43.9 کھرب روپے کا وفاقی بجٹ پیش، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ ،400 سے زائد مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹی بڑھانے کا فیصلہ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے مالی سال 17-2016 کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا ہے جس میں کل اخراجات کا تخمینہ 43.9 کھرب روپے لگایا گیا ہے ، حکومت نے یکم جولائی سے شروع ہونے والے مالی سال کے لیے معاشی ترقی کا ہدف 5.7 فیصد مقرر کیا ہے جب کہ مالیاتی خسارے کو 3.8 فیصد تک لانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2013ءمیں درپیش معاشی چیلنجز اور گزشتہ تین سال میں ہم نے وزیراعظم کی قیادت میں جو سفر طے کیا اس کو دیکھتے ہیں تو اللہ کی رحمتوں کا بے حد شکر ادا کرتے ہیں جو اس نے ہم پر کیں۔ الحمد اللہ معیشت کو درپیش خطرات ٹل چکے اور ملک ترقی و استحکام کی راہ پر گامزن ہے۔ پاکستان کے جون 2014ءتک دیوالیہ ہونے کی پیش گوئیاں کرنے والے ناکام ہو گئے اور ہم نے ملک کو ناصرف دیوالیہ ہونے سے بچایا بلکہ معیشت کو مستحکم کیا اور آج بین الاقوامی ادارے پاکستان کا نام عزت و وقار سے لے رہے ہیں۔قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ

جناب سپیکر۔۔
ہم نے معاشی چلینجز کے مقابلے کیلئے 2013 ءکے عام انتخابات سے پہلے ایک واضح حکمت عملی تیار کی جس کا اعلان ہمارے منشور میں کیا گیا اور جس کی بنیاد پر ہم نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ اللہ تعالیٰ نے آج اس ملک کا چوتھا بجٹ پیش کرنے کی توفیق عطاءفرمائی ہے اور ہر بجٹ میں ہماری کارکردگی پچھلے سال سے بہتر رہی ہے اور تمام اقتصادی اعشارئیے اس دعوی کی تصدیق کرتے ہیں ۔ اس معزز ایوان کے سامنے گزشتہ سال 9 سے 10 مہینے کے معاشی کارکردگی کی بنیاد پر مکمل مالی سال 2015-16 ءکے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے جون 2013ءمیں پائی جانے والی صورتحال سے موجودہ معاشی حالت کا موازنہ پیش کرتا ہوں۔

معاشی ترقی

گزشتہ سال ترقی کی شرح کئی سالوں کے بعد 4 فیصد سے اوپر رہنے کے بعد رواں مالی سال 2015-16ءمیں معاشی ترقی کا تخمینہ 4.71 فیصد ہے جو کہ پچھلے آٹھ سال میں سب سے زیادہ ہے ۔ یہ کارکردگی مزید بہتر ہوتی اگر کپاس کی فصل میں اس سال 28 فیصد تک نقصان نہ ہوتا جس کی وجہ سے قومی پیداوار میں آدھے فیصد کمی واقع ہوئی۔
فی کس آمدن

مالی سال 2013-14 میں میں 1334 ڈالر پر کیپٹل انکم 2015-16 ءمیں بڑھ کر 1561 ڈالر ہو گئی۔ ڈالر زمیں یہ اضافہ 17 فیصد جبکہ روپوں میں یہ اضافہ 14 فیصد ہے۔

مہنگائی کی شرح

2008-13 کی اوسطاً 20 فیصد افراط زر کے مقابلے میں مالی سال 2012-13 میں 4.7 فیصد تھی اور مالی سال 2015-16ءمیں جولائی سے مئی کے عرصے کے دوران افراط زر کی اوسط شرح 12.82 فیصد ریکارڈ کی گئی جو پچھلے دس سالوں میں مہنگائی کی کم ترین شرح ہے ۔ اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ معاشی ترقی ناصرف بحال ہوئی ہے۔

ٹیکسوں کی وصولی

مالی سال 2012-13ءمیں 3.38 فیصد اضافے کے ساتھ اس ملک کے ٹیکسز کی وصولی 1940 ارب تھی جو موجودہ مالی سال 2015-16 میں 3104 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ان کی اب تک وصولیوں کی بنیاد پر نظر آ رہا ہے کہ جون کے اختتام تک انشاءاللہ یہ ٹارگٹ پورا ہو جائے گا۔ اس طرح تین سالوں میں ٹیکسز کی وصولی میں ساٹھ فیصد کا اضافہ ہو گا جو تاریخی ہے۔
ٹیکس جو جی ڈی پی کی شرح جو 2012-13ءمیں 8.5 فیصد تھی بڑھ کر 10.5 فیصد ہو گئی ہے۔ فزیکل ڈیفیزیٹ جو 12-13 میں 8.2 فیصد تھا تین سال میں اس کو بتدریج کم کر کے 4.3 فیصد کیا جا رہا ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر کریڈٹ جو مالی سال 12-13میں منفی 19 ارب تھا وہ مئی 2016ءتک رواں مالی سال میں 312 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔

سٹیٹ بینک کا پالیسی ریٹ جو 2013 میں 9.5 فیصد تھا مئی 2016تک کم ہو کر 5.75 آ چکا ہے جو کہ 40 سال میں کم ترین شرح ہے

برآمدات

مالی سال 2012-13ءمیں جولائی تا اپریل میں ساڑھے بیس ارب ڈالر تھی جو مالی سال 2015-16ءکے اسی عرصے میں 11 فیصد کمی کے ساتھ 18.2 ارب ڈالر رہی۔ برآمدات میں ہونے والی کمی کی بڑی وجہ ”ڈیکلائنڈ ان گلوبل کموڈیٹی پرائسز ہیں“
برآمدات جولائی اپریل 2012-13ءمیں 33 ارب ڈالر تھی جو 2015-16ءکے اسی عرصہ میں 32.7 ارب ڈالر رہی۔ تیل درآمد کی مد میں 40 فیصد بچت ہوئی لیکن ہم نے اس کو مشینری اور صنعتی خام تیل کی درآمد میں استعمال کیا جس کی بناءپر معاشی ترقی میں مزید بہتری آئے گی ۔ پچھلے تین سال میں مشینری کی درآمدات میں چالیس فیصد اضافہ ہوا جس سے پتہ چلتا ہے کہ سرمایہ کاری میں اضافہ ہو رہا ہے

غیر ملکی رمٹینسز

جولائی 2012-13ءمیں 11.6 ارب کے مقابلے میں اسی دورانیے میں 16 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں اور اس کا رواں مالی سال جون 2016ءتک 19 ارب ڈالر ہے جس کی امید ہے کہ پورا ہو گااور اس کیلئے ہم سمندر پار اپنے بہن بھائیوں کی کاوشوں کی شکریہ ادا کرتے ہیں ۔

شرح مبادلہ

گزشتہ تین سالوں میں ایکسچینج ریٹ مستحکم رہا۔ جون 2013ءمیں یہ 99.66 روپے فی ڈالر کے مقابلے میں اس وقت موجودہ شرح 104 روپے 70 پیسے فی ڈالر ہے۔ پاکستان جیسی معیشت میں شرح مبادلہ کو کلیدی حیثیت حاصل ہے کیونکہ یہ تمام گلوبل انڈیکیٹرز پر اثرانداز ہوتی ہے اس طرح کا استحکام پچھلے کئی برس میں دیکھنے میں نہیں آیا اور اس سے لوگوں کو معیشت پر اعتماد بحال ہوا ہے۔

زرمبادلہ کے ذخائر

جون 2013ءمیں سٹیٹ بینک کے پاس صرف 6 ارب ڈالر تھے جو فوری واجب الادا رقوم کے بعد فروری 2014 میں 2.8 ارب ڈالر کی تشویشناک حد تک گر چکے تھے۔ یہی 2.8 ارب تیس مئی 2016تک بڑھ کر 16.8 ارب ڈالر ہو چکے ہیں جبکہ کمرشل بینکوں کے پاس موجود 4.8 ارب ڈالر جب ان ذخائر میں شامل کر لیں تو پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 21.6 ارب ڈالر پر پہنچ کر ایک نیا تاریخی ریکارڈ کر چکے ہیں۔ اس طرح حکومت نے ملکی معیشت کو بیرونی اتارچڑھاﺅ سے بڑی حد تک محفو ظ کر لیا ہے۔

کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ

پچھلے تین سالوں میں کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے کو پچھلے اوسطاً مجموعی قومی پیداوار کے ایک فیصد کے برابر رکھا گیا ہے۔

سٹاک ایکسچینج

11 مئی 2013 کو 19 ہزار 916 کی سطح پر انڈیکس تھا جو 36000 سے تجاوز کر چکا ہے۔ اس عرصے میں مارکیٹ کیپٹلائزیشن 5.049 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 7.391 ٹریلین اور 21.3 ارب ڈالر سے بڑھ کر 70.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے
پچھلے 15 سال سے لاہور، کراچی اور اسلام آباد سٹاک ایکسچینجز کا پینڈنگ مرجر 11 جنوری 2016ءکو مکمل کر لیا گیا ہے اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ عنقریب پاکستان سٹاک ایکسچینج ابھرتی ہوئی مارکیٹ میں شامل ہو جائے گا۔ اس مختصر سے جائز ے سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان نے ناصرف ٹھوس بنیادوں پر معاشی استحکام حاصل کیا ہے بلکہ ملک ترقی کے راستے پر گامزن ہو گیا ہے۔عالمی ماہرین اقتصادیات، اہم اقتصادی جریدوں اور بین الاقوامی اداروں نے پاکستان کی اس کارکردگی کو سراہا ہے ۔ اللہ کے کرم سے ہم اس معاشی ترزقی کے سفر کو مزید تین کرنے کیلئے کام کر رہے ہیں جس کا عکس اس بجٹ میں نظر آئے گا۔

بجٹ حکمت عملی کے اہم عناصر

مالی خسارے میں کمی 16-17 میں مالی خسارے کو 4.3 فیصد سے کم کر کے 3.8 فیصد کیا جائے گا۔ مالیاتی نظم و ضبط میں بہتری، ہم مالیاتی خسارے میں کمی سے حاصل ہونے والے فوائد کو انشاءاللہ مزید بڑھائیں گے۔ مالی سال 2017ءمیں مالیاتی خسارے کو 4.3 سے کم کر کے 3.8 فیصد کرنے کے بعد فزیکل ریسپونسٹیبلٹی اور ڈیبٹ لمٹیشن ایکٹ 2005ءمیں ترمیم کے ذریعے ہم مالیاتی انتظام میں دو ہم اصلاحات تجویز کر رہے ہیں۔
اس سلسلے میں ایک تو وفاقی حکومت کے مالیاتی خسارے کی حد مقرر کی جا رہی ہے۔ 17-18 سے وفاقی خسارہ جی ڈی پی کا چار فیصد تک کم کیا جائے گا اور آئندہ برسوں میں اس کی حد ساڑھے تین فیصد ہو گی۔ علاوہ ازیں پبلک ڈیبٹ مجموعی قومی پیداوار کی شرح کو جو اس وقت ساٹھ فیصد تک ہے اس کو دو سال میں ساٹھ فیصد تک لانے کے بعد یہ تجویز ہے کہ آئندہ پندرہ سال میں بطور قوم ہم اس کو چیلنج کے طور پر لیں گے کہ اسے 2018سے 2033 اور 2034 تک ہم اسے 50 فیصد تک لے کر آئیں۔

ٹیکس محصولات میں اضافہ

تقریر کے دوسرے حصے میں میں ٹیکس سفارشات بیان کروں گا تاہم اس موقع پر واضح کرتا چلوں کہ مالیاتی خسارے میں مجوزہ کمی ٹیکس محصولات میں بہتری اور اخراجات میں نظم و ضبط لانے سے ہی بہتر ہو گی۔

توانائی پر مسلسل توجہ

توانائی کا شعبہ شروع ہی سے ہماری حکومت کی ترجیحات میں شامل رہا ہے۔ جون 2013ءمیں ملک کو توانائی کے شدید بحران کا سامنا تھا۔ ہم نے اس بحران سے مستقل بنیادوں پر نمٹنے کیلئے ٹھوس حکمت عملی بنائی۔ جس سے لوڈشیڈنگ میں واضح کمی ہوئی اور اب لوڈشیڈنگ ایک باضابطہ نظام کے مطابق ہو رہی ہے۔ وزیراعظم کی سربراہی میں قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے بنائے ہوئے منصوبے پر عملدرآمد کے باعث مارچ 2018تک دس ہزار میگاواٹ سے زیادہ اضافی بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہو گی۔

مارچ 2018ءکے بعد داسو ، دیامر بھاشا ، کراچی سول نیوکلیئر انرجی اور سی پیک کے تحت دیگر کول کے منصوبے زیر تعمیر ہوں گے جس کا تخمینہ تقریباً 15 ہزار میگاواٹ ہے۔
برآمدات میں سہولت دینے اور کاروباری لاگت کم کرنے اور ریگولیٹری ریجیم کو بہتر بنانے یکلئے مختلف اقدامات کا اعلان کریں گے

غربت بیروزگاری

ہماری رمربطو پالیسیز کے نتیجے میں شہری اور دیہی آبادی میں بیروزگاری میں کمی آئی ہے۔ حال ہی میں پاکستان کئے گئے عالمی بینک کے اشتراک سے پاکستان سوشل اینڈ لیونگ سٹینڈرڈ میرمنٹ سروے کے مطابق کوسٹ آف بیسک نیڈز فارمولے کے تحت 2001-02 میں غربت کی شرح 64.2 فیصد سے کم ہو کر مالی سال 2013-14 میں 29.5فیصد ہو گئی ہے۔ جبکہ پرانا فارمولہ جو فوڈ انرجی ان ٹیک تھا کے تحت اسی دورانئے میں یہ 34.6 فیصد سے کم کر 9.31 فیصد تک آ چکی ہے اس طر ح بیروزگاری کی شرح بھی 2013 میں 6.2 فیصد سے کم کر چودہپ نذدرہ میں 5.9 فیصد پر آئی ہے۔

بینظیر انکم سپورٹ فنڈ پروگرام

اس پروگرام کے تحت معاشرے کے کمزور طبقے کو سہارا دیا جا رہا ہے جو کہ ہم سب کی ذمہ داری اور ان کا حق ہے۔ اس پروگرام کے اہم خدوخال یہ ہیں۔ مالی سال 2012-13 کے چالیس ارب کے بجٹ کو بتدریج بڑھا کر موجودہ مالی سال تک 102 ارب روپے کر چکے ہیں اور 2016-17ءکے بجٹ میں اسے مزید بڑھا کر 115 ارب روپے کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ جون 2013ءمیں اس پروگرام کے تحت رقم حاصل کرنے والے خاندانوں کی تعداد 37 لاکھ تھی جو جون 16 تک 53 لاکھ ہو جائے گی اور 2016-17کیلئے اس کا ہدف 56 لاکھ مقرر کیا گیا ہے۔
2013ءمیں اس پرگوام کے تحت ایک خاندان کو سالانہ 12000 روپے سلاانہ وظیفہ ملتا تھا جو کہ بڑھ کر پہلے ہی اٹھارہ ہزار آٹھ سو روپے کر دیا گیا ہے ۔ پاکستان بیت المال کے بجٹ کو دوگنا کر کے چار ارب روپے کیا گیا ہے۔

آئی ٹی کے شعبے کی ترقی و ترویج

کیلئے گزشتہ بجٹ میں بہت سے اقداما کا اعلان کیاگیا تھا۔ ان اقدامات میں عملدرآمد شروع ہو گیا ہے جس کی وضاحت میں یہاں کرنا چاہوں گا۔ کئی علاقوں میں ٹیلی فون اور آئی ٹی کی سہولیات کے پروگرام کے تحت ٹیلی فون اور آئی کی سہولیات دور دراز علاقوں میں پہنچانے کیلئے حکومت نے فیونیورسٹی سروس فنڈ کے ذریعے 2016-17ءمیں چار نئے منصوبے شروع کئے جا رہے ہیں جن کے تحت بلوچستان میں خاران، واشوک اور ڈیرہ بگٹی، خیبرپختونخواہ میں کوہستان اور فاٹا میں وزیرستان کے علاقوں میں 2 ارب 43 کروڑ روپے کی لاگت سے نئی لائنیں بچھائی جا رہی ہیں جبکہ پہلے سے جاری منصوبوں پر 9 ارب 52 کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے۔ مالی سال 2016-17ءمیں دیہی علاقوں میں ٹیلی فون کی سہولتیں فراہم کرنے کیلئے کل 11 ارب 94 کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے۔

انٹرنیٹ براڈ بینڈ کی سہولت اورآپٹک فائبر کیبل

مالی سال 2016-17ءمیں ملک کے جنوبی علاقوں میں 56 ہزار نئے صارفین کو تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت میسر کی جائے گی اور اس کے علاوہ 125 تعلیمی اداروں میں 55 کمیونٹی سینٹرز کو بھی یہ سہولت مہیا کی جائے گی جس پر 48 کروڑ 25لاکھ روپے لاگت آئے گی۔
منصوبے کے تحت آئندہ مالی سال میں بلوچستان میں جاری منصوبوں کی تکمیل کیلئے 63 کروڑ 40 لاکھ روپے اور خیبرپختونخواہ، بلوچستان اور سندھ اور پنجاب میں تین نئے منصوبوں کیلئے ایک ارب 90 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ اس کے علاوہ پاکستان بیت المال کے تحت خواتین مراکز میں کمپیوٹر لیب کا قیام، وزیراعظم کا انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی سکالرشپ ، وزیراعظم کا سکالر شپ برائے ہونہار طلبہ بلوچستان پروگرام او ر وزیراعظم کا قومی آئی سی ٹی انٹرن شپ پروگرام پر عملدرآمد شروع ہو گیا ہے جس پر آئندہ مالی سال میں تقریباً ایک ارب روپیہ خرچ ہو گا۔ حال ہی میں وزیراعظم پاکستان نے چین اور پاکستان کے مابین کراس بارڈر آپٹک فائبر پراجیکٹ کی تعمیر کا افتتاح کیا جس سے دونوں ملکوں کے درمیان نئے تعاون کا آغاز ہو گا ۔

میڈیم ٹرم میکرو اکنامک فریم ورک

ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی ہم نے تین سال کیلئے وسط مدتی فریم ورک تیار کیا ہے جو کہ 2016-19 تک کا احاطہ کرتی ہے جس کے اہم نکات یہ ہیں۔
جی ڈی پی گروتھ کو مالی سال 2018-19ءتک بتدریج سات فیصد تک لے کر جاناافراط زر کوسنگل ڈیجٹ تک محدود رکھنا۔
انویسٹمنٹ ٹو جی ڈی پی جو 2013ءمیں 12.6 فیصد تک آ گئی تھی اس کو 21 فیصد تک بڑھائے جانا۔
فزیکل ڈیفزیٹ کو کم کر کے جی ڈی پی کے ساڑھے تین فیصد تک لایا جانا جو کہ قریباً 8.8 سے 8.2 فیصد تھا
ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو کو 14 فیصد تک بڑھانا اور زرمبادلہ کے ذخائر کو 30 ارب ڈالر تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔

ہماری نظر میں حالیہ تین سال کی کارکردگی کے تناظر میں یہ ایک قابل عمل میکرو اکنامک فریم ورک ہے۔

ترقیاتی پروگرام

پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ بجٹ خسارے پر قابو پانے کیلئے ہمیشہ ترقیاتی اخراجات میں کمی کی گئی۔ ہماری حکومت نے بڑی کامیابی سے اس بری روش کو ختم کیا اور ترقیاتی اخراجات میں کمی کئے بغیر پاکستان میں مالی نظم و ضبط قائم کیا۔ ہماری حکومت کے تیسرے سال کے اختتام پر ترقیاتی اخراجات 348 ارب روپے سے بڑھ کر 661 ارب روپے تک پہنچ جائیں گے اور مالی سال 2016-17کیلئے اس کا ہدف 800 ارب روپے رکھا جا رہا ہے۔ ترقیاتی پروگرامز کا مقصد تعلیم و صحت کی بلاتفریق فراہمی، خواتین کو بااختیار بنانے اور غربت کے خاتمے کے ذریعے انسانی و سماجی ترقی کو مزید بہترب بنانا تاکہ نوجوان آبادی کے اچھے تناسب کا فائدہ اٹھایا جا سکے اور معیشت کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو۔ ترقیاتی عمل میں سرکاری اور نجی شعبہ کی شراکت داری کو بڑھانے کیلئے بھی ایک جامع حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ اس ضمن میں ٹرانسپورٹ، مواصلات، مالیات، صنعت اور خدمات جیسے زیادہ ترقی کی صلاحیت رکھنے والے شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ نتیجتاً ان شعبہ جات کی گروتھ ریٹ اور جی ڈی پی میں ان کی شراکت کو بڑھانے کیلئے جامع عملی منصوبہ جات مرتب کر لئے گئے ہیں۔
عوامی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ نجی سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے بھی کوششیں کی جا رہی ہیں جن میں سرکاری و نجی سرمایہ کاری میں اضافہ، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور مالی سہولیات کے ساتھ ساتھ خصوصی اکنامک زونز کا قیام شامل ہے۔
آبی وسائل

ترقیاتی پروگرام میں پانی کے شعبے پر بھاری سرمایہ کاری کی جا رہی ہے جس کے تحت ہم ملک کے مختلف علاقوں میں جاری منصوبوں پر 32 ارب روپے کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں ،اس کے علاوہ دیامر بھاشا ڈیم جو پاکستان کے مستقبل کیلئے نہایت اہم ہے جس می ں4.7 ملین ایکڑ فٹ پانی کا ذخیرہ کرنے اور ساڑھے چار ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہو گی، بجٹ میں اس منصوبے کیلئے 32 ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔ پن بجلی کا ایک اور اہم منصوبہ داسو ڈیم ہے جو فیز ون میں 2160 بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ابتداءمیں اس کیلئے 42 ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔ بلوچستان میں پانی کے منصوبے اور اس شعبے میں حکومت کی دوسری اہم ترجیح ہیں۔ جس کے تحت فلڈ ڈسپرسلز سٹرکچرز، ڈیلے الیکشنز ڈیمز اور نہروں اور پانی ذخیرہ کرنے والے چھوٹے ڈیموں کی تعمیر عمل میں لائی جائے گی۔ اس سلسلے میں بنیادی توجہ ان منصوبوں پر ہو گی جنہیں دو سال میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔ ان میں کچھی کنال، ڈیرہ بگٹی اور نصیر آباد، نولنگ ڈیم، جھل مگسی، پٹ فیڈر کنال کی ڈیرہ بگٹی تک توسیع اور چھادی ہو ڈیم گوادر شامل ہیں۔ حال ہی میں گوادر میں بسول ڈیم پر کام شروع ہو چکا ہے اور اس سال کئی چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے منصوبوں پر بھی پیش رفت جاری ہے۔
اسی طرح سندھ میں رینی کنال، گھوٹکی اور سکھر، آر بی او ڈی کے سہون شریف سے سمندر تک توسیع اور دارمور ڈیم کے منصوبے بتدریج آگے بڑھ رہے ہیں۔ پنجاب میں پپین ڈیم راولپنڈی پر تعمیر کا آغاز ہو گا۔ داسو کے علاوہ خیبرپختونخواہ میں ضلع مانسہرہ میں چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کیلئے بھی فنڈز مہیا کئے جائیں گے۔ چشمہ رائٹ بینک کنال، فرسٹ لفٹ کم گریویٹی کا اہم منصوبہ شروع ہو گا، فاٹا میں کوم توگنی ڈیم شمالی وزیرستان اور گومل زیم ڈیم جنوبی وزیرستان پر کام بھی جاری رکھا جائےگا۔ اس کے علاوہ پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخواہ میں سیلاب سے تحفظ اور پانی کے ضیاع کو روکنے کیلئے کھالوں کی پختگی اور ملک بھر میں نکاسی آب کے منصوبوں پر کام جاری رکھا جائے گا۔

توانائی

میں نے پہلے بھی توانائی کے شعبے پر حکومت کی توجہ کا ذکر کیا۔ حکومت نے اس شعبے میں اصلاحات کیلئے کئی اقدام اٹھائے ہیں جس میں ترسیل کے دوران بجلی کے ضیاع میں کمی، وصولیوں میں بہتری، چوری کے خاتمے اور سرکولیٹ ڈیٹ کا خاتمہ شامل ہیں تاہم ہماری توجہ توانائی کے نئے وسائل پیدا کرنے پر ہے تاکہ مستقل بنیادوں پر بجلی کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔ ماضی کی طرح اس سال بھی ہم نے انرجی سیکٹر کیلئے اضافی اور سستی بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کیلئے سب سے زیادہ رقوم مختص کی ہیں۔ شعبہ میں سرمایہ کاری رواں مالی سال میں 287 ارب روپے سے بڑھا کر آئندہ مالی سال کیلئے 380 ارب روپے کی جا رہی ہے اور اس مد میں اس سال 130 ارب پی ایس ڈی پی کے ذریعے دئیے جائیں گے جبکہ گزشتہ برس یہ رقم 112 ارب روپے تھی۔ اس سال پی ایس ڈی پی توانائی کے شعبے میں داسو اور دیامر بھاشا ڈیم کے علاوہ کچھ اور منصوبے بھی ہیں۔ ان میں 969 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت والا نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ جس کیلئے 61 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ تربیلا فور ایکسٹنشن ہائیڈرو پراجیکٹ جس کیلئے ساڑھے سولہ ارب روپے مختص کئے گئے ہی اور اس کی استعداد 1410 میگاواٹ ہے۔ بلوکی اور حویلی بہادر شاہ میں 2 ایل این جی سے توانائی پیدا کرنے والے منصوبوں کیلئے 60 ارب روپے رکھے جائیں گے اور ان کی مجموعی پیداوار صلاحیت 2400 میگاواٹ ہو گی۔ اس کے علاوہ کئی اور منصوبے جیسا کہ چین کے تعاون س،ے دو عدد کراچی سول نیوکلیئر پاور پراجیکٹ 2200 میگاواٹ، چشمہ سول نیوکلیئر منصوبہ 600 میگاواٹ، گولن گول ہائیڈرو پراجیکٹ 106 میگاواٹ، جمبیر اور گھاروں میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے اور چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ تین اور چار جیسے منصوبے بھی شامل ہیں۔ پانی، کوئلے، اور ہوا اور نیوکلیئر توانائی کے ذریعے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کے اضافے سے پاکستان کے عوام کو سستی بجلی مہیا ہو گی جبکہ سپلائی اور ڈسٹری بیوشن کے نظام میں بہتری سےبجلی کے ضیاع پر قابو پایا جا سکے گا۔ بجلی چوری کے خلاف اقدامات سے عام آدمی سے بھی بوجھ کم ہو گا۔
ہائی ویز

پاکستان اپنے محل وقوع کی وجہ سے پورے خطے کو آپس میں ملانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس قدرتی نعمت کو اب بھرپور فائدہ اٹھانے اور اسے معاشی بہتری میں بدلنے کیلئے بہت ضروری ہے کہ ہم مواصلاتی نظام میں سرمایہ کاری کریں لہٰذا ہم نے سڑکوں ، شاہراﺅں اور پلوں کی تعمیر کیلئے 188 ارب روپے رکھے ہیں جو پچھلے سال کے مقابلے میں 18 فیصد زیادہ ہیں۔ شاہراہوں کے شعبہ میں لاہور کراچی موٹر وے کی تکمیل اولین ترجیح ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ لاہور کراچی موٹر وے ملک کی تقدیر بدلے گی۔ اس سے لوگوں کو روزگار میسر آئے گا، کھیت سے مارکیٹ تک رسائی آسان ہو گی اور اقتصادی و معاشی ترقی میں اضافہ ہو گا۔ آئندہ بجٹ میں 230 کلومیٹر طویل لاہور عبدالحکیم سیکشن کیلئے 34 ارب روپے رکھے ہیں اور اسی طرح 383 کلومیٹر طویل ملتان سکھر سیکشن کیلئے 19 ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ 296 کلومیٹر طویل سکھر حیدر آباد سکیشن کیلئے سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام میں پی ایس ڈی پی میں ڈھائی ارب رکھے گئے ہیں۔ یہ منصوبے نجی شعبے کی شراکت سے زیر تعمیر ہیں۔ کراچی لاہور موٹر روے کے کئی حصوں کی تکمیل کے علاوہ ہم نے پاکستان چین اقتصادی راہداری کے دیگر حصوں پر بھی کام شروع کرنے کیلئے مختلف رقوم اس بجٹ میں رکھی ہیں۔ 118 کلومیٹر تھاہ کوٹ حویلیاں رابطہ شاہراہ پر بھی کام جاری ہے اور اس سال ہم نے اس ضمن میں ساڑھے سولہ ارب رکھے ہیں۔ برہان ہاکلہ موٹروے ایم ون تا ڈیرہ اسماعیل حان شاہراہ کی تعمیر کیلئے بجٹ میں مجموعی طور پر 22 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ اس بجٹ میں ہائی ویز تعمیر کرنے کے بہت سے منصوبوں کیلئے رقوم مختص کی گئی ہیں جن میںفیصل آباد، خانیوال، ایکسپریس وے، لواری ٹنل اور رابطہ سڑکیں، قلعہ سیف اللہ، لورالائی اور ژوب مغل کوٹ روڈ شامل ہیں۔

ریلویز

ریلوے مسافروں اور سامان کی سستی، تیز رفتار اور آرام دہ ترسیل کا ذریعہ ہے لہٰذا اس کی ترقی ہماری اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔ اسلام آباد اور کراچی کے درمیان حال ہی میں چلائی گئی گرین لائن ٹرین وزارت ریلوے کی شبانہ روز کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک تابندہ مستقبل کا آغاز ہے۔ پاکستان ریلویز انجنوں، بوگیوں، ٹریکس، سگنل سسٹمز اور ریلوے سٹیشن کی بہتری میں سرمایہ کاری کرے گی۔ موجودہ مالی سال کے بجٹ میں مندرجہ ذیل منصوبے ریلویز کے حوالے سے ہماری ترجیح ہوں گے۔ خانپور اور لودھراں کے درمیان پٹڑی کی بحالی کا منصوبہ زیر تکمیل ہے اور اس سال ہم پورٹ قاسم تا بن قاسم سٹیشن موجود پٹری کو دو رویہ مزید بہتر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جو ایک انتہائی اہم سی پیک منصوبہ ہے۔ پاکستان ریلوے کو انجنوں اوربوگیوں کی شدید کمی کا سامنا ہے اس لئے ہم نے نئے انجنوں کی خریداری کیلئے 14 ارب روپے مختص کئے ہیں۔ اس کیلئے بوگیوں کی بہتری اور بحالی کیلئے بھی اقدامات جاری رہیں گے۔ تقریباً آٹھ سو کوچز اور دو ہزار ویگنز کا مرمتی کام اس سال کے آخر تک مکمل کر لیا جائے گا۔ حالیہ بجٹ میں ریلوے کیلئے 78 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جن میں 48 ارب روپے سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرامز میں شامل چالیس پراجیکٹس ہیں اور 37 ارب روپے ریلوے ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کیلئے رکھے گئے ہیں۔ اس شعبہ میں آئندہ مالی سال میں نجی شعبے اور بیرون ملک سے مزید سرمایہ کاری ہونے کی توقع ہے۔
ہیومن ڈویلپمنٹ

کسی بھی قوم کیلئے اس کے لوگ سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں اس لئے انسانی ترقی پر ہونے والے اخراجات کو ہم سرمایہ کاری کا نام دیتے ہیں کیونکہ یہ مستقبل کی ترقی کی رفتار تیز کرنے کی بنیاد ڈالتے ہیں۔ اس شعبہ کی ترقی کیلئے کئے جانے والے اقدامات کچھ یوں ہیں۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے 122 منصوبوں کیلئے ساڑھے اکیس ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جس سے ملک بھر میں مختلف یونیورسٹیوں کے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں مدد ملے گی اور یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جاری اخراجات کی مد میں 58 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں اس طرح اعلیٰ تعلیم کیلئے وفاقی حکومت مجموعی طور پر 79.5 بلین روپے مختص کر رہی ہے۔ یہ رقم پچھلے برس سے گیارہ فیصد زیادہ ہے اور پاکستان میں تاریخ میں سب سے زیادہ ہے۔

صحت کے شعبے میں خدمات کی فراہمی مکمل طور پر صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ سال 2010ءمیں سی سی آئی کے فیصلے کے تحت وفاقی حکومت نے موجودہ سال تک صحت اور بہبود کے قومی پروگراموں کیلئے رقوم فراہم کی ہیں۔ اس سال وفاقی حکومت بھی دوبارہ ورٹیکل ہیلتھ پروگرامز کی مد میں 22 ارب 40 کروڑ روپے رکھ رہی ہے۔ وزیرواعظم کے قومی صحت انشورنس پروگرام پر بھی عمل جاری رہے گا۔ یہ شعبہ اٹھارویں ترمیم کے بعد بٹ چکا ہے اور سی سی آئی نے تیس جون 2014ءتک اسے رکھا تھا اور کہا تھا کہ اس کے بعد ٹیک اوور ہو جائے گا لیکن اس کے باوجود ہم نے یہ رقم مختص کی ہے۔

ٹی ڈی پیز اور سیکیورٹی انہیسمنٹ ڈویلپمنٹ پروگرام

ملکی امن اور سلامتی کو درپیش خطرات کو قلع قمع کرنے میں آپریشن ضرب عضب انتہائی کامیاب اور موثر ثابت ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں قومی امن عامہ کی صورتحال میں بہتری آئی ہے اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ سب بہادر افواج پاکستان کے بے لوث جذبہ کے سبب ممکن ہوا جنہوں نے دہشت گردوں کی کھلی پناہ گاہوں کے خاتمے کیلئے عظیم قربانیاں دیں جس کیلئے قوم ان کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ آپریشن کے علاقوں سے عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کو باقی ملک میں ٹھہرایا گیا تھا اور اب ان لوگوں کی واپسی اور بحالی کا کام جاری ہے اور اس کے علاوہ سیکیورٹی انہیسٹمنٹ ڈویلپمنٹ پروگرام کیلئے 100 ارب روپے کی رقم فراہم کی جائے گی۔

سی پیک

تاریخی منصوبہ ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان ایک نئے دور کا آغاز کرے گا اور ان کو دیگر ممالک سے جوڑنے میں مددگار ثابت ہو گا۔ اس کے تحت تقریباً 46 ارب ڈالر کے منصوبوں پر سرمایہ کاری ہو گی جن میںسڑکوں کی تعمیر، ریلویز کا جال، ٹیلی کمیونیکیشن، گوادر پورٹ کی ترقی، بجلی کی اضافی پیداوار اور ترسیلی نظام کے منصوبے شامل ہیں جن سے پاکستان میں چاروں صوبوں اور خصوصی علاقوں کی ترقی میں اضافہ ہو گا۔

گوادر کی ترقی

آنے والے دنوں میں گوادر اور پاکستان کی معاشی ترقی میں انشاءاللہ انتہائی اہم کردار ادا کرے گا ۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت اس علاقے کی ترقی کیلئے بہت سنجیدہ ہے چنانچہ ہم اپنے وسائل کا ایک خاطر خواہ حصہ بہت سے ایسے منصوبوں کیلئے مختص کر رہے ہیں جو صرف گوادر کی ترقی کیلئے اہم ہیں۔

سپیشل انیشی ایٹو برائے مالی سال 2016-17

مائیکرو اکنامک سٹیبلٹی کو تین سال میں حاصل کرنے کے بعد یہ اب ہمارا قومی فریضہ ہے کہ ہم ان کامیابیوں کو مزید مستحکم بنائیں۔ اصلاحات کے عمل کو تیز کریں اور پیچھے رہ جانے والے شعبوں کی ترقی کیلئے ضروری اقدامات اٹھائیں۔ اس سلسلہ میں چند اقدامات کا ذکر کرتا ہوں ۔

(i)ایکسپورٹس پروموشن

برآمدات کی قدر میں کمی جیسے عالمی مسائل اور ہماری برآمدی اشیاءکی محدود فہرست کی بناءپر پاکستان کی برآمدات کی کارکردگی اپنی صلاحیت سے قدرے کم ہے اور اس شعبہ کو پھر سے متحرک کرنے اور ایکسپورٹرز کو درپیش مشکلات اور بین الاقوامی چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت نے بجٹ 2015-16ءمیں بہت سے اقدامات کا اعلان کیا تھا ۔ مالی سال 2016-17ءمیں برآمدات بڑھانے کیلئے مندرجہ ذیل اقدامات اس معزز ایوان کو تجویز کر رہا ہوں ۔تجارتی پالیسی کے تحت سکیموں کے نفاذ کیلئے مزید چھ ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔ ڈی ایل ٹی ایل کی سکیم جو پچھلے سال متعارف کرائی گئی تھی وہ آئندہ مالی سال بھی جاری رہے گی۔ ایکسپورٹ ری فنانس کی سہولت جون 2013ءمیں 9.5 فیصد تھی اور اس وقت ساڑھے تین فیصد ہے اس کو مزید کم کر کے یکم جولائی 2016ءسے تین فیصد پر لایا جا رہا ہے۔
چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی حوصلہ افزائی اور خصوصاً ان کو نئی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کیلئے راغب کرنے کیلئے نان ٹریڈیشنل ایکسپورٹس کی ترغیب دینے کیلئے ٹیکنالوجی اپ گریڈنگ فنڈ قائم کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کے صنعتی برآمدات یعنی پانچ برآمدات کے شعبے ٹیکسٹائلز، چمڑے، قالین، کھیلوں کی مصنوعات اور سرجیکل آلات پر مشتمل ہیں، ان پانچ شعبوں کی حوصلہ افزائی کرنے کیلئے یکم جولائی 2016ءسے زیرو ریٹڈ سیلز ٹیکس کے نظام کے تحت کر دیا جائے گا جو ان کی کئی سالوں سے درخواست تھی اوران پانچ سیکٹرز کی خواہش تھی کہ اگر ہمیں زیرو ریٹڈ سیلز ٹیکس کر دیا جائے تو ہم پاکستان کی برآمدات میں بہت اضافہ کر سکتے ہیں اور آج ہم نے اس بجٹ کے ذریعے یہ تجویز رکھ دی ہے کہ یکم جولائی 2016ءسے ان پانچوں سکیٹرز کو سیلز ٹیکس کے حوالے سے زیرو ریٹڈ کر دیا جائے۔ یہ سہولت خام مال اور انٹرمیڈیٹ گڈز اور توانائی مثلا بجلی، گیس،تیل اور کوئلے کی خریداری کیلئے میسر ہو گی۔ ان شعبوں کی مقامی طور پر بیچے جانے والی چیزوں پر موجودہ پانچ فیصد سیلز ٹیکس لاگو رہے گا۔ تیس اپریل 2016ءتک کے تمام واجب الادا سیلز ٹیکس ری فنڈز جن کے آر پی اوز منظور ہو چکے ہیں ان کی 31 اگست 2016ءتک ادائیگی کر دی جائے۔

ٹیکسٹائل کے شعبہ کیلئے سہولیات

ٹیکسٹائل پاکستان کی اہم ترین صنعت ہے اور اس کی برآمدات کو فروغ دینے کیلئے بجٹ 2016-17ءمیں مندرجہ ذیل تجاویز پیش کی جا رہی ہیں۔ جو اس سال ڈی ایل ٹی ایل کی سکیم ہے آنے والے مالی سال میں بھی جاری رکھا جائے گا۔ ٹیکنالوجی فنڈ اپ گریڈیشن جو قائم ہوا ہے وہ اس کیلئے بھی ہو گا اور یکم جولائی سے نفاذ ہو گا۔ اس سکیم سے چھوٹے اور درمیانے انٹرپرائزز کو خصوصی فائدہ ہو گا جو نئی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کے ذریعے عالمی سطح پر مقابلے کے قابل ہو سکیں گے۔

مشینری کی ڈیوٹی فری درآمد

ایس آر او 809 کے فوائد مالی سال 2016-17میں بھی حاصل ہوں گے جس کے تحت ٹیکسٹائل مشینری کسٹم ڈیوٹی کے بغیر درآمد کی جا سکے گی۔ آئندہ مالی سال میں اس سکیم میں گارمنٹس بنانے والی مزید مشینری بھی شامل کی جا رہی ہے۔ مشینری کی ڈیوٹی فری درآمد اور لانگ ٹرم فنانس سہولت اور ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن فنڈ کے تحت دی جانے والی مراعات سے ٹیکسٹائل کے شعبے میں مزید سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو گی جس سے پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہو گا۔ انسانی ہاتھ سے بنا فائبر جو پاکستان میں تیار نہیں ہوتے ان کی درآمد پر رعایتی کسٹم ڈیوٹی برقرار رہے گی۔

پلانٹس بریڈرز رائٹس ایکٹ

کاشتکاروں کو معیاری بیج کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ اس مقصد کیلئے ضروری ہے کہ نیا بیج تیار کرنے والے سائنسدانوں کی مناسب عزت افزائی ہو۔ اس قانون کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے جس کو پارلیمینٹ سے منظور کرایا جا سکے گا۔

زرعی شعبہ

یہ شعبہ اس وقت سب سے زیادہ توجہ کا مستحق ہے کیونکہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کے باعث زرعی شعبے میں جی ڈی پی گروتھ 0.19 ہوئی حالانکہ کپاس کی فصل ٹھیک ہوتی تو ایسا نہ ہوتا کیونکہ اس سے آدھا فیصد جی ڈی پی گروتھ میں نقصان ہوا۔ زراعت پاکستان کی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ 44 فیصد آبادی کو براہ راست روزگار مہیا کرنے کیساتھ ساتھ اس کا پاکستان کی جی ڈی پی میں اکیس فیصد حصہ ہے۔ قومی غذائی تحفظ کا انحصار بھی زراعت پر ہی ہے لہٰذا زرعی شعبہ کی کارکردگی کی بہتری سے جی ڈی پی اور زرعی پیداوار میں اضافہ دیہی آبادی کی آمدنی میں بھی اضافے کا باعث بنتا ہے۔ اجناس کے بڑھتے ہوئے ذخائر، کم ہوتی ہوئی قیمتیں اور غیر موضوع موسمی حالات کی وجہ سے زراعت کا شعبہ عالمی بحران کا شکار رہا جس کے نتیجے میں زرعی آمدنی میں واضح کمی ہوئی۔ وزیراعظم نے زرعی پیداوار کیلئے سستی کھاد، بیج، قرضے اور پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے ستمبر 2015ءمیں 341 ارب کا تاریخی کسان پیکیج کا اعلان کیا تھا جس کی اہم خصوصیات یہ ہیں۔ چالیس ارب کی نقد مالی امداد، وفاق اور صوبوں کے اشتراک سے ڈی اے پی کھاد پر بیس ارب روپے کی سبسڈی جس کی وجہ سے پانچ سو روپے فی بوری کم ہوئی، یوریا کی قیمتوں کو کم رکھنے کیلئے سبسڈی اور زرعی ٹیوب ویلوں پر بجلی کے رعایتی نرخ۔ رواں مالی سال میں زراعت کے شعبے میں مشکلات کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت نے مزید خصوصی اقدامات کا فیصلہ کیا ہے جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔
محصولات کی کمی کے سلسلے میں 2015-16 کے بجٹ میں اعلان کردہ کئی رعایتیں دیں جس کا تخمینہ تقریباً 15 ارب روپے تھا۔ یہ تمام رعایتیں آئندہ مالی سال میں بھی جاری رکھی جائیں گی۔

کھاد کی قیمتیں

زرعی ترقی پر ہونے والے اخراجات میں کھاد کا بڑا حصہ ہے۔ حکومت نے پچھلے چند مہینوں میں فرٹیلائزر انڈسٹری کو گیس کی قیمتوں میں کمی کے ذریعے یوریا کھاد کی قیمت کو 2050 روپے فی بوری سے کم کروا کر 1800 روپے کروایا۔ حکومت سے حالیہ مذاکرات کے نتیجے میں فرٹیلائزر انڈسٹری نے اس قیمت میں مزید 50 روپے کم کرنے کی رضامندی ظاہر کی ہے۔ حکومت نے کسان بھائیوں کی مشکلات کو سامنے رکھ کر یہ فیصلہ کیا ہے کہ یکم جولائی 2016ءسے یوریا کی قیمت کو مزید کم کر کے 1400 روپے فی بوری کیا جا رہا ہے۔

اسی طرح ڈی اے پی کھاد پیداوار کو بڑھانے کیلئے انتہائی ضروری ہے۔ ڈی اے پی کی بوری کی موجودہ قیمت 2800 روپے پر آ چکی ہے اور حالیہ مذاکرات کے نتیجے میں فرٹیلائزر انڈسٹری نے ڈی اے پی کی قیمت میں 50 روپے کمی کرنے کی رضامندی ظاہر کی ہے۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ڈی اے کو بھی یکم جولائی 2016 سے ڈھائی سو روپے مزید کم کر کے 2500 پر لایا جائے۔ اس سلسلے میں بھی ماضی کی طرح وفاقی اور صوبائی حکومتیں سبسڈی کی رقم جو 10 ارب روپے ہو گی، برابر برابر حصہ ڈالیں گی۔

زرعی قرضوں کی فراہمی میں اضافہ

کاشتکاروں خاص طور پر چھوٹے کسانوں کو زرعی قرضوں کی سہولیات میں اضافہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ گزشتہ تین سالوں میں ہم نے زرعی کریڈٹ جس کا حجم 2012-13 میں 336 ارب تھا اسے بڑھا کر 2015-16ءمیں 600 ارب کا ہدف رکھا ہے اور اگلے مالی سال میں اس ہدف کو بڑھا کر 700 ارب رکھا جا رہا ہے۔

قرضوں کے نرخ میں کمی۔
حکومت نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے زرعی ترقیاتی بینک، نیشنل بینک آف پاکستان، بینک آف پنجاب اور پنجاب کوآپریٹو بینک کے مارک آپ میں 2 فیصد تک کم کرنے کیلئے حکمت عملی تشکیل دی ہے۔

کریڈٹ گارنٹی سکیم

اس سکیم کے تحت حکومت چھوٹے کسانوں کو دیئے جانے والے قرضہ جات کی عدم واپسی کی صورت میں متعلقہ مالی اداروں کو 50 فیصد تک کی ضمانت دے رہی ہے۔ چھوٹے کسانوں نے اس سکیم میں بے حد دلچسپی کا اظہار کیا ہے لہٰذا حکومت آئندہ مالی سال میں بھی اس سکیم کو جاری رکھے گی جس کیلئے 1 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

زرعی ٹیوب ویلوں کیلئے بجلی کے رعایتی نرخ

اس وقت آف پیک کا ریٹ 8.85 روپے فی یونٹ ہے۔ حکومت نے یکم جولائی 2016ءسے اس میں ساڑھے تین روپے کی کمی کر کے 5.35 روپے یونٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس خصوصی رعایت کے نتیجے میں حکومت تقریباً 27 ارب روپے کے اخراجات برداشت کرے گی۔

ڈیری لائیو سٹاک اور پولٹری کے شعبہ جات میں کسٹم ڈیوٹی کی رعایت

ڈیری لائیو سٹاک اور پولٹری کے شعبہ جات میں سرمایہ کاری اور ترقی کیلئے مندرجہ ذیل سفارشات پیش کی جا رہی ہیں۔ حکومت یہ تجویز پیش کر رہی ہے کہ ڈیری لائیو سٹاک اور پولٹری کی مصنوعات کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی کو پانچ فیصد سے کم کر کے دو فیصد کیا جائے۔ انکیوبیٹرز، بروڈرز اور مویشیوں کے چارے کیلئے استعمال ہونے والی مشینری پر عائد موجودہ کسٹم ڈیوٹی کو بھی پانچ فیصد سے کم کر کے دو فیصد کیا جا رہا ہے۔

مچھلی کی فارمنگ پر عائد کسٹم ڈیوٹی پر رعایت

فش فارمنگ کو فروغ دینے کیلئے مندرجہ ذیل اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ فش فیڈ، پیلے مشینز اور واٹر ایریٹرز کی درآمد پر بھی کسٹم ڈیوٹی پانچ فیصد سے کم کر کے دو فیصد کی جا رہی ہے۔ مچھلی کی خوراک پر اس وقت دس فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد ہے جبکہ کیکڑے، جھینگے کی خوراک پر یہ ڈیوٹی 20 فیصد ہے۔ ان دونوں کی خوراک کی درآمد پر ڈیویٹی ختم کی جا رہی ہے۔ اسی طرح زندہ چھوٹی مچھلیوں کی درآمد پر عائد 10 فیصد کسٹم ڈیوٹی بھی ختم کی جا رہی ہے۔ کول چین مشینری، فوڈ پراسیسنگ کی صنعت کیلئے کول چین سٹوریج اور اس سلسلے کے کیپٹل گڈز کی تمام رینج پر کسٹم ڈیوٹی ختم کی جا رہی ہے۔

پیسٹی سائیڈز

اس وقت پیسٹی سائیڈز پر ایک سپیشل سیلز ٹیکس سات فیصد بھی ختم کیا جا رہا ہے۔ یہ سپیشل سیلز ٹیکس رواں مالی سال میں عائد کیا گیا تھا جو اب ختم کیا جا رہا ہے۔

سائلوز کیلئے سیلز ٹیکس کی چھوٹ

اجناس کو ذخیرہ کرنے کی سہولیات میں استعمال ہونے والی مشینری اور آلات کے ساتھ سائلوز پر بھی سیلز ٹیکس ختم کیا جا رہا ہے۔ زراعت کے حوالے سے شائد ہی پاکستان کی تاریخ میں اتنا بڑا پیکیج اس ایوان میں کبھی پیش کیا گیا ہو۔ میں وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے اپنے کسان بھائیوں، بہنوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں توفیق دی کہ زراعت کو درپیش مشکلات حالات میں حکومت نے زیادہ سے زیادہ سہولیات دی ہیں۔

صنعتی ترقی

صنعتی شعبے میں 6.8 فیصد کی شرح ترقی میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ موجودہ سال میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ لارج سکیل مینوفیکچرنگ نے 4.6 فیصد کی شرح سے ترقی کی۔ ملک میں صنعتی سرمایہ کاری کے عمل میں مزید رجحان پیدا کرنے کیلئے چند مراعات کا اعلان کیا جا رہا ہے۔

ایمپلائمنٹ جنریشن پر ٹیکس کریڈٹ

ملازمتوں کی دستیابی اور صنعتی ترقی کو فروغ دینے کیلئے جون 2018ءتک روزگار کے مواقع فراہم کرنے والی صنعتوں کو 50 ملازموں پر واجب الادا ٹیکس پر دیا جانے والا ٹیکس کریڈٹ جو اب ایک فیصد ہے اس کو 2 فیصد کیا جا رہا ہے اور اس رعایت کو جون 2018ءسے بڑھا کر جون 2019ءتک قائم انڈسٹریز کو رعایت ہو گی۔ رجسٹرڈ پرسنز ٹیکس کریڈٹ کو مصنوعات کی فروخت کے حوالے سے سیلز ٹیکس کے تحت درج شدہ خریداروں کو نوے فیصد سے زیادہ فروخت کرنے کی صورت میں رجسٹرڈ کارخانہ دار کو واجب الادا ٹیکس پر ڈھائی فیصد ٹیکس کریڈٹ اب دیا جاتا ہے۔ اس ٹیکس کریڈٹ کو ڈھائی فیصد سے بڑھا کر تین فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ پلانٹ اینڈ مشینری یا بیلنس اور ماڈرنائزیشن کے حوالے سے ٹیکس کریڈٹ کی فراہمی اس وقت 30 جون 2016ءتک اس مد میں کی گئی سرمایہ کاری کے دس فیصد کی شرح پر واجب الادا ٹیکس پر 2 سال کیلئے ٹیکس کریڈٹ دیا جا رہا ہے۔ 100 فیصد نئی سرمایہ کاری کی صورت میں بی ایم آر پر دیئے جانے والا ٹیکس کریڈٹ سرمایہ کاری کے 20 فیصد کی شرح پر واجب الادا ٹیکس پر پانچ سال کیلئے دیا جا رہا ہے۔ یہ مدت جو 30 جون 2016ءتک ختم ہو رہی ہے، اسے مزید بڑھا کر 30 جون 2019ءتک بڑھایا جا رہا ہے۔

نئی صنعتوں کے قیام کیلئے ٹیکس کریڈٹ کی فراہمی

30 جون 2016ءتک نئے نئی حصص کے اجراءکے ذریعے نئی صنعتوں کے قیام کیلئے 100 فیصد نئی سرمایہ کاری پر واجب الادا ٹیکس پر پانچ سال کیلئے 100 فیصد ٹیکس کریڈٹ دستیاب ہے۔ اس سلسلے میں 100 فیصد ٹیکس سرمایہ کاری کی مجوزہ شرط کو کم کر کے 70 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ مدت کو بھی بڑھا کر 30 جون 2019ءتک کی توسیع کی تجویز ہے۔
موجودہ پلانٹ میں توسیع یا نئے منصوبوں کیلئے 30 جون 2016ءتک نئے حصص کے اجراءکے ذریعے نئے پراجیکٹ پر کی جانے والی 100 فیصد سرمایہ کاری یا موجودہ پلانٹ کی توسیع کی صورت میں واجب الادا ٹیکس پر پانچ سال کیلئے 100 فیصد ٹیکس کریڈٹ دیا جا رہا ہے۔ اس سلسلہ میں 100 فیصد نئی سرمایہ کاری کو موجودہ شرح سے کم کر کے 70 فیصد کرنے کی تجویز ہے اور اس کی مدت بھی تین سال کیلئے بڑھانے کی تجویز ہے۔

گرین فیلڈ انڈسٹریل انڈرٹیکنگ

وزیراعظم کی سرمایہ کاری پیکیج میں گرین فیلڈ انڈسٹریل انڈرٹیکنگ میں کی جانے والی سرمایہ کاری پر دی جانے والی سبسڈی جو 30 جون 2017ءتک ختم ہونے والی تھی ، کو بڑھا کر 30 جون 2019ءتک بڑھایا جا رہا ہے۔

خام مال اور مشینری پر عائد کسٹم ڈیوٹی میں کمی

تین سال کے استحکام کے بعد اب ہم نے جی ڈی پی گروتھ کی جانب چلنا ہے۔ ہمیں روزگار کے مواقع بھی مہیا کرنے ہیں۔ جی ڈی پی گروتھ کو بھی بڑھانا ہے اور اس کیلئے ہمیں مشکل اقدامات کرنا ہوں گے جیسے زراعت میں لئے ہیں ۔ اسی طرح ایک بہت بڑا فیصلہ لیا جا رہا ہے کہ 2000 سے زائد مشینری کی مصنوعات جن پر پانچ فیصد کسٹم ڈیوٹی ہے، کو کم کر کے 3 فیصد کیا جا رہا ہے جس سے صنعتی شعبے کو 18 ارب روپے کا فائدہ ہو گا۔

بیڈ وائر پر ریگولیٹری ڈیوٹی
ٹائر بنانے والی صنعت میں استعمال ہونے والی بیڈ وائر پر اس وقت 10 فیصد کسٹم ڈیوٹی اور 30 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہے۔ چونکہ بیڈ وائر مقامی طورپر تیار نہیں ہوتی اس لئے مقامی صنعت کے مطالبے پر اس وقت عائد ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کئے جانے کی تجویز ہے۔

کارٹریج انڈسٹری ٹرن اوور کی حد میں اضافہ

کارٹریج انڈسٹری جس کی ٹرن اوور کی اس وقت حد 50 لاکھ ہے اور جو کہ سیلز ٹیکس کی ادائیگی سے مستثنیٰ ہے اس حد کو 50 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کرنے کی تجویز ہے

اہم خال مال پر کسٹم ڈیوٹی کی رعایت
مختلف قسم کے صنعتی خام مال پر مختلف کسٹم ڈیوٹی عائد کرنے کے حوالے سے تجاویز موجود ہیں جن کی ایک لمبی فہرست ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں