اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-250-3200 / 0333-585-2143       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 

Email:-raufamir.kotaddu@gmail.com 

Telephone:-       

 

 

 

تاریخ اشاعت29-04-2010

توہم پرستی ایک نظر میں

 

کہتے ہیں موت کے خوف ،کامیابی کی امید انسان کی فرار پسندی اور خوش عقید گی نے بہت سے تصورات کو جنم دیا ہے۔ اس قول کی صداقت میں شک ہو یا نہ ہو مگر ایک بات حتمی ہے کہ ان کی وجہ سے مختلف توہمات ہمیشہ جنم لیتی رہی ہیں۔ ان تو ہمات میں سے بعض کا تعلق مذاہب سے جوڑا جاتا ہے تو بعض کا مختلف اساطیری داستانوں سے، تمام دنیا میں اس وقت بھی کروڑوں ایسے خوش عقیدہ افراد موجود ہیں جو ان تو ہمات کا شکار ہوتے ہیں۔ ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو با آسانی ایسے لوگ ڈھونڈ سکتے ہیں جو دائیں آنکھ میں کھجلی کو نیک شگون سمجھتے ہیں اور دائیں ہاتھ میں کھجلی کا مطلب دولت ملنا لیتے ہیں۔ سائنسی حقائق نے اگرچہ ہمارے بہت سے اعتقادات پر کاری ضرب لگائی ہے مگر حیران کن طور پر آج بھی بہت سے لوگ ان تو ہمات پر یقین رکھتے ہیں۔ دنیا بھر میں بے شمار لوگ اس وقت بھی ان تو ہمات پر یقین رکھتے ہیں۔ روسی غالباً سب سے زیادہ تو ہم پرست قوم ہیں۔


روسیوں کے نزدیک اگر آپ کے کان اور گال سرخ ہیں تو کوئی آپ کی غیبت کر رہا ہے۔ اگر ناک پر کھجلی ہے تو کوئی خوشی اور اگر بائیں آنکھ میں خارش ہے تو کوئی غم ملے گا۔ اگر ہونٹوں پر کھجلی ہے تو دولت ملے گی اور بائیں ہاتھ میں کھجلی کی صورت میں آپ کسی کو رقم د یں گے۔ ہچکی کا مطلب ہے کوئی آپ کو یاد کر رہا ہے۔ اگر آپ کی پلکوں کا کوئی بال گرا ہے تو کوئی تحفہ ملے گا۔ اگر کھانے کی میز پر کسی کے ہاتھ سے چمچ یا کانٹا گرے تو کوئی خاتون مہمان آئے گی۔ اگر چھری گرے تو اسے جلدی غصہ آئے گا۔ اگر کسی کو دیکھ یا سن کر اس کو پہچان نہ سکیں تو آپ کے پاس دولت آنے والی ہے۔ محفل میں آمد سے پہلے اگر آپ کا ذکر ہو رہا ہو تو آپ کی عمر طویل ہو گی۔ اگر بلی پانی میں اپنا منہ ڈال لے تو گھر میں مہمان آئیں گے۔ اگر کالی بل راستہ کاٹ لے تو بد شگونی تصور ہو گی۔ روسی کوشش کرتے ہیں کہ ایسی راہ سے نہ گزریں جہاں بلی ان کا راستہ کاٹ چکی ہو یا کم از کم وہ کوشش کرتے ہیں کہ اتنی دیر تک وہاں سے نہ گزریں جب تک کوئی دوسرا آد می وہاں سے نہ گزر جائے۔ خرگوش کے بارے میں بھی روس میں یہی تصور پایا جاتا ہے۔ اگر کوئی گھر سے نکلے اور بارش شروع ہو جائے تو یہ تصور کیا جاتا ہے کہ یہ جلدی گھر آجائے گا اسے نیک فال تصور کیا جاتا ہے۔ اگر روس میں شادی پر بارش ہو جائے تو کہا جاتا ہے اسے دولت ملے گی۔ اگر بات کے دوران چھینک آجائے تو سمجھا جاتا ہے کہ بولنے والا سچا ہے۔ اگر کوئی پرندہ آپ پر یا آپ کی گاڑی پر بیٹ کر دے تو اسے نیک فال کہا جاتا ہے سمجھتے ہیں کہ اس شخص کو ڈھیر سارا پیسہ ملے گا۔ قارئین نے نوٹ کیا ہو گا کہ ان تو ہمات سے بہت سی ایسی ہیں جو صرف روس سے مخصوص نہیں بلکہ ان میں سے اکثر تو ہمات ہمارے ملک میں بھی پائی جاتی ہیں۔ بوطانوی توہمات کا اگر ذکر کیا جائے تو بہت سی حیرت انگیز باتیں مشاہدے میں آتی ہیں۔

مثال کے طور پر برطانیہ میں خیال کیا جاتا ہے۔ کہ اگر آپ نے کپڑے پہنیں اور اس کی جیب میں کچھ پیسے رکھ لیں تو آپ امیر ہو جائیں گے۔ نئے جوتوں کو میز پر رکھنا نحوست تصور کیا جاتا ہے۔ سپین میں خیال کیا جاتا ہے کہ اگر دولہے کا دوست دولے کی ٹائی کا ایک ٹکڑا کاٹ کر اپنے پاس رکھ لے تو اس کی شادی جلد ہو جائیگی۔ اگر دلہن شادی کے دن نیلے رنگ کا سوٹ پہن لے تو اسکی شادی شدہ زندگی خوشگوار گزرے گی۔ سپین میں مانا جاتا ہے کہ اگر دولہا دلہن کی شادی کا لباس پہلے سے دیکھ لے تو شادی کی تقریب بدمزہ ہو جائیگی۔ درحقیقت ان تو ہمات کا تعلق مقامی ثقافتوں اور مذہبی عقائد سے ہوتا ہے۔ یہ تو ہمات مختلف اشیاءیا افعال سے جڑے ہوتے ہیں۔ بعض ملکوں میں ایک چیز نیک فال سمجھی جاتی ہے تو یہی چیز دوسری ثقافت میں بد فال تصور کی جاتی ہے۔ اُلو مشرق میں میں بدھو تصور ہوتا ہے تو مغرب میں اسے عقل مندی کا استعادہ قرار دیا جاتا ہے۔ برازیل میں تصور کیا جاتا ہے کہ اگر کافی بنانے سے پہلے ہر بار آپ چینی کپ میں ڈالتے ہو تو آپ جلد امیر ہو جاﺅ گے۔ اگر آپ کا پرس زمین پر گر جاتا ہے تو آپ کی رقم گم ہو جائیگی۔ اگر لڑکی سالن کی ہنڈیا میں سے کھانا کھالے تو اس کی شادی پر بارش ہو گی۔ اگر آپ سیڑھی کے نیچے کھڑے ہوں گے تو یہ بد شگونی ہے۔ جاپانی سفید سانپ کو دیکھ لیں تو اسے خوش قسمتی تصور کرتے ہیں۔ زیادہ تو ہم پرست لوگ تو اپنے کمروں میں سفید سانپ کی تصویر بھی رکھ لیتے ہیں۔ جاپانی شمال کی طرف رخ کر کے نہیں سوتے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اس سے موت قریب ہو جاتی ہے۔ جاپان میں اکثر لوگ چار کے عدد کو منحوس خیال کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ عد د موت کے علامت ہے۔ جاپانی کبھی سانپ کو نہیں مارتے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ سانپ خدا کا خاص جانور ہے۔ ان کے نزدیک اگر بٹوے میں سانپ کی جلد کا کوئی ٹکڑا رکھ لیا جائے تو آپ جلد امیر ہو جائیں گے۔ اگر سانپ کو مار دیا جائے تو جاپانیوں کے خیال میں آپ جلد غریب ہو جائیں گے۔ ترکی میں خیال کیا جاتا ہے کہ اگر آپ میں مکڑی کو دیکھتے ہیں تو مہمان آنے والے ہیں۔ اگر آپ کا لی بلی کو دیکھ لیں تو اپنے سر کے کچھ بال کاٹ کر پھینک دی ورنہ یہ بد شگونی ہو گی۔

ترکی میں خیال کیا جاتا ہے کہ اگر آپ دو ایسے لوگوں کے درمیان کھڑے ہیں جو ہم نام ہیں تو آپ کوئی بھی دعا کریں فوراً قبول ہو جائیگی۔ اگر آپ کے دائیں ہاتھ میں کھجلی ہو رہی ہو تو آپ کو کسی غیر متوقع جگہ سے دولت حاصل ہو گی۔ شمالی اور جنوبی امریکہ میں شیشے کا ٹوٹنا اور 13 کا ہند سہ منحوس تصور کیا جاتا ہے۔ میکسیکو میں خیال کیا جاتا ہے کہ اگر آپ جیب میں خرگوش کی دم رکھیں تو یہ نیک فال ہے۔ تائیوان میں عام تصور ہے کہ انگوٹھی یا ہار پہننا بد شگونی کی علامت ہے۔ جاپانی سمجھتے ہیں کہ اگر آپ بلی کو ایک پنجہ اٹھائے دیکھیں تو بہت سی دولت ملے گی۔ امریکہ اور میکسیکو میں گرتے تارے کو دیکھ کر دعا مانگنے کی رسم آج بھی زندہ ہے۔ ان ملکوں میں ستاروں کو گننا بد شگون خیال کیا جاتا ہے۔ کیونکہ اس سے آنکھیں چھوٹی ہو جاتی ہیں۔ اکثر ملکوں میں بشمول پاکستان میں یہ تصور موجود ہے کہ سورج یا چاند گرہن کے دوران حاملہ خاتون کو اپنے پیٹ کو ہاتھ نہیں لگانا چاہیے کیونکہ اس سے بچے میں کوئی جسمانی نقص پیدا ہو سکتا ہے۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ بعض ملکوں میں کچھ ایسی چیزیں نیک شگون تصور ہوتی ہیں جو دوسرے ملکوں میں بد شگونی خیال کی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر برطانوی کالی بلی کو دیکھنا نیک شگون تصور کرتے ہیں جبکہ اکثر ملکوں میں اسے نحوست خیال کیا جاتا ہے۔ برطانیہ میں کالے کوے کو نحوست کہا جاتا ہے اور شیشے کا ٹوٹنا برا تصور ہو جاتا ہے۔ کبھی کوئی برطانوی اپنا نیا جوتا میز پر نہیں رکھتا اور نہ ہی دروازے میں جا کر چھتری کھولتا ہے۔ آج کی نسل اگرچہ ان توہمات پر یقین نہیں رکھتی اور سائنسی طریقہ تفکر نے ہماری چیزوں کے بارے میں رویے اور تصورات تبد یل کیے ہیں مگر آج بھی ان تو ہمات کے ماننے والوں کی کمی نہیں ہے۔
 

E-mail: Jawwab@gmail.com

Advertise

Privacy Policy

Guest book

Contact us Feedback Disclaimer Terms of Usage Our Team