اعوذ             باالله من             الشيطن             الرجيم                بسم الله             الرحمن             الرحيم                الحمد لله              رب             العالمين .             الرحمن             الرحيم . ملك             يوم الدين .             اياك نعبد و             اياك             نستعين .             اهدناالصراط             المستقيم .             صراط الذين             انعمت             عليهم '             غيرالمغضوب             عليهم             ولاالضالين

WWW.URDUPOWER.COM-POWER OF THE TRUTH..E-mail:[email protected]     Tel:1-514-970-3200 / 0333-832-3200       Fax:1-240-736-4309

                    

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

Telephone:- 0334-5877586

Email:-[email protected]

کالم نگار کے مرکزی صفحہ پر جانے کے لیے کلک کریں

 

تاریخ اشاعت:۔30-11-2010

وکی لیکس کے نئے انکشافات اور پاکستانی میڈیا
کالم۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ محمد وجیہہ السماء

وکی لیکس نے اپنی ویب سائٹ پر پھر سے خفیہ دستاویزات شا ئع کر کے دنیا بھر میں طوفان سا کھڑا کر دیا ہے اور ان انکشافات کے بعد کا فی ممالک کے تعلقات ایک دوسرے سے خراب اور کئی ایک کے جنگ کے دوراہے پر پہنچ سکتے ہیں اس بار جو جو انکشافات کئے گئے ہیں ان میں سب سے پہلے سعودیہ کے ولی عہد کے بیان کو بیان کیا گیا ہے جو کہ صدر زرداری کے بار ے میں ہے کہ صدر زرداری پاکستان کی تر قی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اور اس کے سا تھ ساتھ پاکستان کے بارے میں انکشافات کئے گئے ہیں کہ پاکستا ن نے 2009ءمیں امریکہ کو ایٹمی تنصیبات کے معا ئنے کی اجا زت نہیں دی جو کہ امریکہ2007ء سے ما نگ رہا تھا اور امریکہ 2007ءسے پاکستان کے ایک ایٹمی ریسرچ ری ایکٹر سے انتہائی افزدہ یورنیم اپنے قبضے میں لینے کی کوشش کر تا رہا ہے مگر تا حال وہ اس کوشش میں ناکام ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ا مریکی سفیر نے یہ بات بھی امریکہ کو بھیجی تھی کہ پاکستان ایک طرف تو معائنے کی اجا زت نہیں دے رہا تو دوسری طرف اپنے ایٹمی ایندھن میں کمی پر بھی رضا مند نہیں۔ اورگارڈین کے مطا بق سعودی شاہ کے بارے میں بتا یا گیا ہے کہ وہ بار بار ایران پر حملے کا کہتے رہے ہیں اس سلسلے کو آگے بڑھا تے ہو ئے یہ بھی بتا یا گیاہے کہ ایران شمالی کو ریا سے جدید میزائل سسٹم حا صل کر چکا ہے جن کی رینج 3200کلو میٹر تک ہے اور یہ روسی ساختہ میزائل یورپ اور مشرق وسطیٰ تک مار کر نے کی صلا حیت رکھتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کے بار ے میں بتا یا گیا ہے کہ ان کے نائب صدر احمد ضیاءمتحدہ عرب امارات کے دورے پر گئے تھے تو منشیات کی روک تھا م کے لئے کام کر نے والے امریکی ادارے ڈی اے ای کے ساتھ کام کر نے والے مقامی افسروں کو معلوم تھا کہ ان کے پاس 50کروڑ سے زائد کی رقم تھی ۔کابل سے امریکی سفارت خانے سے بھیجے گئے پیغام میں یہ بتا یا گیا ہے کہ نائب صدر سے رقم نہیں لی گئی اور یہ بھی معلوم نہیں کیا گیا کہ یہ رقم کہاں سے آ ئی ہے اور کہاں گئی ہے
سب سے ضروری انکشاف جو وکی لیکس نے کیاہے وہ یہ ہے کہ امریکہ نے اپنے سفیروں کو یہ بھی حکم دیا ہوا تھا کہ اہم شخصیات اور مختلف ممالک کے سربراھان کے بزنس کارڈز، اور کریڈٹ کارڈز ، ان کے اوقات کار اور دوسری معلومات جمع کر نے کا حکم تھا۔
یہ تو تھے وکی لیکس کے کارنا مے ۔جس کی وجہ سے ایک تو اسے شہرت ملی اور دوسری طرف امریکہ کا گھنا ﺅنا چہرہ سا ری دنیا کے سامنے آ گیا جو کہ قابل تحسین اقدام ہے۔ اور راقم تو اس کے مالک کو اور اس کی پوری ٹیم کومرد آہن قرار دیتا ہے جس نے ہر ڈر ،خوف،اور دھمکیوں کے باوجود دنیا کو امریکہ کا اصل چہرہ دکھا دیا۔ مگر دوسری طرف پاکستانی میڈیا کا کرداردیکھیں تو یہ صرف گندی نا لیوں سے پانی نکا لنے، پل بنوانے، گٹر صاف کروانے، یا سیاست کی کٹ پتلیوں کے بیا نا ت لگا کر کیچڑ اچھا لنے تک محدود ہے کو ئی کام اپنی عوام ،اپنے ملک کے لئے نہیں کر تا۔ یہا ں کی صحا فت صرف اشتہارات، کیچڑ، اور صحا فیوں کی ضیافتوں تک محدود ہے، اور لوکل صحا فت تو ۔۔۔۔۔۔جبکہ حقیقت میں صحافت کا معنی آگا ہی ہے ۔ اپنی قوم کو ایک راہ دکھا نا ہے لوگوں کو شعور دلانا ہے جبکہ ہمارا میڈیا ان سب باتوں سے کوسوں دور ہے اور نہ ہی سچ لکھنے دیا جا تا ہے نہ کہنے دیا جا تا ہے اگر کو ئی سچ لکھ بھی دے تو اس پر ایسے لا ئن لگا دی جا تی ہے کہ یہ پرنٹ نہ ہو۔ اور ہمارے معزز اور سینئر ترین تجزیہ نگار بھی صرف اپنے اپنے ادروں کی پالیسی اور اپنے فائدے کی با تیں لکھتے ہیں کم ہی ایسے ہیں کہ حکومت کی راہنما ئی کر تے نظر آ تے ہیں اور اب تو ہمارے میڈیا کی آ نکھیں ،دل و دماغ کھل جا نا چاہیئے کیو نکہ اب اس کی ذمہ داری اور بڑھ گئی ہے کہ اگروکی لیکساس طرح کی حساس معلومات حاصل کر کے دنیا کے آ پس کے تعلقات اور امریکی چہرہ دیکھا سکتی ہے تو پاکستانی میڈیا اپنے ملک کے لئے ایسی کو ئی خدمت سر انجام کیوں نہیں دے سکتا جوپاکستانی عوام کو آنے والے وقت کے بارے میں آگا ہی دے اور ملکی عوام کو تحقیقی رپورٹنگ کر کے دکھا دے کہ جس طرح پاکستان کی آ ئی ایس آ ئی پر دنیا طرح طرح کے الزامات لگا تی ہے مگر وہ اپنا کام صحیح طریقے اور پوری لگن سے کر رہی ہے اسی طرح پاکستانی میڈیا بھی اپنی عوام کو دشمنوں کی نظروں سے بچانے کے لئے دن رات اور پوری لگن سے کام کر رہا ہے۔ اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ہمارے میڈیا کے بڑے بڑے ادارے ایک یونین بنا ئیں اور اپنے محنتی اور محب وطن صحا فیوں سے کام لیں جو خبر کو ہزروں لاکوں کے پیچھے سے نکال لائیںاس کے ساتھ ساتھ ہمارے میڈیا کو نئے آ نے والے صحافیوں اور کالم نگاروںکو بھی اپنی ٹیم میں شامل کرنا چا ہئے جو ان کے بعد اپنے اپنے اداروں کے لئے کام کر سکیں اﷲ پاکستان کو حامی و نا صر ہو(آمین)۔
 
 

Email to:-

 
 
 
 
 
 

Copyright 2009-20010 www.urdupower.com All Rights Reserved

Copyright 2010 urdupower.o.com, All rights reserved