|
فرزاندانہ نا خلفی، نافرمانی اور عدم تقلید کی
اس تاریخ کا نیا باب اسامہ بن لادن کے نور نظر
جوان دنوں اپنے والد
کیلئے ”دور نظر“ ہیں۔ عمر بن لادن تحریر کر
رہے ہیں۔ وہ اپنے جنگ جو والد کو اور ان کا
راستہ چھوڑ کر افغانستان سے چلے گئے اور ایک
برطانوی نژاد خاتون کو مسلمان کر کے اپنے دلہن
بنا لیا۔ عمر بن لادن کے بارے میں تازہ ترین
خبر یہ ہے کہ برطانوی اخبار ’دٹیلی گراف“ کی
ویب سائٹ پر شائع ہونیوالے گائے لاسن کے مضمون
کے مطابق القاعدہ کے لیے اپنے والد کے منتخب
جانشین عمر بن لادن نصف شب کو دمشق کے ایک
نائٹ کلب میں خوش جمالوں کے حسن سے باقاعدہ
آنکھیں سینکتے پائے گئے۔ لیکن معاملہ آنکھوں
ہی تک رہا کیوں کہ ان کی بیگم بھی ساتھ تھیں۔
دراصل وہ اپنے انٹرویو کیلئے آنے والے گائے
لاسن کو بہ طور مہمان نواز میزبان اس رات جگے
کی محفل میں لے گئے تھے۔ بقول گائے لاسن کلب
کی رنگینیوں، خاص طور پر کپڑوں کے معاملے میں
”دو ہی اچھے“ کے سلوگن پر عمل پیرا ایک رقاصہ
نے عمر بن لادن کو اتنا متاثر کیا کہ وہ اپنے
ساختہ کہ اٹھے، شکر ہے دنیا کے معاملات میرے
والد نہیں چلا رہے ۔ ”انہوں نے اپنے والد کے
بارے میں کسر نفسی سے کام لیا۔ تگنی کا ناچ
ناچتی ایف بی آئی اور سی آئی اے اور افغانستان
میں امریکی فوج اور پاکستان میں خودکش حملہ
آوروں کا رقص ابلیس، یہ سب شیخ، اسامہ ہی کا
مرہون منت ہے۔ عمر بن لادن نے اپنے بچپن اور
جوانی کا بڑا حصہ تو رابورا کے سنگلاخ میں
گزارا ہے جہاں وہ شادیاں تو چار کر سکتے تھے
مگر کسی سے آنکھیں چار کرنا ممنوع تھا۔ ان
پہاڑوں سے پرواز کرنے کے بعد انہوں نے اپنا یہ
شوق اپنے سے دگنی عمر کی ایک برطانوی خاتون سے
عشق لڑا اور انہیں اپنی زوجہ بنا کر پورا کیا۔
افغانستان کے خیمہ نمابرقعوں سے شامیا نے کی
طرح دعوت دیتے کپڑوں تک کا سفر انہوں نے بڑی
تیزی سے طے کیا ہے۔ اس سے پہلے ان کی زندگی جن
بندشوں میں جکڑی رہی ان کے بارے میں جان کر
بڑا پرانا فلمی مکالمہ یاد آگیا۔ ”یہ جینا بھی
کوئی جینا ہوا، للو!“ اپنے بچپن کی یادیں تازہ
کرتے ہوئے عمر لادن کہتے ہیں کہ تمام تر مال و
دولت کے باوجود ان کے والد نے اپنے بچوں کو
ایک مشکل اور خشک زندگی دی، جس میں فلم، ٹی وی
اور موسیقی جیسی تفریحات کا کوئی گزر نہیں تھا۔
ان کے والد ”جدید طرز زندگی کے شر سے متنفر
تھے۔ لہٰذا وہ کولڈ ڈرنگ پی سکتے تھے۔ نہ
انہیں کھولنے میسر تھے۔ یہاں تک کہ دمے میں
مبتلا عمر کو ”ان ہیلر“ استعمال کرنے کی اجازت
بھی نہ تھی۔ کم سن عمر دمے کی تکلیف سے تڑپتا
تو اس کے والد اسے شہد کا چھتا منہ پر رکھ کر
سانس لینے کا مشورہ دیتے۔ اسامہ بن لادن اپنی
اولاد کو کسی بے ضررسی تفریح کی بھی اجازت نہ
دیتے تھے۔ عمر کہتے ہیں۔ ”ہمیں ہنسنے کی اجازت
نہیں تھی۔ حکم تھا کہ ہم کسی چیز پر مسرت کا
اظہار نہ کریں۔ ”اتنا ہی نہیں، اسامہ صاحب نے
اپنے بچوں کو زور سے ہنسنے یا قہقہہ لگانے سے
بھی منع کر رکھا تھا۔ اب ایسی پابندیوں میں
بچپن اور جوانی بتانے والا کوئی انسان اگر
نائٹ کلب کی رنگینیاں دیکھ کر بے حال نہیں ہو
گا تو کیا ہو گا؟ مگر اس کیفیت میں بھی عمر
لادن کو اتنا ہوش ضرور رہا کہ انہوں نے اپنے
کے معاملے میں کولڈ ڈرنگ پر اکتفا کیا۔ یقینا
شیخ اسامہ کو اپنے پسر کی آزاد روی کی خبر بے
کل کر چکی ہو گی اور ہو سکتا ہے کہ وہ بیٹے پر
برہمی کا اظہار کریں، ایسا ہو تو عمر بنلادن
کو اپنے ”ابی“ سے صاف صاف کہہ دینا چاہیے۔
جواں ہوں میں جوانی لغزشوں کا ایک طوفاں ہے
مری باتوں میں رنگ پارسائی ہو نہیں سکتا۔ ”ابو
جی! کر لو جو کرنا“
|