کھیلوں کا سب سے بڑا میلہ ریو اولمپکس اختتام پذیر

ریو ڈی جنیرو(ویب‌ڈیسک)برازیل میں 2 ہفتے سے زائد جاری رہنے والا کھیلوں کا سب سے بڑا میلہ ریو اولمپکس اختتام پذیر ہو گیا، جس میں امریکا پہلے، برطانیہ دوسرے اور چین تیسرے نمبر پر رہا۔

ریو ڈی جنیرو کے اولمپکس گیمز میں 205 ممالک کے 11 ہزار سے زائد کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔

16 روز جاری رہنے والے مقابلوں میں کئی یادگار لمحات دیکھنے کو ملے، دنیا کے تیز ترین انسان یوسین بولٹ ایک بار پھر ناقابل شکست رہے، جنھوں نے کیرئیر کا اختتام طلائی تمغوں کی ہیٹرک کے ساتھ کیا۔ امریکی تیراک مائیکل فلپس نے بھی شاندار کارکردگی کے ساتھ ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا، فلپس کو اولمپکس میں ریکارڈ 22 گولڈ میڈل جیتنے کا اعزاز حاصل ہے. امریکہ نے 46 طلائی تمغوں کے ساتھ کُل 121 تمغے جیتے اور پہلے نمبر پر رہا، ریو اولمپکس کا آخری گولڈ میڈل بھی امریکا کے نام رہا جو اس نے مینز باسکٹ بال کے مقابلے میں سربیا کو شکست دے کر حاصل کیا۔ برطانیہ سونے کے 27 تمغے جیت کر دوسرے نمبر پر رہا جبکہ برطانیہ کے مجموعی تمغوں کی تعداد 67 رہی۔

70 تمغوں کے باجود چین نے تیسری پوزیشن حاصل کی کیونکہ برطانیہ کے مقابلے میں چین سونے کے 26 تمغے جیت سکا۔

روس 19 گولڈ میڈلز سمیت مجموعی طور پر 56 تمغے جیت کر چوتھے نمبر پر رہا۔

جرمنی نے 17 طلائی تمغوں سمیت کُل بیالیس تمغے جیتے اور پانچویں پوزیشن حاصل کی۔ ریو اولمپکس میں پاکستان کوئی تمغہ حاصل نہیں کر سکا جبکہ ہندوستان نے ایک چاندی اور ایک کانسی کا تمغہ جیتا۔ ریو اولمپکس کی اختتامی تقریب کے دوران ریو ڈی جنیرو کا مارکانا اسٹیڈیم رنگا رنگ روشنیوں سے جھلملا اٹھا۔

اولمپکس گیمز میں شرکت کرنے والے 205 ممالک کے دستوں نے میڈلز کے ساتھ پریڈ میں حصہ لیا، اس موقع پر ایتھلیٹس جھوم جھوم کر خوشی کا اظہار کرتے رہے۔

موسیقی کی مختلف دھنوں پر فنکاروں نے اپنی عمدہ پرفارمنس سے تقریب کے شرکاء پر سحر طاری کیے رکھا۔ تقریب میں بینڈ باجوں کی دھنوں پر علاقائی رقص بھی پیش کیا گیا۔

ایونٹ کے اختتام پر اولمپکس کا پرچم جاپان کے حوالے کر دیا گیا،جو 2020 اولمپکس کی میزبانی کرے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.