سابق وزیراعظم نواز شریف نے احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس نےکل کہاانتخابات ملتوی ہونےکی گنجائش نہیں،مجھےچیف جسٹس پاکستان کی باتیں اچھی لگیں،عدالت کوبلوچستان اسمبلی،سینیٹ االیکشن کاازخودنوٹس لیناچاہیے،حلقہ این اے120میں ہمارےلوگوں کواٹھایاگیا،وزیراعظم سےکارکنوں کےمعاملےپرانکوائری کاکہاہے،ہمارےکارکنوں کواٹھائےجانےکاسلسلہ بندہوناچاہیے،تمام جماعتوں کوالیکشن میں حصہ لینےکےیکساں مواقع دینےچاہئیں ۔
انکا کہنا تھا کہ ہمارےرہنماؤں کیخلاف نیب کےبےبنیادمقدمات بنائےجارہےہیں،نیب ہمارےرہنماؤں کوہراساں کرنےکاادارہ بن گیاہے،کرپشن کی ہوتی تویہاں کھڑانہ ہوتا۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ یہ کسی مخصوص طبقےکاملک نہیں سب کاملک ہے،ملک میں کسی قسم کی خرابی اورلڑائی نہیں چاہتے،کسی قیمت پرالیکشن ملتوی نہیں ہونے دیں گے،مجھےبیٹےسےتنخواہ نہ لینےکےجرم میں نکال دیاگیا،عمران خان نےجرم تسلیم کیا،انہیں کچھ نہیں کہاگیا،سینیٹ الیکشن میں ووٹ بیچےگئےخریدےگئے،کسی نےنوٹس لیا؟
گفتگو کے دوران صحافی کی جانب سے سوال کیا کہ آصف زرداری نےکہاہےآئندہ ہماراوزیراعظم بنےگا، جس پر سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ زرداری صاحب پہلےووٹ تولےلیں پھربات کریں گے،ابھی توزرداری صاحب نے400،500ووٹ لیےہیں۔
انکا کہنا تھا کہ احتساب عدالت میں اوپن ٹرائل ہوناچاہیے،اس کیس میں کیاہے،حقائق قوم کےسامنےآنےچاہئیں،مجھےجیل میں ڈالناہےڈال دیں،کال دینےکی نوبت آئی تودوں گا،جیل میں ہوں یاباہر،میں جہاں بھی ہوں کال دوں گا،کیالبیک کہوگے؟
دوسری جانب سماعت میں پیشی کے دوران سابق وزیراعظم نوازشریف کی کمرہ عدالت میں غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جج کوکارروائی براہ راست دکھانےکاکہااوراپنی بات پرقائم ہیں،ہم نہ کبھی اپنےمؤقف سے ہٹے ہیں نہ کوئی یوٹرن لیا،ہم نظریاتی لوگ ہیں،میرےدائیں بائیں نظریاتی لوگ ہی بیٹھےہیں۔


