اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:[email protected]     Tel:1-514-970-3200 / 0333-832-3200       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Telephone:- 

Email:-[email protected]
 

کالم نگار کے مرکزی صفحہ پر جانے کے لیے کلک کریں

 

تاریخ اشاعت:۔26-07-2010

قومی اور مذہبی تہوار مگر کیسے؟؟
 
کالم۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ محمد وجیہہ السماء


قوموں کی زندگی میں کا فی طرح کے تہوار آ تے رہتے ہیں ہر قومکے اپنے تہوار ہیں۔اقوام عالم اپنے تہوار اپنے اپنے مذاہب اور اپنی روایات کے مطابق مناتے ہیں جن کی حیثیت جان میں روح سی ہوتی ہے ۔ جن میں کچھ تو قومی تہوار ہو تے ہیں اور ملکی حکومتیں ان تہواروں کو لوگوں کے ساتھ مل کر جوش و جذنے سے منا تی ہیں اور دوسرے مذہنی تہوار ہو تے ہیں جو کہ کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کے لئے مذہب میں بتا ئے گئے ہیں تا کہ وہ کسی قسم کی غمی محسوس نہ کر سکیں ۔ جیسا کہ مسلمانوں کے لئے دین اسلام میںیہ تہوار شامل ہیں ۔ عیدین ہیں۔ عیدالنبیﷺ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اور بہت سے ہیں ۔اور مسلمان اسلام ان تہواروں کو مذہبی جوش و جذبے سے منا تے ہیں ۔ہمارے ہاں بھی ان تہواروںکو بڑی اہمیت حاصل ہے اور ہو بھی کیوں نا ۔ ہم ایک آزاد اور خودمختار مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے غیور عوام ہیں ۔جنہوں نے بے پناہ کوششوںکے بعد اسے حاصل کیا اور اس کے حاصل کر نےکی وجہ بھی دو قومی نظریہ بنی ۔کہ ہندومت ایک مذہب ہے اور اسلام ایک الگ مذہب ہے ۔ہزاروں سال مسلمان اور ہندوءاکٹھے ایک ملک برصغیر میں رہے ۔ مگر رہنے کے باوجود ا ن کی روایات الگ الگ رہیں اورآج بھی اسی نظریہ کو دوہرانے کی ضرورت ہے کیونکہ ہم اپنے مذہبی بھی کسی غیر اسلامی روایات کی نظر کر دیتے ہیں ۔جیسا کہ محرم الحرام ہو یا رمضان المبارک ایسے موقعوںپر فٹ بال یا کرکٹ ٹیموں کا یہ اعلان کر نا کہ ہم فائنل جیت کر اپنے ملک کی عوام کو تحفہ دیں گے ۔اگر میچ جیت لیا تو سب خوش اور اگرہار گئے تو اس تہوار کا بھی مزہ خراب ہو جا تا ہے
اگراس سال کے سلسلے کو آ گے دیکھا جا ئے تو 14اگست کی آ مد آ مد ہے اور ہر کو ئی اسی کو شش میں ہے کہ وہ اپنے گھر ، گلی ، بازار کو اس دن خصوصی طور پر سجا ئے اور اس کا انداز سب سے نرالہ ہو۔ اس کےلئے کئی کئی دن پہلے تیاریا ں شروع کر دی جا تی ہیں ۔
اسی طر ح اس بار یہ ماہِ رمضان 12/13اگست کو شروع ہو نے والا ہے ۔ اور 14اگست بھی سا تھ ہی ہو گا ۔ جو کہ ہمارا قومی تہوار ہے ۔ 14اگست کے سلسلے میں حکومتی سر پرستی میںجشن کا اہتمام کیا جا تا ہے۔جس میں سپورٹس میلوں کو خصوصی اہمیت دی جا تی ہے ۔ مثلا کبڈی، پیدل دوڑ،رسہ کشی، کرکٹ میچ ، فٹ بال میچ،ہاکی،کڑاٹے وغیرہ شامل ہیں
اگر ان کھیلوں کا اہتمام چود ہ اگست کو کیا گیا تو یقینا ملک میں ہزاروں نہیں لاکھوں مسلمان روزہ جیسی عظیم نعمت سے محروم ہو جا ئیں گے کیونکہ ان دنوں گرمی بھی اپنے زوروں پر ہے اور قومی تہوار بھی سر پر ہے اس کے لئے یقینا ابھی سے تیاریاں شروع ہو چکی ہیں لہذا اعلی حکام صدر،وزیراعظم صاحب،اور چاروں صوبا ئی وزیراعلی صاحبان کو چا ہیئے کہ کھیلوں کا اہتمام 12اگست تک کر مکمل کر لیا جا ئے اور انعامات کا سلسلہ 14اگست کو ہر جگہ کر لیا جائے اور اگر انعامات دینے سے قبل تمام سکولوں، کالجوں، یو نیورسٹیوں و دیگر سر کاری و نیم سرکاری اداروں میں تقریری مقا بلے مقامی سطح پر رکھے جا ئیں تو اس سلسلہ میں تمام اعلی ٰ افسران کا با ضابطہ مراسلہ جاری کیا جا ئے۔خصوصا ڈی سی اوز اور ٹی ایم او ز کو۔
اور کیا ہی اچھا ہوتمام سرکاری اداروں میں پر چم کشائی کی شاندار تقریب منعقد کی جائے۔ جن میں مقامی عوامی نما ئندوں سمیت دیگر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شا مل ہوں تا کہ انہیں ایک لیکچر کے ذریعے پاکستان کی آ زادی کے منا ظر و دیگر تاریخ بتائی جائے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی سوچنا چاہیئے کہ آ زادی کے بعد ہم نے سوچ بچار کر نا چھو ڑ تو نہیں دیا یہی وجہ ہے کہ آ ج ہمارے دشمن ہماری قوم کے ساتھ ساتھ ہماری روایات پر بھی حملہ پہ حملہ کر کے ہمیں خدا نخواستہ پستی کی جانب دھکیل رہے ہیں ۔اور یہ ہمارے حکمرانوں پر بھی ایک بہت بڑی ذمہ داری عا ئد ہو تی ہے کہ وہ قومی اور مذہبی تہواروں پرجشن بہاراں کی طرح کے انتظامات کریں
اس کے ساتھ ساتھ ان لیکچرز میں جشن آزادی کی اہمیت اور اس کے تقا ضے جیسے مو ضوعات سے نا صرف لوگوں میں جذبہ حب الوطنی اجاگر ہوگا بلکہ اس سے قو م کا تشخص بھی بحال ہو گا۔اور اس کے ساتھ ساتھ روزہ کی اہمیت بھی واضع ہو گی اور کتنے لوگ اپنے گناہوں سے تا ئب ہو کر اﷲ اور اس کے رسولﷺ کے بتا ئے ہو ئے رستے پر چل کر اپنی زندگیاں سنوار سکتے ہیں اس سے یقینا معا شرے میں بہتری آ ئے گی جو ہماری خوش حالی کے لئے امید کی ایک کرن ثا بت ہو گی ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ آج ہمارے حکمرانوں کو ایک نئے سرے سے عہد کر نا ہو گا کہ ہم اپنے قومی ، مذہبی تہواروں کوکسی کی روایات کی نظر نہیں ہو نے دیں گے ۔اور اسلامی روایات کو زندہ کر نے کے لئے اپنی ہر ممکن کو شش کر یں گے اور عیدین پر سینما گھروں میں لگنے والی فلموں کو اس وقت تک نہیں چلنے دیں گے جب تک ان فلموں میں اسلامی اور قومی تشخص کا خیال نہ رکھا گیا ہوگا
اور چو نکہ لوگ روزہ دار ہو نگے اس لئے ایسی تقریبات پر لوزمات کی مد میں آ نے والے بے تحا شا اور فضول اخراجات نہ ہو نے کے برابر ہو نگے

 
 
 

Email to:-

 
 
 
 
 
 

Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved

Copyright 2010 urdupower.o.com, All rights reserved