سابق وزیر اعظم نواز شریف نے احتساب عدالت کے باہر میڈیا سےغیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس اوروزیراعظم کی ملاقات پرشاہد خاقان سےبات نہیں ہوئی، بات ہو گی تو آپ لوگوں کو آگاہ کروں گا ، ابھی تومجھےبیمار اہلیہ کی عیادت کیلئے لندن نہیں جانے دیا جا رہا ، ڈاکٹر وں کےمطابق مشاورت کیلئے میرا وہاں ہونا ضروری تھا۔
صحافی نے سوال کیا کہ جج صاحب نے کہاتھا 5دن تھے آپ جا سکتے تھے؟ نواز شریف نے جواب میں کہا کہ لندن آنے اور جانے میں 2دن لگتے ہیں ، ان دنوں ویک اینڈ تھا ہفتہ اور اتوار ڈاکٹر دستیاب نہیں ہوتے۔
بلوچستان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں دوتین ماہ سے جوتبدیلیاں آئیں ان پر سوال اٹھے ، انھی تبدیلیوں کی وجہ سےچیئرمین سینیٹ کیلئے وفاداریاں خریدی گئیں، ان سب باتوں کاوزیراعظم کونوٹس لیناچاہیے۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ایک ہی ادارہ ہے میراخیال ہے ہر چیز اس کے حوالے کردینی چاہیے، چیف جسٹس کے کندھوں پر 18لاکھ زیر التوا مقدمات کابوجھ ہے۔
صحافی نے کہا کہ چیف جسٹس کہتےہیں ادارےکام نہیں کرتے اس لیےدیکھنا پڑتا ہے ،کیاوزیر اعظم کوبھی فارغ وقت میں کیسز کو دیکھنا چاہیے، جس پر ان کا جواب میں کہنا تھا کہ وزیراعظم کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا۔


