آپریشن ضرب عضب میں 500 جوان شہید، ساڑھے 3ہزار دہشتگرد مارے گئے، قیام امن کیلئے بارڈر مینجمنٹ ضروری

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈائرکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کے آغاز سے 500 کے قریب جوان شہید جبکہ ساڑھے تین ہزار دہشتگرد مارے جاچکے ہیں اور اس آپریشن پر 7 ارب ڈالر کے قریب خرچہ ہوا ہے ۔ خطے میں امن کیلئے افغانستان کے ساتھ بارڈر مینجمنٹ بہت ضروری ہے اور اسی سلسلے میں پاکستان نے اپنی حدود میں طورخم پر گیٹ بنانے کا کام شروع کیا جس پر افغانیوں نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں پاک فوج کا ایک میجر شہید جبکہ ایک افسر سمیت 19 جوان زخمی ہوگئے ۔ ہمارے جوانوں نے بھرپور طریقے سے افغان فوج کو جواب دیا ہے ، ہم نہیں چاہتے کہ طورخم بارڈر پر کشیدگی میں اضافہ ہو۔ 2 سال تک جاری رہنے والے آپریشن ضرب عضب میں دہشتگردوں کا نیٹ ورک توڑدیا ہے ۔
آپریشن ضرب عضب کے 2 سال مکمل ہونے پر میڈیا کو آپریشن کی کامیابیوں کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے جنرل عاصم سلیم باجوہ نے بتایا کہ 15 جون 2014 کو آپریشن ضرب عضب کے آغازسے قبل پورے ملک میں دہشتگردی پھیل چکی تھی اور ہر روز ہی دھماکے ہورہے تھے جبکہ لوگوں کو اغوا کرکے جنوبی وزیرستان اور خیبر ایجنسی کے علاقہ غیر میں لے جایا جاتا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب طالبان برابری کے فریق بن کر ریاست پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کررہے تھے فیصلہ کیا گیا کہ ان کے خلاف ایک مکمل آپریشن کرکے انہیں نیست و نابود کردیا جائے گا۔ جنوری 2014 میں انہوں نے مذاکرات کا آغاز کیا اور مارچ میں ایک ماہ کیلئے سیز فائر کردیا 8 جون 2014 کو کراچی ایئرپورٹ پر حملہ ہوا جس کے بعد آپریشن ضرب عضب کا فیصلہ کیا گیا۔
آپریشن ضرب عضب میں پاک فوج کی قربانیوں کے حوالے سے انہوںنے بتایا کہ شمالی وزیر ستان نو گو ایریا تھا جہاں طالبان پھیل چکے تھے جب یہاں آپریشن کیا گیا تو یہاں سے نکل کر دہشتگرد خیبر ایجنسی کی طرف منتقل ہوگئے آپریشن شروع ہونے سے پہلے افغانستان کو سیاسی و ملٹری سطح پر واضح پیغام دیا کہ ہم آپریشن شروع کرنے جارہے ہیں لہٰذا آپ ہمارے ساتھ تعاون کریں لیکن افغانستان نے تعان نہیں کیا اگر انہوں نے تعاون کیا ہوتا تو بہت مثبت نتائج سامنے آتے۔ شمالی وزیرستان میں 3600 مربع کلومیٹر علاقہ کلیئر کرایا گیا۔خیبر ون اور خیبر ٹو شروع کیے گئے جن میں ڈیڑھ ڈویژن فوج نے حصہ لیا اور 2400 مربع کلومیٹر کا علاقہ دہشتگردوں سے خالی کرایا گیا ۔ اس دوران 900 دہشتگردوں کو مارا گیا اور لشکر اسلام کو اکھاڑ کر یہاں سے پھینکا جس میں 108 کے قریب جوان شہید ہوئے ۔جنوبی وزیرستان میں 4304 مربع کلومیٹر کا علاقہ کلیئر کرایاوادی شوال میں بہت سی قربانیاں دے کر لوگوں کی دہشتگردوں سے جان چھڑائی گئی یہ بارڈر کا علاقہ تھا جس کی وجہ سے بارڈر کے اس پار آمدورفت بہت زیادہ تھی۔ یہاں 992 سرنگیں تباہ کیں جبکہ 253 ٹن بارودی مواد ملا یہ اتنا بارودتھا کہ جس سے 15 سال تک آئی ای ڈیز بنائی جاسکتی تھیں۔ آپریشن کے دوران ساڑھے سات ہزار کے قریب آئی ای ڈیز فیکٹریاں تباہ کی گئیں جبکہ 2800 کے قریب مائنز تباہ کی گئیں اور مارٹر، راکٹ اور دیگر سامان 35310 سے زیادہ ریکور کیے ۔
جوانوں کی قربانیوں اور بے گھر ہونے والے افراد کے بارے میں جنرل باجوہ نے بتایا کہ آپریشن ضرب عضب کے آغاز سے 500 کے قریب جوان شہید جبکہ ساڑھے تین ہزار دہشتگرد مارے جاچکے ہیں اور اس آپریشن پر 7 ارب ڈالر کے قریب خرچہ ہوا ہے ۔فاٹا اور سوات میں ریاست کی رٹ مکمل قائم کرچکے ہیںفاٹا کو کلیئر کرکے بارڈر تک پہنچے ہیں۔آپریشن ضرب عضب کے ٹی ڈی پیز کی واپسی کا عمل زورو شور سے جاری ہے اور 61 فیصد لوگ واپس جاچکے ہیں۔ پاک فوج کے جوان سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر لوگوں کو بنیادی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ ان علاقوں میں صاف پانی ، ہسپتال، مساجد اور بازار، سکول، کیڈٹ کالجز بنائے جارہے ہیں جبکہ وزیرستان میں 705 کلومیٹر سڑکیں بن رہی ہیں اور سڑک بننے پر انٹرنیشنل موٹر ریلی نکالی جائے گی۔
جنرل باجوہ نے کراچی سمیت ملک بھر میں ہونے والے آپریشنز کے بارے مین بتایا کہ ملک بھر میں 19 ہزار سے زیادہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے جن کی وجہ سے دہشتگردوں کا نیٹ ورک ٹوٹ گیاہے ۔ کومبنگ آپریشن خیبر پختونخوا سے شروع کیے اور ان کا دائرہ کار بڑھارہے ہیں عوام کی طرف سے کومبنگ آپریشن میں بہت زیادہ تعاون حاصل ہورہا ہے۔ 27 دسمبر کو اقبال پارک لاہور می ہونے والے دھماکے کے بعد پنجاب میں 280 سے زائد آپریشن کیے جاچکے ہیں۔کراچی میں 1200 سے زیادہ دہشتگرد پکڑے اور مارے گئے ہیں ۔ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، دہشتگردی اور اغوا برائے تاوان کی چار اہم وارداتیں ہورہی تھیں جن میں ستمبر 2013 میں شروع کیے جانے والے آپریشن کے بعد بہت زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔
افغانستان کے ساتھ بارڈر کے تنازعہ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ افغانستان کے ساتھ ہمارا 2600 کلومیٹر بارڈر لگتا ہے اور اس میں سے ساڑھے 13 سو کلومیٹر کا بارڈر صرف کے پی کے کے ساتھ لگتا ہے جس میں سے صرف 8جگہوں پر باقاعدہ چیک پوسٹس قائم ہیں اس کے علاوہ سارے علاقے سے کوئی بھی آ سکتا اور جاسکتا ہے۔افغانستان سے انٹری سے لے کر اندر کی طرف پلاننگ کی گئی افغانستان کی سائیڈ پر ہمارے علاقے کے 37 میٹر اندر گیٹ کی تعمیر شروع کی گئی یہ تمام فیصلے سول اور فوجی قیادت مل کر کررہی ہے۔ 2004 میں طورخم پر گیٹ تھا لیکن طورخم ، جلال آباد سڑک بنانے کے لیے یہ ہٹایا گیا۔خطے میں امن لانے کیلئے بارڈر مینجمنٹ انتہائی ضروری ہے کیونکہ یہاں سے دہشتگرد پاکستان میں داخل ہو کرکارروائیاں کرتے ہیں۔
چارسدہ پر حملہ کرنے والے دہشتگرد طورخم بارڈر کے ذریعے پاکستان میں داخل ہوئے تھے ۔ بڈھا بیر حملے کے 14 کے 14 حملہ آور مارے گئے ۔ یہ تمام دہشتگرد افغانستان سے طورخم کے راستے پاکستان آئے اور ان کے سہولت کاروں نے تین گھر کرایے پر لے رکھے تھے جہاںانہیں تمام سہولیات دی گئیں ۔ بڈھا بیر حملے کے تمام سہولت کار خواہ انہوں نے رہائش فراہم کی ہو، ٹرانسپورٹ یا اسلحہ فراہم کیا ہو سب کے سب پکڑے جاچکے ہیں ۔
طورخم بارڈر پر افغانیوں نے فائرنگ کی اورہمارے جوانوں نے بھرپور طریقے سے جواب دیا۔ زمین پر موجود جوانوں کی ٹریننگ ہی ایسی ہوتی ہے کہ ان پر کہیں سے بھی حملہ ہوگا تو وہ فوری طور پر جواب دیتے ہیں اور طورخم پر ہمارے جوانوں نے جتنا بنتا تھا اتنا ہی بھر پور جواب دیا۔افغانستان کی فائرنگ سے ہمارے ایک میجر شہید ہوئے ہیں جبکہ ایک افسر سمیت 19 جوان زخمی ہوئے ہیں۔
افغان اور بھارتی خفیہ ایجنسی کی کارروائیوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ این ڈی ایس کے لوگ پکڑے گئے ہیں جن کے نام دو فائلوں میں ہیں اور یہ لوگ طورخم کے ذریعے خیبر پختونخوا میں داخل ہوکر دہشتگردی کررہے تھے۔دوسری جنگ عظیم کے بعد پوری دنیا میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ کسی انٹیلی جنس ایجنسی کا حاضر سروس افسر کسی دوسرے ملک میں پورا نیٹ ورک چلانے کیلئے موجود تھا۔ این ڈی ایس اور ”را“ مل کر پاکستان میں مداخلت کررہے ہیں ۔اقتصادی راہداری کیلئے پاک فوج مکمل سکیورٹی دے گی اور کسی دہشتگرد یا ایجنسی کو اجازت نہیں دے گی کہ اس منصوبے کو سبوتاژ کرسکے۔موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی نے عہدہ سنبھالتے ہی افغان صدر سے ملاقات کی اور اس کے بعد آکر اپنا دفتر سنبھالا۔ آئی ایس آئی اور این ڈی ایس کا آپریشن ضرب عضب کے بہتر نتائج کے حصول میں آپس میں تعاون بہت ضروری ہے ۔آرمی چیف 6 دفعہ کابل میں جا کر افغان صدر سے مل چکے ہیں ۔ چار ملکی گروہ افغان امن عمل کو آگے لے کر جارہے تھے لیکن یہ صرف پاکستان کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ سب نے ہی اس کو اپنے اثرورسوخ کے حساب سے آگے لے کر چلنا ہے۔
ڈرون حملوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان کیلئے ڈرون حملے ناقابل برداشت ہیں ۔ پہلی دفعہ اس قسم کا ڈرون حملہ ہوا اور اس پر پاکستان نے باقاعدہ طور پر اور کھلے لفظوں میں امریکہ کو پیغام دیا کہ ڈرون حملے ناقابل برداشت ہیں اور اس سے دونوں ملکوں کے تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔ ڈرون حملے میں پاکستان کی خود مختاری پر حملہ کرتے ہوئے ملا اختر منصور کو نشانہ بنایا گیا ۔ اس ڈرون حملے میں پاکستان کی کسی قسم کی رضامندی شامل نہیں تھی اور امریکہ نے اپنے طور پر یہ سب کارروائی کی ہے ۔
فوجی عدالتوں کی کارکردگی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے بتایا کہ اب تک فوجی عدالتوں سے 102 کیسوں کا فیصلہ سنایا جاچکا ہے اور ان میں سے 77 ملزمان کو سزائے موت دی جاچکی ہے جبکہ 12 مجرمان کی سزاوں پر عملدرآمد رکرتے ہوئے پھانسیاں دی جاچکی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں