پنجاب کا 1681 ارب سے زائد کا بجٹ پیش

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پنجاب حکومت نے مالی سال 2016-17ءکیلئے 1681 ارب 41 کروڑ روپے حجم کا بجٹ پیش ئکر دیا ہے جس میں کل محاصل کا تخمینہ 1319 ارب روپے لگایا گیا ہے جس میں 1039 ارب روپے وفاق سے این ایف سی ایوارڈ کی صورت میں ملیں گے جبکہ صوبائی ریونیو میں 280 ارب روپے کے محاصل متوقع ہیں جن میں ٹیکسوں کی مدد میں 184 ارب 40 کروڑ اور نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 95 ارب 61 کروڑ روپے شامل ہیں۔ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافہ اور مزدور کی کم از کم اجرت 14000 روپے مقرر کی گئی۔ آئندہ مالی سال میں یوریا کھاد کی قیمت میں 400 روپے فی بوری اور ڈی اے پی کھاد میں 300 روپے فی بوری کمی کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
پنجاب کی وزیر خزانہ عائشہ غوث پاشا نے پنجاب اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران بتایا کہ مالی سال 2016-17ءکیلئے ترقیاتی بجٹ کا حجم 550 ارب روپے ہے ۔ یہ ترقیاتی پروگرام صوبے میں ماضی کے تمام ترقیاتی پروگراموں سے کہیں بڑھ کر ہے اور رواں مالی سال کے 400 ارب کے پروگرام کی نسبت 23.5 فیصد زیادہ ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں روزگار کے پانچ لاکھ نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ آئندہ مالی سال کے جاری اخراجات کا کل تخمینہ 849 ارب 94 کروڑ روپے ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تعلیم، صحت، صاف پانی کی فراہمی، وویمن ڈویلپمنٹ اور سماجی تحفظ جیسے شعبوں کیلئے مجموعی طور پر 168 ارب روپے 87 کروڑ روپے کی ترقیاتی رقم مختص کی گئی ہے جو آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ کا 31 فیصد ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کے مشن پڑھو پنجاب، بڑھو پنجاب کے ذریعے تعلیم کے شعبے میں انقلابی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ اس کا مقصد معیار تعلیم کی بہتری، سکولوں میں عالمی معیار کے مطابق تدریسی ماحول، معیاری کتب کی فراہمی اور 100 فیصد بچوں کا سکولوں میں داخلہ یقینی بنایا جائے گا۔ سکولوں میں آئی ٹی لیب کا قیام اور ذہین طلباءکیلئے میرٹ سکالر شپ بھی اسی پروگرام کا حصہ ہیں۔ ان ٹھوس اور دوررس مثبت نتائج کا اعتراف آزاد ذرائع نے بھی کیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت پر سکول ایجوکیش کے شعبے کیلئے مختلف نوعیت کے ترقیاتی منصوبوں پر 56 ارب 74 کروڑ روپے کی رقم صرف کی جائے گی جو کہ رواں مالی سال کے ترقیاتی پروگرام کے مقابلے میں 71 فیصد زیادہ ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں صوبائی سطح پر جاری اخراجات کی مد میں 31 ارب روپے کی قم مختص کی جا رہی ہے جو رواں مالی سال کی نسبت 47 فیصد زائد ہے۔
ضلعی سطح پر سکول ایجوکیشن کے شعبے کیلئے مجموعی طور پر 169 ارب روپے کی رقم صرف کی جائے گی۔ اسی طرح آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 256 ارب روپے کی خطیر رقم خرچ کی جائے گی۔ حکومت پنجاب نے سال رواں میں سکولوں میں 6 ہزار 511 منصوبوں کے ذریعے پانچ ارب روپے کی لاگت سے بنیادی سہولیات فراہم کیں اور آٹھ ارب پچاس کروڑ روپے کی لاگت سے دو ہزار 664 سکولوں کی مخدوش عمارات کی بحالی کا کام مکمل کیا۔ اس مسئلے کی اہمیت کے پیش نظر حکومت پنجاب کی طرف سے 50 ارب روپے کی لاگت سے جامع اور مربوط پروگرام کے آغاز کا اعلان کیا جا رہا ہے جس کے تحت آئندہ دو برسوں میں صوبے بھر کے تمام سکولوں کی مخدوش عمارت کی بحالی اور پرائمری سکولوں کی 36000 نئے کلاس روومز کی تعمیر و آرائش کی جائے گی۔ آئندہ مالی سال کے دوران اس منصوبے کے تحت 28 ارب روپے کی لاگت سے سکولوں میں 19 ہزار سے زائد اضافی کمرے اور تمام سکولوں میں سہولیات فراہم کی جائیں گی۔اس پروگرام میں برطانیہ کا ادارہ ڈی ایف آئی ڈی بھی ہم قدم ہے جس نے 36000 ہزار میں سے 11000نئے کلاس رومز کی تعمیر کا ذمہ لیا ہے جس کی کل لاگت تقریباً 17 ارب 60 کروڑ روپے ہے اور اس پروگرام پر تیزی سے عمل جاری ہے۔ چھوٹے بچوں کے تعلیمی ماحول کوبہتر بنانے کیلئے سکولوں کے دس ہزار کمروں کو ابتدائی تعلیم کے کمروں میں تبدیل کر رہی ہے۔ بچیوں کیلئے ماہانہ وظیفے کی رقم 200 روپے سے بڑھا کر 1000 روپے کر دی گئی ہے جس سے 4 لاکھ بچیاں مستفید ہوں گی۔
آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کسانوں کی مشکلات کو سمجھتے ہوئے 100 ارب روپے کی کاشتکار قرضہ سکیم متعارف کرائی جا رہی ہے جبکہ کھاد پر سبسڈی کیلئے 11 اربر وپے کی رقم مختص کی جا رہی ہے۔ آئندہ مالی سال میں یوریا کھاد پر 400 روپے فی بوری کمی کی جائے گی اور ڈی اے پی کی فی بوری 300 روپے کمی کا اعلان بھی کیا جا رہا ہے۔ کسانوں کی مشکلات کو کم کرنے کیلئے ٹیوب ویل کی فی یونٹ بجلی ساڑھے آٹھ سے کم کر کے 5.35 روپے فی یونٹ کرنے کا اعلان کیا جا رہا ہے جبکہ امن و امان کیلئے 145 ارب 46 کروڑ روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔ آئندہ مای سال میں تعلیم کیلئے مجموعی طور پر 312 ارب روپے، صحت کیلئے 150 ارب روپے، محکمہ پولیس کیلئے 100 ارب روپے، زراعت کیلئے 52.3 ارب روپے، لائیو سٹاک کیلئے 13.6 ارب روپے، سکولوں کی اپ گریڈیشن کیلئے 50 ارب روپے، توانائی کے شعبے کیلئے 9.1 ارب روپے، انڈسٹریز کیلئے 18.8 ارب روپے، لوکل گورنمنٹ کیلئے 286 ارب روپے، ٹرانسپورٹ کے شعبے کیلئے 92 ارب روپے، نوجوانوں کی فنی تعلیم کیلئے 3 ارب روپے اور صاف پانی کی فراہمی کیلئے 121 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جن کے استعمال سے 10 اضلاع کی 36 تحصیلوں کو صاف پانی فراہم کیا جائے گا۔ صحت کیلئے ترقیاتی بجٹ میں 43 فیصد اضافے سے 43 ارب روپے، سکول ایجوکیشن کیلئے مجموعی طور پر 256 ارب روپے اور چار لاکھ طالب علموں کو لیپ ٹاپ دینے کیلئے 4 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ اس امر کا اظہار ضروری سمجھتی ہوں کہ مسلم لیگ ن کی حکومت کا یہ بجٹ مالی اعداد و شمار کا مجموعہ یا روائتی دستاویز نہیں بلکہ یہ بجٹ اس جامع اور مربوط اکنامک گروتھ سٹریٹجی پر مبنی حکمت عملی کا جیتا جاگتا مظہر ہے جس میں خادم پنجاب کی قیادت میں صوبے کے عوام خصوصاً ایک عام آدمی کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے کیلئے پوری تندہی سے سرگرام عمل ہے۔ حکومت کی انہی کوششوں کے نتیجے میں گزشتہ برس کے دوران معیشت کے مختلف اشارے مثبت جانب بڑھے ہیں اور یہی وہ حکمت عملی ہے جس کے ثمرات عام کیلئے روزگار کے نئے مواقع، خدمات کے شعبے کی ترقی اور امن عامہ کی بہتری کی ضرورت میں بخوبی نظر آتے ہیں۔مجھے یقین ہے کہ آئندہ مالی سال کا ترقیاتی پروگرام نجی شعبے کی طرف سے وسیع تر سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔
اسی طرح تعلیم، صحت اور شہریوں کو ہنرمند بنانے کی تربیت کیلئے جانے والے اخراجات ہمارے نوجوانوں کو نجی شعبے میں روزگار کے حصول کے اہل بنانے میں مدد دیں گے۔پاکستان کیلئے عظیم دوست ملک چین کی طرف سے پاک چین اقتصادی راہداری پیکیج کا اعلان ایک تاریخی واقعہ ہے۔ پاکستان چین دوستی کے 65 سالوں کی تاریخ میں اقتصادی تعاون کی ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہ تاریخی پیکیج پاک چین دوستی کی علامات ہونے کے ساتھ چین کی طرف سے وزیراعظم پاکستان کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار بھی ہے۔ اس ضمن میں وزیراعلیٰ کی ان خدمات کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتی جو انہوں نے وزیراعظم کی ٹیم کے رکن کی حیثیت سے اس پیکیج کی تشکیل اور تکمیل میں سرانجام دئیے ہیں۔ اس پیکیج کے نتیجے میں ترتیب دیے جانے والے منصوبوں سے ملازمتوں میں سات لاکھ نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ پاکستان کی مجموعی جی ڈی پی میں 2.5 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ 46 ارب ڈالر کا یہ منصوبہ ، توانائی، موٹروے، بندرگاہوں، ریلویز اور صنعت جیسے شعبوں میں انقلاب کے ذریعے ملک کی تقدیر بدل دے گا ۔انفراسٹرکچر کے میگا پراجیکٹ اور بڑے ترقیاتی منصوبوں کی تعمیر پر وسائل کے ضیاع کے امکانات عالمی مسئلہ ہے۔ آپ کو اور اس ایوان کو یہ جان کر خوشی ہو گی کہ پنجاب میں ایسے منصوبوں کی تعمیر و تکمیل کی شفافیت اور بجٹ کی ایک منفرد روایت کو جنم دیتے ہوئے نئی تاریخ رقم کی گئی ہے۔
میں نہایت فخر کے ساتھ یہ اعلان کر رہی ہوں کہ اس ضمن میں وزیراعلی شہباز شریف کی ذاتی کاوشوں کے نتیجے میں پنجاب میں مختلف ترقیاتی شعبوں میں 142 ارب روپے کی ناقابل یقین بچت کی گئی ہے ۔ یہ وضاحت کرنا ضروری سمجھتی ہوں کہ اس رقم میں وہ بجٹ شامل نہیں جو پنجاب میں وفاقی حکومت کے تحت جاری میگا پراجیکٹس میں کی گئی۔ اس ایوان کے اراکین خصوصاً مخالفین سے درخواست کروں گی کہ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی ایسا ہوا تھا کہ ایسے پراجیکٹس میں سب سے کم بولی دینے والوں کو رضاکارانہ طور پر اربوں روپے کم کرانے پر رضامند کیا ہو۔ اس کا جواب یقینا نفی میں ہے۔ میں دیانتداری سے سمجھتی ہوں ،کہ اس جذبہ خدمات پر وزیراعلی کھلے دل کے ساتھ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔
گڈ گورننس اور شفافیت مسلم لیگ ن کی حکومت کا طرہ امتیاز ہے۔ میں اس ضمن میں لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کی مثال دینا چاہوں گی۔ حکومت کویہ امتیازی اعزاز حاصل ہے کہ وہ اس سسٹم کے ذریعے پٹوار کلچر کے فرسودہ نظام کو دفن کر کے عوام دوست منصوبہ متعارف کرانے میں کامیاب ہو چکی ہے اور اب تک 5 کروڑ پچاس لاکھ سے زائد مالکان اراضی کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کیا جا چکا ہے۔ ان سینٹرز سے ماہانہ دو لاکھ کے قریب کمپیوٹرائزڈ فردات اور ساٹھ ہزار سے زائد انتقلات کا اندراج ہو رہا ہے۔ اسی طرح حکومت نے عوام کو اشٹام پیپر کی خرید اور اس ضمن میں فراڈ سے بچانے کیلئے اس پورے نظام کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا آغاز گوجرانوالہ کے ایک پراجیکٹ کے ذریعے کیا جا چکا ہے اور آئندہ مالی سال تک اس کا دائرہ کار پورے پنجاب تک وسیع کر دیا جائے گا۔
حکومت پنجاب کی گڈ گورننس کی پالیسی کا ایک اور سنگ میل پنجاب کے تمام ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں ای خدمت مراکز کے قیام ہیں جن کے ذریعے شہروں میں 14 قسم کی مختلف سروسز ایک ہی چھت تلے میسر ہوں گی۔ لاہور میں ان مراکز نے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔ پولیس کے نظام میں بہتری اورتھانہ کلچر کا خاتمہ ہر پاکستانی کا دیرینہ خواب ہے اور میرا ایمان ہے کہ پنجاب میں تھانہ کلچر کو اسی طرح ختم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جس طرح ہم نے صدیوں پرانے پٹوار کلچر کا خاتمہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں