پاکستان کا جوہری پھیلاؤ روکنے کے عزم کا اعادہ

واشنگٹن: پاکستان نے کومپری ہینسیو نیوکلیئر ٹیسٹ بین ٹریٹی آرگنائزیشن (سی ٹی بی ٹی او) کو نیوکلیئر پھیلاؤ کو روکنے کی یقین دہانی کروادی ہے.

ڈان کو دستیاب دستاویز کے مطابق ویانا میں سی ٹی بی ٹی او کے اجلاس کے دوران نئے ممالک کو اس معاہدے میں شامل کرنے اور تنظیم کے مستقبل سمیت دیگر موضوعات زیر بحث آئے۔

خیال رہے کہ 1996 میں کئی ممالک نے نیوکلیئر پھیلاؤ کو روکنے کے معاہدے (سی ٹی بی ٹی) پر دستخط کیے تھے۔

اجلاس میں سی ٹی بی ٹی او نے جوہری ہتھیاروں کو محدود کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کے عزم کا اظہار کیا جبکہ ہندوستان اور شمالی کوریا نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔

اجلاس میں پاکستانی سفیر عائشہ ریاض نے عالمی برادری کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں نیوکلیئر ٹیسٹ کرنے والا پہلا ملک نہیں بنے گا اور وہ اپنے جوہری ہتھیاروں کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 2008 میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کا رکن بننے کا سنہری موقع گنوا دیا تھا، اگر پاکستان اُس وقت آئی اے ای اے کی رکنیت حاصل کرلیتا تو ہاکستان کا نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) میں شامل ہونا آسان ہوجاتا۔

واضح رہے کہ 2008 میں ہندوستان نے امریکا کی حمایت حاصل کرکے آئی اے ای اے کی رکنیت حاصل کی تھی اور اب بھی امریکا این پی ٹی ہر دستخط کیے بغیر ہندوستان کی این ایس جی میں شمولیت کی حمایت کررہا ہے۔

ہندوستان اور پاکستان این ایس جی گروپ میں شامل ہونا چاہتے ہیں لیکن دونوں نے اب تک جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) پر دستخط نہیں کیے ہیں جو اس گروپ میں شامل ہونے کی کڑی شرط ہے۔

پاکستانی سفیرعائشہ ریاض نے مطالبہ کیا کہ خطے میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کسی ایک ملک کے ساتھ امتیازی برتاؤ نہ کیا جائے، ان کا کہنا تھا کہ سی ٹی بی ٹی اس کرہ ارض پر جوہری ہتھیاروں کی تیاری پر سخت پابندی عائد کرتی ہے۔

1994 سے 1996 کے دوران ’انیکس ٹو‘ ممالک سمیت 44 ریاستوں کا سی ٹی بی ٹی معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے اجلاس بلایا گیا گیا تھا۔

’انیکس ٹو’ میں شامل 8 میں سے 5 ممالک امریکا، چین، مصر، ایران اور اسرائیل کو اس معاہدے کی توثیق کرنا باقی ہے جبکہ انیکس ٹو ریاستوں میں شامل بقیہ 3 ممالک شمالی کوریا، ہندوستان اور پاکستان نے ابھی تک سی ٹی بی ٹی معاہدے پر دستخط ہی نہیں کیے۔

معاہدے کے تحت انیکس ٹو ریاستوں کو 180 دن کے اندر اپنے تمام جوہری ہتھیاروں کو محدود کرنے کی توثیق کرنی ہوگی۔

اجلاس میں امریکی سیکرٹیری روز گوئٹے مولر نے صدر براک اوباما کا پیغام پڑھ کر سنایا۔

انہوں نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کے ٹیسٹ میں پابندی یا کسی بھی قسم کے ہتھیاروں کی تیاری پر پابندی عائد کرنے کے لیے کوششیں کرنا بامقصد اقدام ہے۔

اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہ امریکا نے خود بھی معاہدے کی توثیق نہیں کی، روز گوئٹے مولر کا کہنا تھا کہ امریکا اس معاہدے کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے سخت اقدامات کررہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں