صاف پانی کمپنی کیس : پراسیکیوٹر جنرل نیب طلب

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں صاف پانی ازخودنوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کی۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نےچیف ایگزیکٹوآفیسرصاف پانی کی رپورٹ مستردکردی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ احتساب سب کاہوگاقوم کی ایک ایک پائی وصول کروں گا، جنہوں نےکمپنیزمیں تقرریاں کی،پیسےان سےبھی وصول کیےجائیں گے،تمام کمپنیزکےسی ای اوزکوسرکاری ملازمت کےبرابرتنخواملےگی۔
سماعت میں چیف سیکریٹری پنجاب نے صاف پانی کمپنی میں400کروڑکےاخراجات کااعتراف کیا۔ چیف سیکریٹری پنجاب نے کہا کہ منصوبےپر4ارب لگنےکےباوجودایک قطرہ پانی میسرنہیں آیا، صاف پانی کمپنی میں معاملات اوپرکےبجائےنیچےآتےرہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ جب تک یہ عدلیہ ہےکوئی سفارش یارشوت نہیں چلےگی، زعیم قادری کےبھائی،بیگم کوکیوں بورڈآف ڈائریکٹرزمیں شامل کیا؟14لاکھ روپےدےکرسرکارکےملازم کونوازاجارہاہےتاکہ کام لیاجاسکے۔
جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اتنےاخراجات اشتہاری مہم پرخرچ ہوئے،منصوبہ مکمل ہی نہیں ہوا،یہ قوم کاپیسہ ہے،واپس قومی خزانےمیں جائےگا،سب کااحتساب ہوگا۔
سابق سی ای اوصاف پانی نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایات پربیرون ملک سےماہرین بلائے، وزیراعلیٰ پنجاب نےاختیارات نہ ہونےکےباوجوداحکامات دیے۔
عدالت نے صاف پانی کمپنی سے متعلق ازخود نوٹس کیس میں پراسیکیوٹر جنرل نیب کو 14 اپریل کو طلب کر لیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.