اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:[email protected]     Tel:1-514-970-3200 / 0333-832-3200       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Telephone:- 

Email:-[email protected]

کالم نگار کے مرکزی صفحہ پر جانے کے لیے کلک کریں

 

تاریخ اشاعت:۔30-09-2010

ہم سے غلطی ہو گئی
 
کالم۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ایم ظہیر بابر
آٹھارہ فروری کے عام انتخابات سے قبل ہر سیاسی جماعت خو د کو بہتر سے بھتر ترثابت کرنے کی کو شش میں رہی ہر ایک نے اپنا اپنا منشور پیش کیا لوگوں نے ان کی باتیں سنیں ۔ جلسے وجلوس ہو ئے اور لوگ ان میں شریک ہوئے اور الیکشن سے کچھ دن پہلے ایسا سانحہ پیش آیا کہ ملک میں افراتفری پھیل گئی ہر کوئی خود کو غیر محفوظ تصور کرنے لگا ۔ملک کی سابقہ وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا جب وہ لیاقت باغ میں جلسہ کرنے کے بعد واپس جا رہی تھیں اور اس واقعہ کے بعد ملک میں افراتفری پھیل گئی ۔ان دیکھے ہاتھوں نے دہشت گردی بھی کروائی اور بھت سے معصوم لوگوں کی جانوں سے کھیلا گیا اور آ خر کا ر 18 فروری بھی آ گئی لوگ کہتے تھے کہ ابھی الیکشن نہیں ہو نے چاہیئے کیونکہ پی پی اس ٹائم غم میں ہے اور لوگ بھی ابھی تک اس سانحہ کو نہیں بھولے
اس کے ساتھ ساتھ لوگ کہ رہے تھے کہ اب پی پی کے جیت کے چانس ختم ہو گئے ہیں ان کی لیڈر فوت ہو گئی ہے بھت مشکل سے ان کو سیٹیں ملیں اور دوسری طرف نواز شریف کے جیتنے کے چانس زیادہ ہو گئے تھے مگر یہ ایک گروپ بن گئے تھے اس لئے ایک کی جیت دوسر ے کی یقینی جیت تھی ۔پی پی اور ن لیگ نے اپنے ووٹ بینظیر بھٹو صاحبہ کی شہادت کی وجہ سے کیش کئے لوگوں نے ان کے غم کی وجہ سے ان کو ووٹ دیئے خصوصی طور پر پی پی کو بونس میں ووٹ ملے کیونکہ لوگوں کا خیال تھا کہ پی پی کمزور پڑ گئی ہے یتم ہو گئی ہے غم میں نڈھال ہے۔لوگوں نے دھڑا دھڑ ان کو ووٹ دیئے تا کہ یہ جماعت ان کو بحرانوں سے نکالے گی غربت اور بےروزگاری کو ختم کر ے گی ہمارے خیال میں اب نا تو پی پی میں وہ افکار ہیں اور نا ہی وہ رسم ورواج ۔ صرف نام کی پی پی رہ گئی ہے کام کی پی پی ذولفقار علی بھٹو کے ساتھ ہی چلی گئی ۔چلیں ۸۱ فروری گزر گئی اور پی پی سب سے زیادہ ووٹ لے کے اقتدار کے تخت پر آ گئی اور پی پی کا وزیراعظم منتخب ہوا اور انہوں نے جو پہلی تقریر کی وہ عوام کی آ واز تصور کی گئی مگر اس تقریر کو کیئے دو سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے مگر ابھی تک عملی کام ایک بھی نہیں ہوا عملی طور پر کوئی کام شروع نہیں ہوا پتا نہیں کیوں؟اب عوام میں مایوسی اور بے چینی بڑھ رہی ہے کیونکہ اس حکومت نے آتے ہی مہنگائی کے بم گرائے ہیں اورجو پیچھلی حکومت نے بھی نہیں گرائے تھے اور کوشش کی جاتی ہے کہ کم از کم دس روپے چیز کی قیمت بڑھے ۔ اور اس قیمت سے مہنگی کریں۔اور تو اور یہ حکومت کھانے کے چکر میں خو دہے مگر الزام پیچھلی حکومت کو د ے رہی ہے کہ اس نے ہر چیز پر سبسڈی دی اور چیزوں کی قیمتوں کو الیکشن کی وجہ سے نا بڑھایا اور ہم بے قصورومجبور ہیں کہ ان چیزوں کی قیمتیں بڑھائیں۔اور ان کی ایسی باتوں اور پالیسوں کی وجہ سے عوام میں مایوسی پھیل رہی ہے عوام نے ان کو اپنا ہمدرد سمجھ کر چنا تھا مگر اب عوام کہتی ہے کہ ہم سے غلطی ہو گئی
ہمیں نہیں پتہ تھا کہ یہ ہمار ے ہمدرد ہی ہمیں نشان عبرت بنا دیں گئے مہنگائی کے مار ے لوگ خود کشیاں کر رہے ہیں عوام بے چاری کیا کر ے وہ نامر سکتی ہے نا کو ئی چیز خرید سکتی ہے
اور اب مسلم لیگ (ق) والے بڑ ے خو ش دیکھا ئی دیتے ہیں کہ شاید ہمیں پھر سے اقتدار مل جائے وہ محفلوں میں بیٹھ کر کہتے ہیں کہ اب آ پ نے ان کو سلیکٹ کیا ہے تو ان کو آزمائےں ۵ سال صبر کر لیں ہمیں تو آ پ نے

reject

 کیا ہم نے بغیر چون چراں کئے اور چپ کر کے اقتدار کو چھوڑ دیا اب تم لوگ جانو اور تمھاری حکومت۔
مہنگائی کنٹرول سے باہر جا رہی ہے تقریبا ۰۰۲ فیصد بڑھ چکی ہے لوگ فاقوں پر مجبور ہیں حکومت نام کا ریلیف د ے رہی ہے باتوں سے د ے رہی ہے حقیقت میں کو ئی کام نہیں ہو رہا آ خرکیوں ایسا ہو رہا ہے؟کہ ایک طرف تو لوگ بھوکے مر رہے ہیں اور دوسری طرف نام کی سبسڈی اور ریلیف دیا جا رہا ہے جب بھی پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو ہر چیز کی قیمیں بڑھا دی جاتی ہیں چاہے اس کا تعلق ہے یا نہیں
ہر چیز کی قیمیں آسمان کوچھو رہی ہیں غریب کے لئے روح وجسم کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے پٹرول جو ۱۵ روپے میں مل سکتا ہے عوام کو وہ بھی 75روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے حکومت میں موجود لوگ ناقص پالیساں بنا رہے ہیں

stock exchange

 میں بڑ ے بڑ ے مگر مچھ بیٹھے ہیں جو عوام کے لئے کچھ نہیں کر رہے اپنی تا جوریاں اور

frogin accounts

 بھر نے میں مصروف ہیں۔ غریب ، غریب تر اور امیر ، امیر تر ہوتا جا رہا ہے طبقاتی تقسیم ہو رہی ہے
ہماری حکومت جو بھی پالیسیاں بنا رہی ہے چاہے وہ معاشی ہیں معاشرتی ہیں سب ناکام ہو رہی ہیں یا بھر بنا ئی نہیں جا رہیں یا بنا ئی جا رہی ہیں مگر ان کا ثمر عوام تک نہیں پہنچ رہا عوام روٹی کو ترسے ہو ئے ہیں اور حکومت معاشی پا لیسیوں میں پھنسی ہو ئی ہے کہ کس طر ح عوام کو لوٹا جائے اگر معاشی پالیسیا ں ٹھیک نہیں ہو ں گی تو عوام کو ریلیف نہیں ملے گا تو معاشر تی پالیسیاں کیسے فا ئدہ دیں گی۔رو ٹی، کپڑا ،مکان ، تعلیم ، صحت ، یہ سب پالیسیاں اس وقت کام آ ئیں گی یا ضرورت پڑ ے گی جب ہماری معاشی پالیسیاں ٹھیک ہو نگی۔لوگوں کو روزگار ملے گا تو وہ معاشی طور پر مضبوط ہو نگے ان کی جیب میں پیسے ہونگے تب جا کر وہ کپڑا ، مکان ۔ تعلیم اور صحت کے بارے میں سوچیں گے
حکومت کو چاہیئے کہ وہ اپنے کئے ہوئے وعد ے پور ے کر ے ۔ معاشی و معاشرتی پالیساں درست کر ے لوگوں کو ریلیف د ے اور جو جو وعد ے کئے ہیں ان پر جلد از جلد ان پر عمل پیرا ہو جتنی دیر ہو گی ۔ لوگوں میں مایوسی پھیلے گی  عوام کا اعتماد نہیں رہے گا عوام کہیں یہ کہنے پر مجبور نا ہ وجائیں کہ ہم سے غلطی ہو گئی

 
 

Email to:-

 
 
 
 
 
 

Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved

Copyright 2010 urdupower.o.com, All rights reserved