اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:JAWWAB@GMAIL.COM     Tel:1-514-250-3200 / 0333-585-2143       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 

Email:-raufamir.kotaddu@gmail.com 

Telephone:-       

 

 

 

تاریخ اشاعت04-05-2010

ملکہ بلقیس ایک خوبصورت جہاندیدہ حکمران خاتون

 

ملکہ سبا کا اصل نام بلقیس تھا۔ وہ نہایت خوبصورت اور ذہین عورت تھی۔ اس کا باپ شرجیل بن مالک یمن کا بادشاہ تھا۔ بعض نے اس کا نام الہد ہادبن شرجیل بھی لکھا ہے۔ اس بادشاہ کا سرکاری مذہب سورج کی پوجا تھا جو عوام نے بھی اختیار کیا ہوا تھا۔ باپ کی موت کے بعد بلقیس نے عنان حکومت سنبھالی۔ یہ علاقہ جغرافیائی اعتبار سے نہایت سرسبز تھا جہاں ہر طرف لہلہاتے کھیت اور باغات تھے۔ اس کا زمانہ حضرت سلیمان کی نبوت کا تھا۔ بلقیس کا ذکر زلیخا کی طرح قرآن حکیم میں بغیر نام لیے آیا ہے۔ یہ ذکر بہت مختصر، مگر جامع ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ” ابھی تھوڑی دیر ہوئی تھی کہ ہد ہد آموجود ہوا اور کہنے لگا کہ مجھے ایک ایسی چیز معلوم ہوئی ہے جس کی آپ کو خبر نہیں۔ اور میں آپ کے پاس شہر سبا سے ایک یقینی خبر لایا ہوں۔ میں نے ایک عورت دیکھی جو ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے اور ہر چیز اسے میسر ہے اور اس کا ایک بڑا تخت ہے۔ میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم خدا کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال آراستہ کو دکھائے ہیں اور انہیں راستے سے روک رکھا ہے۔ پس وہ راستے پر نہیں آتے۔ (نہیں جانتے) اس خدا کو جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کر دیتا اور تمہارے پوشیدہ اور ظاہر اعمال کو جانتا ہے ہم اسے کیوں سجدہ نہ کریں۔ خدا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔ (سلیمان نے) کہا، ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے۔ یہ میرا خط لے جا اور ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے واپس آ اور بتا کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں۔ ملکہ نے کہا کہ دربار والو! میری طرف ایک نامہ گرامی ڈالا گیا ہے جو سلیمان کی طرف سے ہے اور (مضمون یہ ہے) کہ شروع اللہ کا نام لے کر جوا بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ مجھ سے سر کشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس چلے آﺅ۔ کہنے لگی کہ اے اہل دربار! اس معاملے میں مجھے مشورہ دو۔ جب تک تم حاضر نہ ہو، میں کسی کام کام فیصلہ نہیں کروں گی۔ وہ بولے ہم بڑے زور آور اور جنگجو ہیں اور آپ کو حکم دینے کا اختیار ہے۔ آپ سوچ لیجئے کہ ہمیں کیا حکم دینا ہے۔ اس نے کہا، جب بادشاہ کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو اسے تباہ کر دیتے ہیں اور وہاں کے عزت والوں کو ذلیل کر دیا کرتے ہیں، اسی طرح یہ بھی کریں گے اور میں ان کی طرف کچھ تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں۔ جب (قاصد) سلیمان کے پاس پہنچا تو سلیمان نے کہا، کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو؟ جو کچھ خدا نے مجھے عطا کیا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تمہیں دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اپنے تحفے سے تم ہی خوش ہوتے ہو گے۔ ان کے پاس واپس جاﺅ۔ ہم ان پر ایسے لشکر لے کر حملہ کریں گے جن کے مقابلے کی ان میں طاقت نہ ہو گی۔ اور انہیں وہاں سے بے عزت کر کے نکال دیں گے اور وہ ذلیل ہوں گے۔“ (سورة النمل آیات 20 تا 30) قرآن حکیم میں سبا، قوم سبا یا علاقہ سبا کے نام سے جو اشارات دیے گئے ہیں، انہیں سمجھنے کےلئے ضروری ہے کہ وہ معلومات بھی ہماری نگاہ میں رہیں جو اس قوم یا علاقے کے متعلق دوسرے تاریخی ذرائع یا دینی کتب سے فراہم ہوئی ہے۔ سبا ایک شخص کے نام پر ایک قوم کا بھی نام تھا اور ایک شہر کا نام بھی جو موجودہ ملک یمن کے دارالحکومت صنعا سے (اس وقت) تین دن کے فاصلے پر تھا۔ یہ شہر مارب یمن کے نام سے بھی معروف ہے۔ بیت المقدس سے مارب کا فاصلہ ڈیڑھ ہزار میل دور ہے۔ (فتح القدیر) تاریخ کی رو سے سبا جنوبی عرب کی ایک بہت بڑی قوم کا نام ہے جو چند بڑے بڑے قبائل پر مشتمل تھی۔ امام احمد بن حنبل، ابن جریر، ابن حاتم، ابن عبدالبر اور ترمذی نے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک روایت نقل کی ہے کہ سبا عرب کے ایک شخص کا نام تھا جس کی نسل سے یہ قبیلے پیدا ہوئے: کندہ، حمیرہ ازدر، اشعرین، مذجج، انمار (اس کی دو شاخیں خثعم اور بجیلہ تھیں) عاملہ، جذام ، لخم اور غسان۔ ان میں سے کچھ اقوام آج بھی سعودی عرب میں آباد ہیں۔ ملکہ سبا کا یہ عہد عتیق و جدید اور یہودی روایات میں مختلف طریقوں سے آیا ہے۔ سلاطین میں لکھا ہے، ” اور جب سبا کی ملکہ نے خداوند کے نام کی بابت سلیمان کی شہرت سنی تو وہ آئی، تاکہ مشکل سوالوں سے اسے آزمائے اور وہ بہت بڑے جلو کے ساتھ یروشلم میں آئی۔ جب سلیمان کے پاس پہنچی تو اس نے اس سب باتوں کے بارے میں جو اس کے دل میں تھیں، اس سے گفتگو کی۔ سلیمان نے ان سب کا جواب دیا اور جب سبا کی ملکہ نے سلیمان کی ساری حکمت اور اس محل کو جو اس نے بنایا تھا اور اس کے دستر خوان کی نعمتوں اور اس کے ملازمتوں کی نشست اور اس کے خادموں کے حاضر باشی اور ان کی پوشاک اور ساقیوں اور اس سیڑھی کو جس سے وہ خداوند کے گھر جا یا کرتا تھا دییکھا تو اس کے ہوش اڑ گئے اور اس نے بادشاہ سے کہا کہ وہ سچی خبر تھی جو میں نے اپنے ملک میں سنی تھی۔ مگر یقین نہیں کیا جب تک کہ اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیا اور مجھے تو آدھا بھی نہیں بتایا گیا تھا، کیوں کہ تیری حکمت اور اقبال مندی اس شہرت سے جو میں نے سنی بہت زیادہ ہے۔ خوش نصیب ہیں تیرے لوگ اور خوش نصیب ہیں۔ تیرے یہ ملازم جو برابر تیرے حضور کھڑے رہتے ہیں اور تیری حکمت سنتے ہیں۔ خداوند تیرا خدا مبارک ہو جو تجھ سے ایسا خوش ہوا کہ تجھے اسرائیل کے تخت پر بٹھایا اور اس نے بادشاہ کو 120 قنطار سونا اور مسالے کا بہت بڑا انبار دیا اور جواہرات بھی دئیے اور جیسے مصالح سبا کی ملکہ نے سلیمان کو دئیے پھر کبھی ایسی بہتات کے ساتھ نہ آئے اور سلیمان بادشاہ نے سبا کی ملکہ کو سب کچھ جس کی وہ مشتاق ہوئی اور جو کچھ اس نے مانگا دیا۔ پھر وہ اپنے ملازموں سمیت اپنی مملکت کو لوٹ گئی۔ (کتاب مقدس باب 10 آیات 1 تا 30) اس سے کیا فائدہ کہ سبا سے لبان اور دور دور سے لوگ میرے حضور لائے جاتے ہیں۔ (یرمیاہ باب 6 آیت 20) سبا اور عماہ کے سودا گر تیرے ساتھ سودا گری کرتے تھے وہ ہر قسم کے نفیس مسالے اور ہر طرح کے قیمتی پتھر اور سونا تیرے بازاروں میں لا کر خریدو فروخت کرتے تھے۔ حزان اور کنہ اور عدن اور سبا کے سود اگر اور اسکور اور کلمد کے باشندے تیرے ساتھ سودا گری کرتے تھے۔ (حزقی ایل باب 27 آیات 23-22) مورخین نے سبا کو ایک قوم تسلیم کیا ہے۔ یونان اور روم کے تاریخ دانوں اور جغرافیہ کے ماہر تھیو فراسٹس نے بھی 288 قبل مسیح میں اس کا خصوصی طور پر ذکر کیا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ یہ قوم یمن میں آباد تھی اور اس کے عروج کا زمانہ 1100 قبل مسیح ہے۔ اس کا شہرہ حضرت داﺅد کی نبوت کے وقت سے ہی پھیلا ہوا تھا۔ آغاز میں یہ قوم سورج پرست تھی، لیکن بعد میں نہ جانے کب سے اس میں بت پرستی کا غلبہ آگیا۔ اگرچہ ان کی ملکہ نے حضرت سلیمان کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا تھا اور اس کی رعایا کی غالب اکثریت بھی اس کے ساتھ مسلمان ہو گئی تھی۔ آثار قدیمہ کی جدید تحقیق کے سلسلے میں یمن سے 3000 کتابت برآمد ہوئے ہیں جو اس قوم کی اہم تاریخ پر روشنی ڈالتے ہیں مثلاً 650 ق م میں یہاں کے بادشاہ کا لقب مکرب تھا جو مقرب کا ہم معنیٰ تھا۔ یہ کاہن بادشاہ کہلاتے تھے اور ان کا اس وقت پایہ تخت صرواح تھا جس کے معنیٰ بادشاہ ہیں۔ یہی لفظ آج بھی کئی ملکوں میں رائج ہے جس کے معنی یہ بتائے گئے کہ حکومت میں مذہب کی بجائے سیاست اور سیکولرازم کا رنگ غالب آگیا ہے۔ اس وقت کے ملوک نے اپنا دارالخلافہ صرواح کو چھوڑ کر مارب کو بنا لیا اور اسے ترقی کی اعلیٰ منازل تک پہنچا دیا ۔ یہ مقام صنعا سے 60 میل کی دوری پر مشرق کی جانب واقع ہے جو سطح سمندر سے 3900 فٹ بلند ہے۔ 115 ق م کے بعد سے اس خطے پر حمیر غالب آگئے۔ انہوں نے مارب کو اجاڑ کر ریدان کو دارالحکومت بنایا جو بعد میں ظفار شہر کے نام سے مشہور ہوا۔ آج کل موجودہ شہر قبیلہ حمیر کے نام سے آباد ہے جسے دیکھ کر کوئی شخص تصور بھی نہیں کر سکتا کہ یہ اسی رقوم کی یادگار ہے۔ اسی زمانے میں سلطنت کے ایک حصے کی حیثیت سے پہلی مرتبہ لفظ یمنت یا یمنات کا استعمال ہوا اور پھر رفتہ رفتہ پورا علاقہ یمنت سے یمن ہو گیا۔ اس کے بعد آغاز اسلام تک کا دور قوم سبا کی تباہی کا دور ہے۔ اس دور میں ان کے ہاں مسلسل خانہ جنگیاں ہوئیں اور بیرونی مداخلت کا زور ہوا جس کی بناء پر ان کی معیشت برباد ہو گئی اور زراعت نے دم توڑ دیا۔ 340 سے 378 تک حبشیوں نے یمن کی حالت اور بھی تباہ کر دی جس کا ذکر قرآن حکیم میں بھی ہے، ”آخر کار ہم نے ان پر بند توڑ سیلاب بھیج دیا۔ ” (سبا آیت 16) کہا جاتا ہے کہ اس سیلاب کی وجہ سے جو آبادی منتشر ہو گئی تھی، وہ آج تک جمع نہ ہو سکی۔ آب پاشی اور زراعت کا جو نظام درہم برہم ہوا، وہ اب تک بحال نہ ہو سکا۔ 523ءمیں یمن پر یہودی حکومت قائم ہو گئی۔ یہودی بادشاہ ذوالنواس نے نجران کے عیسائیوں پر وہ ظلم و ستم برپا کیا جس کا ذکر قرآن حکیم میں اصحاب الاخدود کے نام سے کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ”خندقوں والے ہلاک کیے گئے۔“ (بروج آیت 14) ان کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے ایمان لانے والوں کو آگ کے بڑے گڑھوں میں یعنی خندقوں میں پھینکا تھا۔ جن کی تعداد بیس ہزار کے لگ بھگ تھی۔ ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ یہ واقعہ 528ء میں پیش آیا۔ اس کے کچھ عرصہ بعد نجاشیوں نے یمن پر حملہ کر کے ذوالنواس اور اس کی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ یمن کے ایک حبشی وائسرائے ابرہہ نے کعبے کی مرکزیت ختم کرنے اور عرب کے پورے مغربی علاقے کو رومی حبشی اثر میں لانے کیلئے 570ء میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے چند روز قبل مکہ معظمہ پر حملہ کر دیا۔ ابراہہ کی فوج پر وہ تباہی آئی جس کا ذکر قرآن حکیم میں اصحاب الفیل کے نام سے آیا ہے: ”کیا تونے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا؟ کیا ان کا داﺅں غلط نہیں کر دیا اور ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دئیے جو انہیں مٹی اور پتھر کی کنکریاں مار رہے تھے۔ پس انہیں کھائے ہوئے بھو سے کی طرح کر دیا۔ ” (سورة الفیل) یمن سے شام تک سبائیوں کی نو آبادیاں مسلسل قائم ہوتی جارہی تھیں ۔ انہی حدود میں ان کے تجارتی قافلے سفرکرتے تھے۔ ایک ہزار برس تک یہ قوم مشرق و مغرب کے درمیان تجارت کا واسطہ بنی رہی۔ ان کی بندرگاہوں میں چین کا ریشم انڈونیشیا اور مالا بار کے گرم مسالے، ہندوستان کے کپڑے اور تلواریں، مشرقی افریقہ کے زنگی غلام، بندر اور شتر مرغ کے پر اور ہاتھی دانت پہنچتے تھے۔ جہاں سے یہ مال رومان اور یونان تک روانہ کیا جاتا تھا۔ ان کے علاقے میں لوبان، عود، عنبر اور مشک غرض ہر خوش بو دار شے پیدا ہوتی تھی جسے مصر، شام، روم اور یونان ہاتھوں ہاتھ لیتے تھے۔ یہ لوگ جلانے کی لکڑی کے بجائے صندل اور دار چینی استعمال کرتے تھے۔ یہ اس وقت دنیا کی مال دار ترین قوم تھی جس کا انجام نہایت ہی درد ناک ہوا۔ روئے زمین پر آج ایک بھی اس قوم کا فرد نہیں ملتا۔

E-mail: Jawwab@gmail.com

Advertise

Privacy Policy

Guest book

Contact us Feedback Disclaimer Terms of Usage Our Team