اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:[email protected]     Tel:1-514-970-3200 / 0333-832-3200       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Telephone:- 

Email:-[email protected]
 

کالم نگار کے مرکزی صفحہ پر جانے کے لیے کلک کریں

 

تاریخ اشاعت:۔11-07-2010

زندہ باد جعلی ڈگری والو
 
کالم۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ محمد وجیہہ السماء


 کہتے ہیں کہ پاکستان میںاب تک اٹھائیس خاندان حکومت کر رہے ہیں جو اب پھیل کر پچاس کے قریب ہو چکے ہیں ۔اٹھائیس کیا پچا س کیا اگر یہ خاندان سو کے قریب بھی پہنچ جا تے تو شاید کسی کو کو ئی اعتراض نا ہوتا لیکن گزشتہ کئی عشروں سے پاکستان میں کرپشن،لاقانونیت، اقراپروری، چوری، ڈکیتی، لوٹ مار ۔ رشوت ، اقرا پروری،جیسے جرائم میں بے پناہ اضا فہ ہوا ہے جو کہ اب رکنے کا نام نہیں لے رہے۔ جن کی وجہ پاکستان میں حکمرانی کرنے والے وہ عیا ش حکمران ہیں جن کی وجہ سے پا کستان کی معشیت اور اس کے ادارے قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں ۔ قرضے لینے والے چند افراد ہیں مگر اس کی سزا پوری قوم کو بھگتنا پڑ رہی ہے۔اس ساری صورت حال کو بھی عوام سمیت ہر شعبہ زندگی قبول کر لیتا لیکن ان سب کاپول جعلی ڈگری رکھنے والوں نے کھول دیا جعلی ڈگری حا صل کر کے اور عوامی خدمت کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آ نے والے حکمران عوامی خدمت کی بجا ئے اپنی عیاشیوں کا سامان اکٹھا کر نے کی فکر میں لگ جا تے ہیں ۔آج پاکستانی قوم مقروض ، مہنگا ئی اور انصاف کے لئے دربدر ٹھوکریں کھا رہی ہے جبکہ حکمرانوں کے چہیتے ٹھیکیدار عوام کا پیسہ دھیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں ۔مقامی سطح پر ایم این اے اور ایم پی اے حضرات اسمبلیوں سے کڑوڑوں روپے کے بل منظور کروانے میں کامیاب ہو جا تے ہیں لیکن یہ پیسہ عوام تک پہنچنے سے پہلے ہی کئی حصوں میں تقسیم کر لیا جا تا ہے اور یہی ملی بھگت کرپشن کا روپ دھار لیتی ہے ۔ کڑوروں روپے کی گرانٹس اور تر قیا تی اخراجات کے لئے فنڈز منظور کروانے والے صرف لاکھوں روپے بمشکل ان کاموں پر لگا تے ہیں اور پھر بھی اپنی تو ہین سمجھتے ہیں اور یہی کو شش کر تے ہیں کہ جتنا ہو سکے کما سکیں۔ا س ملک کے عوام کو گنے والے مشین سے گزار کر ان سے ہر چیز چھین لینا چاہتے ہیں۔کیونکہ ان اَن پڑھ ،جاہل لوگوں نے ہر بات جا نتے ہوئے بھی ان کو اسمبلیوں میں پہنچا یا ہوتا ہے اور یہ عوام ہی ہیں جو کہ ہر بار ان 50خاندانوں ،جا گیراروں، وڈیروں ، چوھردریوں کے گھروںکے نوکر بنے ہوتے ہیں اور ان لوگوں کو اپنے لئے۔۔۔۔جیسے پاکستان امریکہ کو۔۔۔۔۔۔۔۔ سمجھتا ہے۔ یہ جاہل عوام ہی ہر بار ان لوگوں سے دھوکا کھا تی ہے اور ہر بار ان کے جھوٹے وعدوں، فربیوں میں آجاتی ہے اور تا قیامت شاید آتی رہے ۔یہ لوگ جعلی ڈگری کی بنیاد پر اسمبلیوں میں آکر ملکی وسائل اور اپنی طاقت کو غلط طور پر استعمال کرتے ہو ئے فخر محسوس کر تے ہیں نا ہی ان کو کسی چیز کی تکلیف ہو تی ہے اور نا ہی ان کی زندگی میں اخلاقیات ۔۔۔۔نام کی چیز ہو تی ہے صرف آنکھوں پر پیسہ کمانے کی دھن اور کمیشن کھانے کی پٹی بندھی ہوتی ہے۔اس بات پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ جعلی ڈگری والو! گھبرانا نہیں کیو نکہ حکومت تمھا رے ساتھ ہے جیسا کہ حکومت نے اپنے نا اہل اور جعلی والے وزیروں جو کہ ملکی وسائل پر عیاشی کر رہے ہیں او راس ملک کو با پ کی جا گیر سمجھے ہوئے ہیں ۔ان کو بچا نے کے لئے قانون بنا نے کا سو چ رہی ہے اور وزیراعظم صاحب نے اس بارے میں واضع بیان بھی دے دیا ہے کہ پارلیمنٹ کو اختیار حا صل ہے کہ وہ اس بارے میں قا نون بنائے یعنی اپنے بچا ﺅ کے قا نون۔ کیا یہ قانون سازی جائز ہو گی یا نا جا ئز یہ سوال بار بار ذہن میں آ کر پریشان کر رہا ہے ۔ نااہل وزیر جو اپنے بچاﺅ کے لئے قا نون بنا ئیں گے وہ ملک قا نون میں کیا اثرات چھو ڑیں گے کسی نے سو چا ہے ۔؟؟
وا ہ رہی سیا ست کیا ہیں تیرے معجزے
کے مصدق ۔ پتا نہیں حکمران بن کے انسان کی عقل کام کر نا چھو ڑ دیتی ہے یا پھر رہتی ہی نہیں ۔ جو جعل ساز لوگ ملکی وسا ئل پر قا بض ہیں ان کو بچا نے کے لئے حکومت ہر جا ئز نا جا ئز قا نون بنا لے گی اور ان سے ملک کو چھٹکارہ نہیں ملے گا؟؟؟
جعلی ڈگری والوں کو تو اعلیٰ عدلیہ نے اقتدار سے باہر کیا مگر افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ عدلیہ نے انہیں این آر او کی طرح معاف کر دیا جس کا نتیجہ یہ نکلاکہ یہ دوبارہ اقتدار میں جا بیٹھے۔ہمارے ملک میں یہ دوسرا این آر او ہے پہلا سابق صدر مشرف نے جاری کیا تھا ۔ اور یہ دوسرا این آر او شاید اب سپریم کو رٹ نے جاری کیا ہے کہ جعلی ڈگری رکھنے والوں کو یہ سزا نا دی گئی اور جعلی ڈگری رکھنے پر جتنے دن حکومت کے وسا ئل استعمال کیئے گئے ان کو بھی کو ئی احتساب نہیں کیا گیا۔ یا ہم پھر یہ ثابت کر ہے ہیں کہ واقعی ہماری سیاست میںتعلیم جو جہالت کو دور کر نے والی اور برائیوں روکنے والی چیز کی کو ئی گنجائش ہے ہی نہیں۔اور نا ہی سیاست کے لئے تعلیم کا ہونا ضروری ہے ۔اور یہ بات ان حکمرانوں کے لئے با عث ِ ندامت نہیں بلکہ قابل فخر بات ہے کہ ان کے پاس بی ۔اے ،ایف ۔ اے کی ڈگری ہے ۔ا ور ان کے بقول ڈگری اصلی ہو یا نقلی ڈگری ڈگری ہو تی ہے
ان باتوں سے تو ایسے ہی محسوس ہو تا ہے کہ اس مملکت خداداد کا شاید امریکہ کے علاوہ کوئی خیر خواہ نہیں جیسے پاکستانی معشیت ،اس کے لوگوں، اداروں، اور خاص طور پر اس ملک کے ایٹمی مواد کی فکر ستا ئے ہو ئے ہے اور اس کی راتوں کی نیندیں حرام ہو گی ہیں۔کہ کہیں ایٹمی مواد کو ملک دشمن شر پسند عناصر حا صل نا کر لیں۔
پہلے تو سپریم کو رٹ نے ان کو کچھ نہیں کہا مگر اب آزاد سپریم کورٹ نے جب سے کام شروع کیا ہے لوگوں کی نیندیں حرا م ہو چکی ہیں ۔ اور ان کا سکون ان کا وبال جا ن بن چکا ہے کیو نکہ سپریم کو رٹ نے ہر غلط فیصلے پر از خود نو ٹس لے کر عوا م کو ان درندوں سے بچایا جو پا کستان کو امریکی غلامی میں دے کر اپنے لئے فائدے حاصل کر رہے تھے یا کر چکے تھے
اس کے ساتھ ساتھ سپریم کو رٹ نے جو جعلی ڈگریوں کو چیک کر نے کا حکم دیا ہے اس پر جلد از جلد کام ہو نا چا ہیے اور ملکی پارلیمنٹ کو ان جعل سازوں سے چھٹکارا ملنا چا ہیئے اس کے ساتھ ساتھ ہو نا تو یہ چا ہیئے تھا کہ سیاسی جماعتیںاپنے جعلی ڈگری والے وزیروں کو اس وقت گھر بھیج دیتیں۔ اور اپنی جما عتوں کو بدنا م ہو نے سے بچا یا جا تا مگر کسی نے بھی اس طرف دھیان نہیں دیا ۔سوائے ایک پا رٹی کے ۔ا س کام کو ن لیگ نے کیا ہے اپنے وزراءسے استعفےٰ لے کر ان کو گھر بھیجا ہے ۔مگر پی پی نے تو قسم کھا ئی ہو ئی ہے کہ سپریم کورٹ کو ئی بھی فیصلہ دے اس کے خلاف ہی کام کر نا ہے اور بیان یہی دینا ہے کہ سپریم کو رٹ جو فیصلہ دے گی اس پر مکمل عمل درآمد کیا جا ئے گا۔
اور اب وہ حکمران سن لیں ۔جو یہ کہتے ہیں کہ ڈگری ڈگری ہو تی ہے اصلی ہو یا نقلی ڈگری ہو تی ہے۔یا وہ حکمران جو یہ کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ لاکھ بار ان جعلی ڈگری والو ں کو اقتدار سے دور رکھے ۔وہی جٹ اور دستی کامیاب ہو ہو کے آ تے رہیں گے۔ کہ اب ان کے اقتدار کا سورج بہت جلد غروب ہو نے والا ہے اورعوامی حکومت کا سورج چڑھنے والا ہے ۔اب بھی ان نا اہل حکمرانوں کے پاس وقت ہے کہ وہ اپنا بوریا بستر یہاں سے گول کر کے برطا نیہ یا کسی اور ملک میں سیاسی پناہ لے لیں ورنہ سپریم کو رٹ۔۔۔۔۔
 
 

Email to:-

 
 
 
 
 
 

Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved

Copyright 2010 urdupower.o.com, All rights reserved