اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-250-3200 / 0333-585-2143       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 

Email:-raufamir.kotaddu@gmail.com 

Telephone:-       

 

 

 

تاریخ اشاعت27-04-2010

ہیر کے خالق ، وارث شاہ، پنجابی کے شیکسپیئر

 

برصغیر پاک و ہند میں بسنے والی اقوام کے مشا ہیر کو دنیا بھر میں ایک خاص مقام حاصل ہے جنہوں نے ذہنی کمالات کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے اپنے خیالات کا موتیوں کی لڑی میں پروکر مخلوق خدا کی رہنمائی کرتے ہوئےان کو سیدھا راستہ دکھایا۔ ان صوفی درویش با صفت، باعمل بزرگوں میں حضرت داتا گنج بحش، حضرت سلطان باہو، پیر وارث شاہؒ، شاہ عبداللطیفؒ، بھٹائی، میاں محمد بخش رحمان بابا شاہ حسین اور ان جیسے دیگر باکمال بزرگ شامل ہیں۔ جنہوں نے مخلوق خدا کی رہنمائی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ہی کے عنائت کیے ہوئے علم سے لوگوں کو سیدھا راستہ دکھایا۔ وارث شاہ کی پوری شاعری میں پنجاب کی تہذیب و ثقافت کا عکس ایک شفاف آئینہ کی طرح نظر آتا ہے اور اسی کے ساتھ ہی اسلامی روایات کا پرچار بھی خوب احسن طریقے سے کیا گیا ہے۔ قصہ ہیر رانجھا ایک عشق کی دانستان ہے کہ جاتا ہے کہ یہ داستان عشق ”ابراہیم بہلول“ کے عہد میں وقوع پذیر ہوا، اور صدیاں گزر جانے کے باوجود بھی یہ قصہ آج تک زیادہ زد عام ہے۔


عاشق، بھور، فقیر تے ناگ کالے

بنا منتروں مول نہ کیلئے نی

ہر دور کے مشاہیرہ نے اس لازوال داستان عشق پر فلم کو حرکت دی۔ برصغیر پاک ہند میں اس قصہ کو دمودر کھتری، باقی کو لابی شاہجان مقبل اور دیگر مشاہیرے نے اس قصہ کو صفہ قرطاس پر بکھیرا۔ مگر اس لازوال داستان کو جو رنگ”وارث شاہ“ کی شاعری نے دیا ایسا فن کمال اور کسی شاعر کو نصیب نہیں ہو سکا اور پھر یہ ہیر ”ہیروارث شاہ“ کی بن گئی۔

بقول وارث شاہ

جنہاں اک دے نام دا ورد کیتا

اوہناں فکر انڈیشیڑا کا سدا دے

ایہہ معنی خاص قرآن مجید دے نیں

جیہڑے شعر میاں وارث شاہ دے نیں

وارث شاہ پنجابی زبان کے سچے موتی اور وارث ہیں۔ آپ کی تصنیف پنجابی ادب کا ایک اجلا، انوکھا اور دل کی گہرائیوں میں اثر کر جانے والے بلند شاہکار ہے جس میں افسانہ اور شاعری ہی نہیں بلکہ ڈرامہ بھی ہے۔ وارث شاہ کی تصنیف تقریباً 3 سو سال قبل کے معاشرہ کے احساس و جذبات کی عکاسی کرتے ہے۔ جس سے اس دور کے تہذیبی، ثقافتی، معاشرتی، زندگی کی تصویر نمایاں نظر آتی ہے۔ وارث شاہ کو عربی، فارسی، ہندی، سنسکرت، پنجابی اور دیگر زبانوں میں عبور حاصل ہونے کے کے علاوہ، حدیث، فقہ، رمل، نجوم، موسیقی، منطق اور فلکیات کے علاوہ دیگر اسلامی اور دنیاوی علوم پر بھی مکمل دسترس حاصل تھی اسی وجہ سے وارث شاہ بیک وقت ایک مورخ، محقق، ادیب، وجہ صوفی اور بھاگوان عاشق تھے اور اسی بے پناہ عشق حقیقی نے آپ کو حضرت وارث شاہؒ بنا دیا۔

وارث شاہ روشن ہوئے نام تیرا

کرم ہوئے جے رب شکور دا اے

عشق حقیقی کے بارے میں پیر وارث شاہ فرماتے ہیں کہ یہ وہ جذبہ ہے جو خالق اور مخلوق کو ایک کرتا ہے اسی سلسلہ میں وارث شاہ اپنی تصنیف میں یوں اپنے حمدیہ کلام میں لکھتے ہیں۔ اول حمد خدائے داوردکیجئے عشق کیتا سو جگ دامول میاں پہلے آ ہی رب نے عشق کیتا نے معشوق ہے نبی رسول میاں عشق کا راگ اور اس کی تشریح لوگوں کے ذہنوں اور دلوں میں انقلاب پیدا کر دیتی ہے پیر وارث شاہ کا شمار بھی ایسی ہی انقلابی ادبی شخصیات میں ہوتا ہے۔

پیر وارث شاہ پنجابی زبان کے لافائی شاعر اور شکیسپئر و سعدی نے قبضہ جنڈیالہ شیر خان تحصیل و ضلع شیخوپورہ میں سن عیسوی 1722ءکو سید خاندان میں آنکھ کھولی آپ کے والد کا نام سید گلشیر شاہ تھا جو سادات خاندان سے تھے پیر وارث شاہ نے قرآن پاک اور دیگر ابتدائی علوم کی تعلیم آبائی قصبہ جنڈیالہ شیر خان سے حاصل کی اور بعدازاں اپنے خیالات و احساسات کا اظہار کرنے کیلئے پنجابی زبان کا انتخاب کیا۔ بقول وار شاہ:

وارث شاہ میاں سھبے کم ہوندے

جدوں رب ہووے مہربان میاں

وارث شاہ بچپن سے ہی بہت محنتی اور ذہین تھے سن بلوغت کی عمر کو پہنچے تو دنیاوی اور اخلاقی فیض حاصل کرنے کیلئے قصور چلے گئے اس وقت علم ثقافت کا مرکز اور گہوارہ تھا جہاں آپ نے درس نظامی کی رائج الوقت تعلیم حضرت غلام مرتضیٰ قصوری سے خاصل کی اسی سلسلہ میں وارث شاہ اپنی تصنیف میں لکھتے ہیں۔ وارث شاہ وسنیک جنڈیالہے دا تے شاگرد مخدوم قصور دی دا اے قصور سے حضرت غلام مرتضیٰ قصوری سے علم حاصل کرنے کے بعد باطنی علم کی پیاس بجھانے کیلئے پاکپتن چلے گئے جہاں آپ نے چشتیہ خاندان کے جانشین حضرت بابا فرید گنج شکرؒ کے گدی نشین کے بیعت کی اورو ہیں مجاہد وہ مراقبہ کی منزلیں طے کیں۔

وارث شاہ جان رب دی مہر ہوندی

حکم ہوندا اے نیک ستاریاں نوں

باطنی علم سے فیض یاب ہونے کے بعد واپسی کا سفر کیا راستے میں ضلع ساہیوال کے معروف قصبہ ملکہ ہانس کے محلہ مجاہد کی ایک مسجد میں وارث شاہ نے قیام کیا اور مسجد میں امامت کے فرائض بھی انجام دیے اور اسی مسجد کے حجرہ میں وارث شاہ نے اپنی شاہکار تصنیف مرتب کی۔

وارث شاہ ایس خاب سراں اندر

کئی واجڑے گئے وجاں میاں

”ہیر وارث شاہ“ کا ترجمہ اب تک کئی زبانوں میں ہو چکا ہے وارث شاہ نے ہیر رانجھا کے کردار اور اپنے نام کو ہمشہ کیلئے امر کر دیا۔ اتے موڈھے نے و اگاہ نئیں توں بے شک سمیاں لالے زور دیس پنجاب دی دھرتی اتے فیرئیں جمنا وارث ہور وارث شاہ نے اپنی شاہکار تصنیف 1766 کو مکمل کی۔

جدوں ہوئی تیارا یہہ سیتی واہ واہ خلق سب پکار دی سی

وارث شاہ دی غرض ہوئی پوری جنہوں مڈھ توں سسک دیدارردی سی

وارث شاہ کی شاعری میں اتنی چاشنی ہے کہ پڑھنے اور سنے والا مست ہو جاتا ہے اور اس کی زبان سے وارث شاہ کی تعریف کیلئے آفرین کا لفظ بے اختیار نکل آتا ہے۔ بقول وارث شاہ یاراں اساں نوں آن سوال کیتا عشق ہیردا نواں بنائیے جی ایس پریم جھوک دابجھ قصہ جیھ سوہنی نال سنائیے

جی وارث شاہ جامع کمالات اور علم کا سمندر تھے جنہوں نے بظاہر ایک عشقیہ داستان کو مجاز کے رنگ پیش کر کے اس میں روحانیت کا درس دیا۔ وارث شاہ نے اپنی تصنیف میں دنیا کے بڑے بڑے مسالک اور اس کے بانیوں کا بھی ذکر کیا وارث شاہ کی تصنیف پنجاب زبان کی انسائیکلوپیڈیا ہے۔ جس میں آپ نے ماں بولی ویس پنجاب کی تہذیب و ثقافت کو مختلف پیروں میں سمونے کے علاوہ ماحول رسم و رواج، طرز بودو باش، صنعت و حرفت، حالات کشاوری، طبی ادویہ، اسمائے جانور اور ان کی خصیل بیان کر کے دریا کو کوزے میں بند کر دیا۔ وارث شاہ کے پاس الفاظ و تراکیب کا ایک لازوال ذخیرہ موجود تھا جس نے آپ کے تصنیف کو چار چاند لگا دئیے یہی وجہ ہے کہ آپ کی تصنیف میں عربی، فارسی، سنسکرت اور ترکی کے علاوہ دیگر کئی مقامی اور بین الاقوامی زبانوں کے الفاظ ملتے نظر آتے ہیں۔

وارث نہ کرمان وارثاں دا

رب بے وارث کر مار دا ای

وارث شاہ فن موسیقی سے بھی مکمل طور پر آشنا تھے آ نے تصنیف میں فن موسیقی کے چھ بڑے راگوں کا بھی تذکرہ کیا۔ میاں محمد بخش وارث شاہ ہی کے بارے میں کیا خوبصورتی سے فرماتے ہیں۔ وارث شاہ سخن دا وارث رندے کون اوہناں نوں حرف اوہدے تے انگل دھرتی ناہیں قدراساں نوں وارث شاہ نے ”ہیر“ کے کردار میں عورتوں اور ”رانجھا“ کے کردار میں مردوں کے جذبات کی عکاسی کی۔ روح اور قلبوت کے اس ذکر کو وارث شاہ نے الفاظ کے زیورات سے آراستہ کرکے لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ روح اور قلبوت کے اسی عظیم شہ پارہ کو مکمل کرنے کے بعد جب آپ قصور اپنے اساد محترم کے پاس پہنچے تو استاد محترم نے تصنیف کا مطالبعہ کیا تو بہت تعریف کی اور کہا، ”وارث! تم نے واقعی منجھ کی رسی میں موتی پر ودیے۔

وارث شاہ محبوب نوں تدوں پائیے

جدوں اپنا آپ گنوا لیے۔

برصغیر کی معروف شاعرہ امرتا پریتم نے وارث شاہ کی عقیدت اور تعریف میں آپ کو یوں خراج تحسین پیش کیا۔ اج آکھاں وارث شاہ نوں کتے قبراں وچوں بول تے اج کتاب عشق دی دا کوئی نواں درقا پھول ظہور حسین ظہور نے وارث شاہ کو یوں خراج تحسین پیش کیا۔ گلاں پکیاں کرن والا دانشوراں دے وچ پر دھان وارث نقطہ منج وارث، نقطہ دروارث“ نقطہ فہم وارث، نقطہ دان وارث وارث شاہ خود بھی اسلام اصولوں پر کار بند ہے اور دوسروں کو بھی کار بند رہنے کی تلقین کی۔ انت ایہہ جہان چھڈ جان ایڈھے کفراپرادھ کیوں تو لئے نی بالآ وقت نے قطب و عرفان و زمان وارث شاہ کے ساتھ وفانہ کی اور آپ 1798ءکو 76 برس کی عمر میں اپنے خالق و حقیقی کے پاس چلے گئے اور رہتی دنیا تک اس لازوال شہ پارے کو اپنے پیچھے چھوڑ گئے۔ آپ کو اپنے آبائی گاﺅں جھنڈیالہ شیر خان میں بھائی اوروالد کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔

اج کل دا اے پرونا ایہہ

کسے سدا نہ حکم اتے تھیونا ایں

E-mail: Jawwab@gmail.com

Advertise

Privacy Policy

Guest book

Contact us Feedback Disclaimer Terms of Usage Our Team