ڈرون حملہ پاکستانی خودمختاری کی خلاف ورزی

کراچی: وزیراعظم نواز شریف نے بلوچستان میں ہونے والے امریکی ڈرون حملے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے کے خلاف امریکا سے شدید احتجاج کیا گیا ہے۔

لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے بلوچستان کے علاقے دالبندین میں ہونے والے فضائی حملے کو پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔

ٹی وی چینلز کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ ابھی یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے 2 افراد میں افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور بھی شامل تھے۔

لندن میں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ امریکا نے ڈرون حملے سے متعلق آگاہ کیا تھا اور امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ جان کیری کا ہفتے کی رات ساڑھے 10 بجے ٹیلی فون آیا تھا۔

لندن میں میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ امریکا نے ڈرون حملے سے متعلق آگاہ کیا تھا اور امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ جان کیری کا ہفتے کی رات ساڑھے 10 بجے ٹیلی فون آیا تھا۔

ذرائع کا دعویٰ تھا کہ ملا اختر منصور کے ماضی میں پاکستانیوں کے ساتھ کچھ تعلقات تھے مگر ان تعلقات میں ان کے افغان طالبان کے امیر بننے کے بعد کشیدگی آ گئی تھی۔

پاکستان نے گزشتہ کچھ عرصے میں متعدد بار کوشش کی کہ وہ افغان مفاہمتی عمل میں شامل ہو جائیں لیکن ملا اختر منصور کی جانب سے اس کو قبول نہیں کیا گیا۔

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں موجود سفارتی مبصرین اس حوالے سے کہتے ہیں کہ ملا اختر منصور کی ہلاکت سے طالبان مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوں گے، طالبان کے پہلے امیر ملا عمر کی ہلاکت پر طالبان پہلے ہی کئی دھڑوں میں تقسیم ہو گئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں