جب تک وزیراعظم کا احتساب نہیں ہوتا ہمیں کوئی حق نہیں کہ غریبوں کو جیل میں ڈالیں۔عمران خان

فیصل آباد(اردوپاورڈاٹ کام)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ جب تک وزیراعظم کا احتساب نہیں ہوتا ہمیں کوئی حق نہیں کہ غریبوں کو جیل میں ڈالیں،میاں صاحب کی معصوم شکل دیکھ کرمجھے اور قوم کو ترس آجاتا تھا کہ بھولا بھالا شخص ہے،لیکن اب میاں صاحب آپ کو جواب دینا ہوگا،بے شک سارے چور ہوں لیکن پہلے آپ کو جواب دینا ہوگا،میاں صاحب سے چار سوال پوچھے کہ کیا آپکی جائز کمائی تھی،کیا ٹیکس دیا تھا،کیا پیسہ پاکستان سے باہر قانونی طور پر گیا تھا،کیا فلیٹ فروخت کرنے کے کاغذ ہیں،میاں صاحب جواب دینے کی بجائے طوطا مینا کی کہانی شروع کردیتے ہیں، لندن میں ایک گھر ساڑھے چھ سو کروڑ کا فروخت ہوا ہے،شوکت خانم ہسپتال کو قوم ساڑھے تین سو کروڑ سالانہ خیرات دیتی ہے۔ آج جمعہ کو دھوبی گھاٹ اسٹیڈیم فیصل آباد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فیصل آباد کے لوگوں کا اتنی شدید گرمی میں مجھے عزت دینے کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔خواتین سے معذرت کرتا ہوں جو اسلام آباد اور لاہور میں خواتین کے ساتھ زیادتی ہوئی۔آئندہ کوئی بھی خواتین پر انگلی نہیں اٹھا سکتا۔جو بھی ہماری خواتین کے پاس آئیگا ان کو پھینٹا لگایا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا تھا کہ 21سال کرکٹ کھیل کر صرف میں ہی گرمی برداشت کرسکتا ہوں لیکن عوام کے جذبے کو دیکھ کر پتا چلا کہ اس کو جنون کہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک عظیم خواب کا نام ہے۔میرے پاکستان کے خواب میں سارے انسان قانون کی نظر میں ایک برابر ہیں۔وہ انسان مسلمان،ہندو،مسیح ہو قانون سب کیلئے ایک ہو۔میرا پاکستان قائداعظم اور اقبال کے خوابوں کا پاکستان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں عظیم قوم بننا ہے۔ایسا ملک بننا ہے کہ مغرب والے دیکھیں تو کہیں کہ یہ پاکستانی جا رہا ہے۔اللہ قرآن میں کہتا میں کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب کوئی قوم اپنی حالت خود نہیں بدلنا چاہتی۔عمران خان نے کہا کہ عظیم ملک کیلئے ہمیں مل کر جدوجہد کرنا پڑے گی۔فیصل آباد پاکستان کا مانچسٹر تھا،جب یہ خوش ہوتا تھا تو پاکستان خوش ہو جاتا تھا۔ لیکن آج فیکٹریاں بند ہورہی ہیں۔یہ مزدور کا کاروبارہے۔کسان 13سو کی بجائے 11سو کی گندم کی بوری بیچ رہے ہیں۔پوچھنا ہو گا اپنے آپ سے کہ کیوں اللہ کا عذاب آیا ہوا ہے ۔اشیائے خوردونوش ،بچوں کے دودھ کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔30سال پہلے سیاست شروع کی پہلے دن سے کہا کہ جب تک کرپشن ختم نہیں ہوگی ،سیاستدان اقتدار میں آکر لوٹ مار بند نہیں کرینگے تو ملک ترقی نہیں کریگا۔ کرپشن کے خلاف بولنے پر مجھ پر ذاتی حملے کیے گئے،بیوی کو یہودی کہا گیا،بیوی کو کہا کہ وہ ٹائیلیں اسمگل کررہی ہے،ہسپتال اٹیک کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ حمام میں سب ننگے ہیں کوئی کسی کو نہیں پکڑے گا۔جب وزیراعظم خود کرپٹ ہو تو نیچے کیسے کرپشن رکے گی؟بلوچستان میں سیکرٹری خزانہ پکڑا گیا جس کے گھر میں 68کروڑ روپے پکڑا گیا۔جو قوم کا پیسہ تھا۔ عمران خان نے کہا کہ عوام جو بھی چیزیں خریدتے ہیں 17فیصد جبکہ ڈیزل کے اوپر 98فیصد،پٹرول کے اوپر50اور موبائل فون پر 48فیصد ٹیکس لگتا ہے۔اس لیے امیر امیرتر اور غریب غریب تر ہوتا جاررہا ہے۔کیونکہ پیسے والے ٹیکس نہیں دیتے بلکہ پیسہ اکٹھا کرکے بیرون ملک آف شور کمپنیاں بنا لیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے پچھلے تین سال میں 5ہزار ارب روپے قرضہ لیا گیا۔ پچھلے تمام سالوں میں صرف پانچ ہزار ارب تھا۔یہ قرضہ نواز لیگ حکومت نے لیا ہے۔عمران خان نے کہا کہ پاناما پیپرز کا معاملہ ہوا یہ ہے کہ ایک انٹرنیشنل سطح پر انکشاف ایسے ہوتا ہے کہ ایک بااثرشخصیت کا کمپیوٹر ہیک ہوجاتا ہے جس سے بڑے انکشاف نکل آتے ہیں۔اس میں نواز شریف کے بچوں کانام آگیا ۔ہم نے ان سے سوال پوچھا کہ یہ پیسہ کہا ں سے آیا۔میاں صاحب سے چار سوال پوچھے کہ کیا آپکی جائز کمائی تھی،کیا ٹیکس دیا تھا،کیا پیسہ پاکستان سے باہر قانونی طور پر گیا تھا،کیا فلیٹ فروخت کرنے کے کاغذ ہیں۔ میاں صاحب جواب دینے کی بجائے طوطا مینا کی کہانی شروع کردیتے ہیں۔میاں صاحب نے کہا کہ 2005میں فلیٹ خریدے۔ہم نے لینڈ ریکارڈ رجسٹری نکلوا لی تو وہاں پھنس گئے کیونکہ فلیٹ دس سال پہلے لیے تھے۔انہوں نے کہا کہ عوام سے سوال پوچھتا ہوں کہ جو وزیراعظم پارلیمنٹ میں جھوٹ بولے تو کیا وہ وزیراعظم رہنا چاہیے؟وہ قوم کے ٹیکس کی رقم کی حفاظت کیسے کرے گا۔ عمران خان نے جلسہ کے شرکاء کووزیراعظم نواز شریف،مریم نواز،حسن نواز اور حسین نواز،چوہدری نثار کے بیرون ملک فلیٹس اور آف شور کمپنیوں پر دیے گئے تضادات پر مبنی بیانات کی فلم بھی دکھائی۔انہوں نے کہا کہ شوکت خانم ہسپتال کو قوم ساڑھے تین سو کروڑ سالانہ خیرات دیتی ہے۔میاں صاحب کو اسمبلی میں دیکھا تو برا حال،پانی پی رہے ہیں،شکل سے گھبرائے ہوئے ہیں،میں نے سوچا کہ اس پیسے کا کے فائدہ ہے؟۔ انہوں نے کہا کرکٹ کھیلتا تھا تو بھرپور کھیلتا تھا جب مخالف ہارنے لگتا تو مجھے ترس آنے لگ جاتا ۔اسی طرح آج مجھے میاں صاحب پر ترس آنے لگ گیاہے۔میاں صاحب کے رائیونڈ ہاؤس کی سکیورٹی پر 27سو پولیس اہلکارتعینات ہے۔انہوں نے کہا کہ میاں صاحب کی معصوم شکل دیکھ کرمجھے اور قوم کو ترس آجاتا تھا کہ بھولا بھالا شخص ہے،لیکن اب میاں صاحب آپ کو جواب دینا ہوگا۔بے شک سارے چور ہوں لیکن پہلے آپ کو جواب دینا ہوگا۔لندن میں ایک گھر ساڑھے چھ سو کروڑ کا فروخت ہوا ہے،جب تک وزیراعظم کا احتساب نہیں ہوتا ہمیں کوئی حق نہیں کہ غریبوں کو جیل میں ڈالیں۔آجاساتذہ احتجاج کررہے ہیں۔نوجوانوں نے نوکریاں ڈھونڈنی ہیں،کاروباری لوگوں نے فیکٹریاں چلانی ہیں تو کرپٹ لوگوں کا احتساب کرنا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں