خواجہ آصف کو 10 کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سینئر رہنما شیریں مزاری نے قومی اسمبلی میں اپنے لیے غیر شائستہ الفاظ کے استعمال پر وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کو 10 کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس بھجوانے کے ساتھ ساتھ معافی مانگنے کا مطالبہ کردیا۔

خواجہ آصف کو بھجوائے گئے قانونی نوٹس میں شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ وزیردفاع نے قومی اسمبلی میں ان کے خلاف جو الفاظ استعمال کیے اس سے ان کی ساکھ متاثر ہوئی۔

نوٹس میں شیریں مزاری کا مزید کہنا تھا کہ خواجہ آصف نے اُس وقت ان کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے، جب رمضان المبارک میں لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے بیان پر اپوزیشن اراکین نے احتجاج کیا۔

مزید کہا گیا کہ خواجہ آصف کے ریمارکس نہ صرف ٹی وی پر لائیو نشر کیے گئے بلکہ ہر چینل اور اخبار کی خبروں کی زینت بھی بنے۔

نوٹس میں کہا گیا کہ خواجہ آصف کی جانب سے دیئے گئے ریمارکس نہ صرف امتیازی تھے بلکہ ان میں خاص طور پر شیریں مزاری کو نشانہ بنایا گیا، جو ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی ایک کوشش ہے۔

یاد رہے کہ رواں ماہ 9 جون کو قومی اسمبلی میں اُس وقت ہنگامہ برپا ہوگیا تھا جب خواجہ آصف کے ملک میں لوڈشیڈنگ ختم ہونے کے بیان پر اپوزیشن اراکین نے نعرے بازی شروع کردی اور ’نو، نو‘ کے نعرے لگائے۔

حکومت اور اپوزیشن اراکین کی اسی گرما گرمی کے دوران خواجہ آصف نے اپوزیشن بنچوں سے سب سے اونچی آواز میں نعرے لگانے والی شیریں مزاری کو ’ٹریکٹر ٹرالی‘ کہتے ہوئے اسپیکر اسمبلی سردار ایاز صادق سے کہا کہ ’انہیں چپ کرائیں‘۔

اس واقعے کے بعد خواجہ آصف کو مختلف سیاسی رہنماؤں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا جبکہ شیریں مزاری کا اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہنا تھا کہ اگر خواجہ آصف میں ’شرم و حیا‘ ہوتی تو ان کو معلوم ہوتا کہ کسی خاتون سے کس طرح پیش آتے ہیں، لیکن وہ بے شرم اور بے حیا ہیں، جبکہ اتفاق سے میری آواز بھی ان سے بلند ہے۔

جس کے بعد خواجہ آصف نے پہلے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو تحریری معافی نامہ بھجوایا اوربعدازاں ایوان میں شیریں مزاری کا نام لیے بغیر باقاعدہ معافی مانگتے ہوئے کہا کہ انھوں نے جو کچھ کہا وہ اس پر معافی مانگتے ہیں اور انھیں امید ہے کہ ان کے جذبات کو قبول کیاجائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ بغیر کسی سیاسی دباؤ کے اپنے طور پر غیر مشروط معافی مانگ رہے ہیں، ساتھ ہی خواجہ آصف نے کہا کہ وہ شکر گزار ہوں گے اگر یہ معاملہ یہیں ختم کردیا جائے۔

تاہم شیریں مزاری نے خواجہ آصف کی باقاعدہ معافی کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں ان کا نام لے کر طنز کیا گیا اور جملے کسے گئے، لہذا مناسب یہی تھا کہ ان کا نام لے کر معافی مانگی جاتی۔

جس پر خواجہ آصف نے کہا کہ گذشتہ روز اسمبلی کارروائی کے دوران اگر میں نے کسی کا نام لیا ہو تو میں سو دفعہ معافی مانگنے کو تیار ہوں۔

خواجہ آصف کی جانب سے شیریں مزاری کا نام لیے بغیر معافی مانگنے پر اپوزیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کیا تھا جبکہ بہت سے اراکین نے بھی وزیر دفاع کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں