر و گلگت کی سیاسی انتظامیہ کے
بڑوں کے ہمراہ شورش زدہ علاقوں کا دورہ کریں تاکہ پاک مخالف عالمی
طاقتوں کو باور کرایا جائے کہ ہماری عسکری و سیاسی قیادت دفاع پاکستان
کے لئے باہم شیر و شکر ہے۔ فاٹا کی پہاڑیوں چاغی کی چوٹیوں کشمیر کے
کوہساروں گوادر کے ساحلوں اور مہران کی وادیوں کی اونچائیوں پر ہاتھ
میں ہاتھ ڈال کر یہ نعرہ لگایا جائے کھپے پاکستان۔ پاکستان کی طرف جس
نے میلی انکھ دیکھی وہ انکھیں نکال دی جائیں گی۔پاکستانی اس شب گھڑی کا
انتظار کررہے ہیں جب فوجی و سیاسی قیادت ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر دشمنان
پاکستان کی انکھیں پھوڑ دینے کا متفقہ نعرہ مستانہ بلند کرے گی۔پاک فوج
کے تھنک ٹینکوں کو جبران کے اس قول کی روشنی میں صرف و صرف ریاستی
سیکیورٹی تک محدود رہنا چاہیے۔جبران نے کہا تھا کہ سیاسی مخاصمت کی اڑ
میں امریتوں کا بابار نفاز قومی وحدت کو ایسا چکنا چور کرتا ہے کہ
جمہوریت کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔
|