دو
ايک مرتبہ اس نے کھڑکي سے جھانکا اور ان جانے ميں جھينپ
گئي تو اسے غصہ آيا۔ بھلا چھيپنے کي کيا ضرورت۔ اس کو اتنا
نہيں پتہ کہ يوں ديکھنے سے بات بنتي نہيں بگڑتي ہے۔ وہ
اطمينان سے ٹيک لگا کر کتاب پڑھنے لگي۔ ليکن چند لمحوں کے
بعد کتاب کے صفحے سے دو آنکھيں ابھريں ۔پھر ۔۔پھر۔۔کرنے
لگتا اور وہ پھر سے جھينپ جاتي۔
پھر ايک روز امجي اسے فلم پر لے گيا۔ شايد وہ انکار کر
ديتي ليکن نمي کا چھوٹا بھائي عمران ضد کرنے لگا ۔ ممي ان
کي طرف دار ہو گئي ۔آخر کيا حرج ہے۔ فلم ديکھنے ميں واقعي
کوئي حرج نہ تھا۔ سارا فساد تو نگاہوں کا تھا نا۔ سنيما
ہال کے ادھيرے ميں نگاہيں تو چلتي ہيں نہيں ۔ رہا قرب کا
سوال تو قرب پر تو اسے کوئي اعتراض نہ تھا۔ جب امجي نے
اندھيرے ميں اس کا ہاتھ پکڑا تو نمي ذرا نہ چھينپي ۔ يہ تو
يو يووال بات تھي۔ بار بار وہ اپنے بوائے فرينڈ کے ساتھ
فلم ديکھنے گئي تھي۔ وہ اس خوشبودار اندھيرے دے واقت تھي۔
اور اندھيرا اگر شبودار ہو تو ہاتھ پکڑنا تو ہواتا ہي ہے۔
امجي نے پکڑا تو نمي نے حسب دستور بازو ڈھيلا کر ديا۔
جلدي اس نے محسوس کيا کہ امجي کا دبائو يو يووال نہيں ہے
يو يوال دبائو تو موقعہ کي مناسبت پر عمل ميں آتا ہے نا۔
فلم ميں اظہار محبت ہو تو گڈ ٹائم کا اشارہ ہو تو ۔ ليکن
يہ دبائو تو مسلسل تھا۔ دبائو ختم ہو تا تو امجي کي ہتھيلي
نمي کے ہاتھ پر چلنے لگتي جيسے ہاتھ بند بند کا جائزہ لے
رہي ہو۔ جيسے ہاتھ پر کوئي امريکہ دريافت کرنے ميں لگا
ہو۔نمي کي ہتھيلي پر پسينہ آگيا۔ ۔ہاتھ کے اس لمس نے پتہ
نہيں کيا کر ديا۔ اک ان يو يوال رابطہ قائم ہو گيا۔ دل سے
رابطہ ۔دل پھر ۔ کرنے لگا۔ يہ کيا مصيبت ہے اس نے ہاتھ
چھڑا ليا۔ جب بھي دل پھر پھر کرنے لگتا وہ چھڑا ليتي ليکن
کچہ دير کے بعد انجانے ميں اس کا بازو پھر ادھر ہو جاتا ۔
ہاتھ کرسي کے بائيں ھتھے پر ٹک جاتا ۔ اور پھر وہي دبائو۔
بے چاري عجيب مشکل ميں تھي ۔ دبائو ہوتا تو بھي چاہتا کہ
يو يوال ہا جائے ۔نہ ہوتا تو جي چاہتا کہ ہو ۔