طورخم بارڈر پر اضافی فوجیوں کی تعیناتی کا امکان

پشاور : طورخم بارڈر پر افغان فورسز کی فائرنگ سے پاکستانی فوجی افسر کی منگل کو ہلاکت کے بعد دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا امکان ہے اور سرحد پر دونوں اطراف سے فوجی نفری کی تعداد میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پاکستانی سیکیورٹی حکام نے بتایا ہے کہ پاک فوج نے بھاری اسلحہ اور اضافی فوجیوں کو پیر کی شب افغان سرحد پر منتقل کیا ہے۔

پیر کو ایک افغان سرحدی پولیس کمانڈر نے بھی تصدیق کی تھی کہ افغانستان بھی سرحد پر اپنی جانب مزید فوجیوں کو تعینات کررہا ہے۔

سیکیورٹی حکام نے بتایا کہ آرمی چیف جنرل راحٰل شریف نے منگل کو میجر جواد علی چنگیزی کی نمازجنازہ میں شرکت کی جو افغان سرحد پر ہونے والی جھڑپ میں زخمی ہوگئے تھے اور زخموں کی تاب نہ لاکر ہسپتال میں دم توڑ گئے، جبکہ اس جھڑپ میں نو پاکستانی اور چھ افغان فوجی بھی زخمی ہوئے تھے۔

افغان حکام نے پیر کو بتایا تھا کہ اس جھڑپ میں ایک افغان فوجی بھی ہلاک ہوا تھا۔

افغانستان کے شہر جلال آباد میں منگل کو ہلاک ہونے والے افغان فوجی کی نماز جنازہ میں بڑی تعداد میں افراد نے شرکت کی جبکہ جنوبی افغانستان کے شہر لشکر گاہ میں ہونے والے ایک مظاہرے میں پاکستانی پرچموں کو نذر آتش کیا گیا اور مشتعل افراد نے پاکستان کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔

طورخم بارڈر پر موجود مرکزی دروازے مسلسل تیسرے روز بھی بند رہے اور سرحد کے دونوں اطراف ہزاروں افراد پھنسے رہے۔

پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان فائرنگ کا پہلا تبادلہ اتوار کو ہوا تھا جس کی وجہ پاکستانی علاقے میں ایک نئی سرحدی پوسٹ کی تعمیر تھی۔

پاکستان کا کہنا تھا کہ وہ عسکریت پسندوں کو سرحد عبور کرنے سے روکنے کے لیے گیٹ کو تعمیر کررہا ہے۔

افغان وزارت خارجہ کے مطابق افغانستان نے منگل کو پاکستانی سفیر کو طلب کرکے اس تشدد پر احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

اس سے قبل پاکستان نے بھی پیر کو افغان سفارتکار کو دفتر خارجہ میں طلب کرکے شدید احتجاج کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں